094- شہر دل کے دروازے از شازیہ چودھری

شہر دل کے دروازے از شازیہ چودھری

Shaher_e_dil_k_darwazeمصنفہ: شازیہ چودھری

صنف: ناول، اردو ادب، پاکستانی ادب

صفحات: 479

قیمت: 500 روپے

ناشر: مکتبہ عمران ڈائجسٹ، کراچی

کتابستان کا آج کا موضوع شازیہ چودھری صاحبہ کا تحریر کردہ ناول ہے۔ شازیہ چودھری صاحبہ کا بہت کم عمری میں انتقال ہو گیا، ہم ان کی مغفرت کے لئے دعا گو ہیں، یہی وجہ ہے کہ آپ کی زیادہ تحاریر موجود نہیں ہیں۔ شازیہ چودھری صاحبہ نے یہ ناول ایک ڈائجسٹ کے لئے لکھا تھا جس نے بےپناہ مقبولیت حاصل کی تھی، بعد ازاں اس ناول کو کتابی شکل میں بھی پیش کیا گیا ہے، ناول اخباری کاغذ پہ شائع کیا گیا ہے، جس کی وجہ سے اس کی قیمت زیادہ محسوس ہوتی ہے۔

شہرِ دل کے دروازے ایک مصورہ کی کہانی ہے جسے ارشین بخاری کے نام سے جانا جاتا تھا۔ ارشین اپنے گھریلو حالات کی وجہ سے ایک کالج میں پڑھاتی تھی اور بقیہ وقت میں اپنے اسٹوڈیو میں لوگوں کی تصویریں بنایا کرتی تھی۔ اس کے والد بیماری کا شکار تھے اور گھریلو اخراجات اب ارشین کے دم سے ہی چل رہے تھے۔ ارشین کے والدین کی آپس میں کبھی نہ بن سکی تھی۔ ان کے رویے نے حساس دل ارشین کو وقت سے پہلے بڑا اور میچیور کر دیا تھا۔ وہ اپنے گھریلو حالات کی وجہ سے گھٹن کا شکار تھی لیکن پھر بھی حالات سے جدوجہد میں مصروف تھی۔ ایسے میں پروفیسر دانیال مہدی اس کی طرف متوجہ ہوئے اور بڑی مہارت سے اسے اپنی طرف راغب کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ ارشین جہاں پروفیسر دانیال کے ساتھ اپنے مسائل ایک دوست اور ہمدرد سمجھ کے بیان کرتی تھی وہیں پروفیسر دانیال اس سے الگ ہی توقعات وابستہ کئے ہوئے تھے۔ وہ پہلے سے شادی شدہ تھے اور ایک بچی کے باپ تھے۔ تاہم خواتین کے معاملے میں وہ دل پھینک ہی ثابت ہوئے تھے۔ ارشین پہ جب معاملے کی حقیقت کھلی تو اس نے پروفیسر صاحب کو نظر انداز کرنا شروع کر دیا۔ یہ رویہ ان کے لئے ناقابل قبول تھا اور وہ ارشین کو تباہ کرنے پہ تل گئے۔ ارشین کو اپنے گھر والوں کی حمایت تو پہلے ہی حاصل نہیں تھی، ایسے میں دانیال صاحب کے روئے کی وجہ سے وہ بری طرح پھنس گئی۔ ایسے میں اس نے پروفیسر دانیال کی بیوی سے مدد مانگی، جس نے اس کی شادی اپنے ایک ایس پی کزن مہران سے کر دی۔ مہران ارشین کے کردار کے بارے میں مشکوک تھا۔ اس کا خیال تھا کہ اس نے پروفیسر مہدی کو اپنی طرف راغب کیا تھا۔ چنانچہ وہ ارشین کو شہر مین رکھنے کے بجائے ایک گاؤں میں لے آیا جہاں زندگی کی کوئی سہولت میسر نہ تھی۔ اس نے ارشین پہ جتا دیا تھا کہ وہ اس سے کوئی توقع نہ رکھے اور اپنی زندگی اسے خود ہی بنانی ہوگی۔ ارشین اس مشکل صورتحال سے کیسے نکلی، آیا مہران کا دل اس کی طرف نرم ہوا یا نہیں، اور پروفیسر دانیال کا کیا انجام ہوا؟ یہ سب جاننے کے لئے تو ناول ہی پڑھنا پڑھے گا۔

اس ناول میں مصنفہ نے ہمارے معاشرے کے کئی پہلوؤں کی تصویر کشی کی ہے۔ جیسے بےجوڑ شادیاں۔۔۔ اس کی مثال ارشین کے ماں باپ کی صورت میں سامنے آئی، جنہوں نے ناصرف زندگی بھر ایک دوسرے کو قبول نہ کیا بلکہ اپنی اولاد کو بھی تحفظ دینے میں ناکام رہے۔ ناول میں ملازمت پیشہ خواتین کی مشکلات کا ذکر ہے، مردوں کی ہٹ دھرمی اور غرور کا ذکر ہے، جو اپنے زعم میں خود کو خدا سمجھ لیتے ہیں اور سامنے والے شخص کو انسان سمجھنے سے بھی انکار کر دیتے ہیں۔ ناول میں فینٹیسی کا عنصر بھی موجود ہے جو ڈائجسٹی ناولوں کا ایک اہم حصہ ہے۔ کہانی کے انجام میں مصنفہ نے کرداروں کے ساتھ بھر پور انصاف کیا ہے اور اپنی سوچ کی پختگی کا ثبوت دیا ہے۔

 کیا آپ اس تبصرے سے متفق ہیں۔آپ بھی اس کتاب کے بارے میں اپنی رائے دیں۔

اگر آپ نے یہ کتاب پڑھی ہے تو اسے 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹ کریں۔

تشریف آوری کے لئے مشکور ہوں۔

اگلے ہفتے سڈنی شیلڈن کی کتاب “ٹیل می یور ڈریمز * ” کا تعارف و تبصرہ ملاحظہ کیجئے۔ان شاء اللہ۔

* Tell me your dreams by Sidney Seheldon

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s