093- عام الفیل از لیلیٰ ابو زید

عام الفیل از لیلیٰ ابو زید

Year of the elephant by Laila Abouzeid

Ababeel by Laila Abu Zaidنام ترجمہ: ابابیل

مصنفہ: لیلیٰ ابو زید

مترجم: عارفہ سیدہ زہرہ

صنف: ناول، مراکشی ادب، عربی ادب

صفحات: 101

ناشر: مشعل، عثمان بلاک، نیو گارڈن ٹاؤن لاہور 54600، پاکستان

کتابستان میں ہماری کوشش ہے کہ ہم تبصرے اور تعارف کو پاکستانی مصنفین کی لکھی ہوئی کتب اور تصانیف کی حد تک محدود نہ رکھیں بلکہ دنیا بھر کے مختلف گوشوں سے تعلق رکھنے والے مصنفین کے کام سے آپ کو متعارف کرایا جائے۔ اسی کاوش کے ضمن میں گزشتہ صفحات پہ کئی غیر ملکی مصنفین کے کاموں کی تفصیلات موجود ہیں جن میں انگریزی، امریکی، برازیلی، روسی، ترک، افغان ادب سے کچھ انتخابات کو پیش کیا گیا ہے۔ اسی سلسلے کو آج ایک قدم اور اگے بڑھا رہے ہیں۔ آج ہم جس کتاب کے بارے میں بات کرنے جا رہے ہیں وہ ایک مراکشی ادیبہ کی لکھی ہوئی ہے۔ کتاب کا عنوان ہے “عام الفیل” اور یہ سن 1980 میں عربی ذبان میں تحریر کی گئی تھی۔ 1989 میں اس کا ترجمہ انگریزی زبان میں ہوا اور کچھ سال پہلے اس کا اردو ترجمہ محترمہ عارفہ سیدہ زہرہ کے توسط سے اردو زبان کے قارئین تک پہنچا ہے۔

اس ناول کی مصنفہ لیلیٰ ابو زید صاحبہ ہیں۔ جو عربی، فرانسیسی اور انگریزی زبان میں مہارت رکھتی ہیں۔ تاہم اپنے پیغام کو دنیا تک پہنچانے کے لئے عربی زبان کا استعمال کیا ہے۔ ناول نگاری کے ساتھ ساتھ آپ نے ریڈیو اور ٹیلی ویژن پہ پرگراموں کی میزبانی بھی کی ہے۔ آپ کے اس ناول کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ یہ کسی بھی مراکشی مصنف کا لکھا ہوا پہلا ناول ہے جو انگریزی زبان میں ترجمہ کیا گیا اور پوری دنیا تک اس کا پیغام پہنچا۔

اس ناول کا عنوان ایک تاریخی واقعے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ ناول کا عربی نام “عام الفیل” ہے یعنی ہاتھی کا سال۔ ہمارے اکثر قارئین اس واقعے سے یقیناً واقف ہوں گے جو حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش سے قبل پیش آیا تھا جب ابرہہ نے اپنے ہاتھیوں کی طاقت پہ غرور کرتے ہوئے مکہ پہ چڑھائی کر دی تھی۔ اس چڑھائی کے جواب میں اللہ تعالیٰ کی قدرت سے ابابیل جیسے چھوٹے پرندے منہ میں کنکریاں اٹھائے آئے اور انہوں نے ابرہہ کے لشکر کو تاراج کر دیا۔ ناول کے عنوان کے لئے مصنفہ کے اس عنوان کے انتخاب کی وجہ یہ ہے کہ وہ مراکشی آزادی کی جدوجہد کو کمزور اور عام لوگوں کی کاوش کا نتیجہ قرار دیتی ہیں۔

“ابابیل” ایک مراکشی عورت کے سفر کی داستان ہے۔ ناول کی مرکزی کردار ایک ایسی مراکشی عورت ہے جسے اس کے شوہر نے طلاق دے دی ہے اور وہ اب اپنے آبائی شہر واپش لوٹ آئی ہے۔ شادی کے کئی سالوں کے بعد اب اس علاقے میں اس کا جاننے والا کوئی نہیں بچا ہے اور وہ تنہا، بےیار و مددگار ہے۔ ایک حساس قاری ناول کا آغاز ہوتے ہی اس عورت کی بےبسی اور مشکل کا اندازہ کر لیتا ہے اور اس سے ہمدردی محسوس کرتا ہے۔ ناول کی کہانی اس عورت کی یادداشتوں کی صورت میں آگے بڑھتی ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مراکشی کی آزادی کی تحریک میں کس طرح اس نے بڑھ چڑھ کے حصہ لیا اور ہر معاملے میں اپنے شوہر کی مددگار رہی جو تحریک آزادی کا ایک اہم رکن تھا۔ مراکش کو تو فرانسیسی قبضے سے نجات مل گئی تاہم اس عورت کی زندگی میں بہتری نہ آ سکی۔ اس کے شوہر کو اعلیٰ عہدہ مل گیا جس کے نتیجے میں اس کی زندگی میں نئی رونقیں اور دلچسپیاں آ گئیں اور اس نے اپنی پرانی بیوی کو چھوڑ کر نئی روشنیاں اپنا لیں۔ یہاں قاری اس عورت کے لئے ہمدردی محسوس کرتا ہے جس نے اپنی ساری زندگی ایک آدمی اور اس کے مقصد کی کامیابی کے لئے گزار دی اور جب اس کا مقصد اسے حاصل ہو گیا تو اس نے اس عورت کو چھوڑنے میں ایک لمحہ بھی نہیں لگایا۔

ناول کا حساسیت بھرا انداز ہی اسے ایک بین الاقوامی ناول بناتا ہے۔ ناول کئی سوال اٹھاتا ہے۔ یہ جہاں مراکش کی آزادی کی تحریک پہ روشنی ڈالتا ہے وہیں خواتین کی زندگی، ان کے مسائل اور ان کی بےوقعتی کی بھی ایک جھلک دکھاتا ہے۔ مصنفہ کا انداز تلخی بھرا نہیں ہے بلکہ ایک تصویر کو پینٹ کرنے کا انداز ہے۔ وہ یہ قاری پہ چھوڑ دیتی ہیں کہ ان کی تصویر کے کس رنگ کو قاری زیادہ شدت سے محسوس کرتا ہے۔

بین الاقوامی ادب کے شائقین کے لئے یہ ناول یقیناً دلچسپی کا حامل ہوگا۔

کیا آپ اس تبصرے سے متفق ہیں۔آپ بھی اس کتاب کے بارے میں اپنی رائے دیں۔

اگر آپ نے یہ کتاب پڑھی ہے تو اسے 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹ کریں۔

تشریف آوری کے لئے مشکور ہوں۔

اگلے ہفتے شازیہ چودھری کی کتاب “شہر دل کے دروازے ” کا تعارف و تبصرہ ملاحظہ کیجئے۔ان شاء اللہ۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s