092- علٰمٰت از پروفیسر احمد رفیق اختر

علٰمٰت از پروفیسر احمد رفیق اختر

Alamatمصنف: احمد رفیق اختر

صفحات: 287

قیمت: 400 روپے

سن اشاعت: 2010

ناشر: سنگ میل پبلی کیشنز، لاہور ISBN: 969-35-1965-5

پروفیسر احمد رفیق اختر کی کتب پہ پہلے بھی بات ہو چکی ہے۔ پروفیسر صاحب کا تعارف بھی پیش کیا جا چکا ہے۔ آپ کی سوچ اور وہ نقطہ نظر جو آپ کے فلسفے اور پیغامات کے پیچھے ہے اس پہ بھی ہم کتابستان میں بات کر چکے ہیں۔ پروفیسر صاحب موجودہ دور کے عالم ہیں جو جدید ذہن میں مذہب سے متعلق اٹھنے والے سوالات اور کنفیوژن کے جواب دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ پروفیسر صاحب کی زیادہ تر کتب ان کی تقاریروں کے متن پہ مشتمل ہیں جو ان کے مصاحبوں کی کاوشوں کی وجہ سے شائع کی گئی ہیں۔ کتابستان کا آج کا موضوع بھی ایسی ہی ایک کتاب ہے۔ کتاب کا عنوان ہے علٰمٰت۔ یہ کتاب کلثوم اسمٰعیل صاحبہ کی مرتب کردہ ہے اور اس کا پیش لفظ بھی انہی کا تحریر کردہ ہے۔ کتاب کو اللہ تعالیٰ کے لئے منسوب کیا گیا ہے جس کی یاد سے دل سکون پاتے ہیں۔

“علٰمٰت” سے مراد وہ نشانیاں یا رستے ہیں جو انسان کو اس کی حقیقی منزل یعنی اللہ تعالیٰ تک لے کے جاتے ہیں۔ موجودہ دور کی سائنسی ترقی سے ہر ایک کی آنکھیں چندھیا گئی ہیں۔ جدید زمانے کاری گری کے باعث اصل راستہ دھول اور دھند میں گم ہو چکا ہے۔ ایسے میں انسانی روح ایک الجھن کا شکار ہے کہ وہ اصل رستہ کون سا ہے جو اسے اس کی منزل تک لے کے جائے گا۔ کلثوم اسمٰعیل صاحبہ کے نزدیک پروفیسر صاحب کو اللہ تعالیٰ نے وہ فہم و فراست عطا کیا ہے جو انہیں لوگوں کی سمت درست کرنے میں مددگار ہے۔

کتاب میں کل پانچ بنیادی ابواب ہیں جو پروفیسر صاحب کے پانچ لیکچرز پہ مبنی ہیں۔ ہر باب کے اختتام پہ اس سیشن میں ہونے والے سوال جواب بھی پیش کئے گئے ہیں۔ ان ابواب کے عنوانات ہیں: نظریہ زندگی بعد از موت؛ اسلام اور تقابل نظریات؛ اسلام اور نظریہ اعتدال؛ بلاعنوان؛ اور مذہب قدر منتخب۔

پہلے باب کا موضوع انسان کے مرنے کے بعد کی زندگی ہے۔ یہ ایک مابعد الطبیعاتی موضوع ہے۔ موجودہ دور میں سائنس اس بات کو جاننے کی بھرپور کوشش کر رہی ہے کہ کسی طرح انسان کے مرنے کے بعد کا احوال جان سکے۔ اس سلسلے میں قرب الموت مریضوں اور افراد کے مشاہدات مرتب کئے گئے ہیں۔ تاہم مذہب ان تمام سروے کے بغیر ہی آگے پیش آنے والے حالات کی تصویر پیش کرتا ہے۔ پروفیسر صاحب نے مذہبی خیالات اور سائنسی رجحانات کو ایک پلیٹ فارم پہ پیش کیا ہے اور ان کی آپس کی ہم آہنگی بیان کی ہے۔

اسلام اور تقابل نظریات میں، انسانی تاریخ میں پیش کردہ مختلف انسانی اور مذہبی نظریات اور ان کے ارتقا پہ بحث کی گئی ہے۔ یونانی، مسلمان فلسفیوں کی سوچ اور نظریات پہ بات کی گئی ہے۔ اسی طرح باقی ابواب بھی اپنے عنوانات کی تشریح ہیں جو کہ پڑھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔

ایک ایسا ذہن جو مذہب اور جدید دور کی ترقی کو ساتھ لے کے چلنا چاہتا ہے اس کے لئے پروفیسر صاحب کی کتب میں دلچسپی کا کافی مواد موجود ہے۔

کیا آپ اس تبصرے سے متفق ہیں۔آپ بھی اس کتاب کے بارے میں اپنی رائے دیں۔

اگر آپ نے یہ کتاب پڑھی ہے تو اسے 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹ کریں۔

تشریف آوری کے لئے مشکور ہوں۔

اگلے ہفتے لیلیٰ ابو زید کی کتاب “عام الفیل” کا تعارف و تبصرہ ملاحظہ کیجئے۔ان شاء اللہ۔

***************

پروفیسر احمد رفیق اختر کے قلم سے مزید

بنیادی انحراف از پروفیسر احمد رفیق اختر

کشتِ زربار از پروفیسر احمد رفیق اختر

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s