090- بنت فرعون از محمد یعقوب خان

بنت فرعون از محمد یعقوب خان

Bint-e-Firaunمصنف: محمد یعقوب خان

صنف: ناول، تاریخی ناول، اردو ادب

صفحات:223

سن اشاعت: 2008

بنتِ فرعون کے ذریعے محمد یعقوب خان سے یہ ہمارا پہلا تعارف ہے تاہم آپ کئی میگزین اور ڈائجسٹوں کے لئے لکھ چکے ہیں۔ آپ کی تمام کہانیوں میں سے بنت فرعون کو زیادہ مقبولیت حاصل ہوئی ہے۔ بنتِ فرعون ایک ناول ہے۔ اس کے عنوان سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ قدیم مصری تاریخی ناول ہوگا لیکن ایسا نہیں ہے۔ ناول کی سیٹنگ گرچہ مصر کی ہی ہے لیکن اس میں قدیم مصری زمانہ نہیں دکھایا گیا ہے بلکہ گزشتہ صدی کے اول نصف حصے کا زکر ہے جب مصر میں کھدائیوں اور آثاراتِ قدائم کی تلاش کا سلسلہ زوروں پہ تھا۔ اسی سلسلے کی وجہ سے غیر ملکی ماہرین اور سیاح مصر کے ریگستانوں کا رخ کرتے تھے۔

بنتِ فرعون ایک سسپنس ناول ہے جس کا مرکزی کردار ایک ایسی لڑکی ہے جسے اس کی مصری آثارِ قدیمہ میں مہارت کی وجہ سے ماہرین کے حلقے میں بنتِ فرعون کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اس کا اصلی نام ریحانہ یا مارجوری ہے۔ بنت فرعون نے مصریات میں کوئی باقاعدہ تعلیم حاصل نہیں کی ہے لیکن اس کے والد علوم مصریات کے ماہر تھے اور خود بنتِ فرعون کی بھی اس بارے میں دلچسپی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ وہ معلومات کے معاملے میں بڑے بڑے ماہرین سے آگے تھے۔ تاہم بنتِ فرعون کی قدیم مصری زبان اور علوم میں مہارت کے باوجود یہ ناول کا بنیادی موضوع قدیم مصری زندگی اور اس کی پردہ کشائی نہیں ہے۔ یہ ناول مارجوری عرف بنتِ فرعون کی ذاتی زندگی کی مشکلات کی کہانی ہے۔

مارجوری کے والد نے اس کے لئے بےپناہ دولت چھوڑی تھی لیکن وہ دنیا میں بالکل تنہا تھی۔ اس کا کوئی دوست نہیں تھا، کوئی ہمدرد، رشتہ دار نہیں تھا۔ وہ اپنی ایک خادمہ کو لے کے سیاحت پہ نکلی ہوئی تھی۔ مصر کی سیاحت کے دوران اس کی ملاقات سر ہنری قیطون اور اس کی بیوی سے ہوئی جو ان دنوں مالی مشکلات سے دوچار تھے۔ مارجوری نے ان کی بیوی کو اپنی شادی کی خریداری میں مدد کے لئے ملازمت کی آفر کی۔ معاوضہ اتنا پرکشش تھا کہ ان کی بیگم انکار نہ کر سکیں۔ اور یوں مارجوری اور سر ہنری کی بیگم مختلف مقامات پہ ساتھ ساتھ نظر آنے لگیں۔ تاہم کچھ ہی دنوں میں مسز ہینری کو اندازہ ہو گیا کہ مارجوری ایک پراسرار شخصیت کی مالک ہے، گرچہ کچھ عرصے بعد اس کی شادی ہونے والی ہے لیکن وہ اس کے ہونے والے شوہر کے نام سے بھی ناواقف تھیں اور مارجوری نے بھی اس معاملے پہ کوئی روشنی نہ ڈالی۔

ناول آگے بڑھنے پہ معلوم ہوتا ہے کہ مارجوری اپنی شادی سے خوش نہیں تھی۔ لیکن یہ ایک مجبوری تھی جو اسے ہر حال میں پوری کرنی تھی۔ ناول میں کچھ اور کردار بھی موجود ہیں جو اس کے سسپنس کو آگے بڑھانے میں مدد دیتے ہیں۔ مارجوری کے کردار اور اس کے شوہر کی مسٹری ناول کے آخر تک چلتی ہے اور بالکل اختتام پہ مصنف اس راز سے پردہ اٹھاتے ہیں کہ مارجوری کی شادی کسی سے ہو رہی تھی اور وہ کیوں ناخوش تھی۔ ناول کی کہانی مختلف پیچ و خم لے کے کس طرح آگے بڑھتی ہے اس کے لئے تو ناول ہی پڑھنا پڑے گا۔

بنتِ فرعون ایک سسپنس ناول ہے۔ مصنف نے سسپنس کے ساتھ بھر پور انصاف کیا ہے اور قاری پڑھنے کے دوران مسلسل مارجوری کی کہانی اور اس کے متوقع شوہر کے بارے میں اندازے لگاتا رہتا ہے۔ سسپنس کے شوقین قارئین یقیناً لطف اندوز ہوں گے۔

کیا آپ اس تبصرے سے متفق ہیں۔آپ بھی اس کتاب کے بارے میں اپنی رائے دیں۔

اگر آپ نے یہ کتاب پڑھی ہے تو اسے 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹ کریں۔

تشریف آوری کے لئے مشکور ہوں۔

اگلے ہفتے “جنگ سنڈے میگزین” کا تعارف و تبصرہ ملاحظہ کیجئے۔ان شاء اللہ۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s