089- She by Henry Rider Haggard

She by Henry Rider Haggard

She  by Rider Haggardمصنف: ہنری رائڈر ہیگرڈ

نام ترجمہ: پراسرار روح

صنف: ناول، انگریزی ادب

صفحات: 206

سر ہنری رائڈر ہیگرڈ ایک مشہور انگریز ناول نگاری تھے آپ کا زمانہ 1856 سے 1925 کے درمیان کا ہے۔ آپ نے مہم جوئی، تخیلاتی اور گم شدہ دنیاؤں کی تلاش کے موضوعات پہ کئی بہترین ناول لکھے ہیں۔ خصوصاً کمشدہ دنیاؤں کی تلاش کے موضوع کا آپ کو بانی قرار دیا جاتا ہے۔ آپ کے بعد کئی ناول نگاروں نے مہم جوئی اور گمشدہ دنیاؤں کے بارے میں قلم اٹھایا۔ کئی فلمیں بھی ان موضوعات پہ بنائی گئیں جن میں سے ایک سلسلہ انڈیانا جونز سیریز کا ہے جس میں بھی مہم جوئی اور قدیم دنیاؤں کی تلاش کو موضوع بنایا گیا ہے۔ ہنری رائڈر ہیگرڈ اپنے وقت کے ایک مشہور ناول نگار تھے آپ کے قلم سے کئی ناول نکلے جنہوں نے غیر معمولی مقبولیت حاصل کی۔ آپ کے کئی ناول اب سکولوں کے نصاب میں بھی شامل ہیں۔ اور کئی ناولوں کی کہانی کو بعد میں مزید آگے بھی بڑھایا گیا ہے۔ آپ کے ناولوں کے تراجم کئی زبانوں میں کئے جا چکے ہیں۔

کتابستان میں آج کا موضوع ہنری رائڈر ہیگرڈ کا ناول “شی” ہے جس کا اردو ترجمہ پراسرار روح کے نام سے کیا گیا ہے۔ یہ پراسرار روح ایک ملکہ کی ہے اور یہی ناول کا مرکزی کردار ہے جس کے گرد تمام کہانی گھومتی ہے۔ یہ ملکہ افریقہ کے ایک دور دراز جزیرے پہ رہتی ہے جو اطراف میں دلدلی زمین سے گھرا ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ علاقہ مہذب دنیا سے محفوظ رہا ہے۔ یہاں کے زہنے والے لوگ جنگلی اور اجڈ ہیں جو انسانی گوشت کے شوقین ہیں۔ یہ ملکہ جادو ٹونوں کی ماہر ہے اور لافانی ہے۔ یعنی یہ کبھی مر نہیں سکتی۔ یہی وجہ ہے کہ جنگلی قبائلی عورت کی حکمرانی قبول کرنے پہ مجبور ہیں۔ ملکہ کی حکومت کی وجہ سے قبائلی عورتوں کو خودمختاری حاصل تھی وہ اپنی پسند کے مرد سے شادی کر سکتی تھیں اور اس بات کو برا محسوس نہیں کیا جاتا تھا۔

ناول کی کہانی کیمبرج کے ایک پروفیسر ہولی کی زبانی پیش کی گئی ہے۔ ہولی اپنے ایک دوست کے بیٹے کا نگران تھا۔ اس کے دوست نے اپنے دوست کو کچھ ہدایات بھی دی تھیں۔ جن کی رو سے پچیس سال کی عمر کو پہنچنے پہ اس کے بیٹے لیو کو ایک صندوق ملنا تھا جس میں اس کے خاندان کی تاریخ لکھی گئی تھی۔ لیو کی پچیسویں سالگرہ پہ صندوق کھلنے کے بعد اس میں سے ایک خط برآمد ہوتا ہے جو صدیوں پہلے لیو کے خاندان کی ایک عورت نے لکھا تھا اور دراصل اسی عورت کی اولاد سے لیو کے خاندان کی بنیاد پڑی تھی۔ اس خط میں اس ملکہ کا ذکر تھا جس نے اس عورت کے شوہر کو ہلاک کر دیا تھا اور اس خط میں اس عورت نے اپنی اولاد کو پابند بنایا تھا کہ وہ افریقہ جا کے اس عورت سے بدلہ لیں۔ اس طرح یہ خط نسل در نسل چلتا ہوا لیو تک جا پہنچا۔ خط پڑھنے کے بعد لیو اس خط کی صداقت کو پرکھنے کے لئے افریقہ جانے کا فیصلہ کرتا ہے۔ پروفیسر ہولی اس سفر میں اس کا ساتھ دیتا ہے اور یہیں سے ایڈونچر کا سلسلہ شروع ہوتا ہے جس کی تفصیل جاننے کے لئے تو ناول ہی پڑھنا پڑے گا۔

ناول انیسویں صدی میں لکھا گیا ہے یعنی تقریباً ایک صدی پرانا ہے اس لئے اس کا ماحول اور خیالات بھی اسی زمانے کے حساب سے ہیں۔ ناول میں نسلی تفاوت کا بھی ذکر ہے۔ جس کے مطابق ملکہ سفید فام لوگوں کو زندہ رکھنے کا حکم دیتی ہے تاہم اس کے حکم میں سیاہ فام افراد کے بارے میں کوئی ہدایت نہیں ہوتی جس کی وجہ سے قبیلے کے لوگ اس کا گوشت کھانے کا پروگرام بنا لیتے ہیں۔ ملکہ کی عمر دو ہزار سال تھی جس کی وجہ سے وہ تدبر اور سمجھداری میں عام انسانوں سے کہیں آگے تھی۔ اس کی دو ہزار سال کی زندگی کا نچوڑ تھا کہ ہر چیز خاک ہو جاتی ہے۔ ایک دو ہزار سال کی عمر کے شخص کی سوچ کس طرح کی ہو سکتی ہے یہ سوچنا یقیناً 50، 60 سالہ شخص کے لئے مشکل ہے تاہم مصنف نے ملکہ کے کردار کے ساتھ انصاف کیا ہے ۔

رائڈر ہیگرڈ گرچہ ایڈنچر اور گمشدہ دنیاؤں کے موضوعات کے بانی ہیں تاہم ان کے بعد کئی لوگوں نے اس بارے میں قلم اٹھایا ہے۔ ان موضوعات پہ اب بےشمار کتب مہیا ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ناول کی کہانی میں نیا پن محسوس نہیں ہوتا۔ کئی مقامات پہ قاری آگے پیش آنے والی کہانی اور باتوں کا اندازہ لگا سکتا ہے جس کی وجہ سے کہانی پڑھنے میں بوریت محسوس ہوتی ہے۔ تاہم اصل، اصل ہی ہوتا ہے اس لئے ناول کا ایک بار کا مطالعہ ضرور کیا جانا چاہئے۔

کیا آپ اس تبصرے سے متفق ہیں۔آپ بھی اس کتاب کے بارے میں اپنی رائے دیں۔

اگر آپ نے یہ کتاب پڑھی ہے تو اسے 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹ کریں۔

تشریف آوری کے لئے مشکور ہوں۔

اگلے ہفتے محمد یعقوب خان کی کتاب “بنت فرعون” کا تعارف و تبصرہ ملاحظہ کیجئے۔ان شاء اللہ۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s