088- کشور ناہید کی نوٹ بک از کشور ناہید

کشور ناہید کی نوٹ بک از کشور ناہید

Kishwer Naheed ki notebookمصنفہ: کشور ناہید

صنف: سوانح حیات

صفحات: 92

قیمت: 300 روپے

سن اشاعت: 2014

ناشر: سنگ میل پبلی کیشنز لاہور

ISBN-10: 969-35-2732-1

کشور ناہید، آج کے دور کی ایک معروف دانشور اور ادیب ہیں۔ آپ نے خواتین کے حقوق اور تحفظ لئے بہت کام کیا ہے۔ آپ ایک معروف شاعرہ ہیں اور آپ کی شاعری کی کئی کتب شائع ہو چکی ہیں۔ آپ کو اردو ادب کی خدمت میں نمایاں کام کرنے پہ حکومت پاکستان کی طرف سے تمغہ امتیاز سے نوازا جا چکا ہے۔ آپ کی کتب میں دشت قیس میں لیلیٰ، بری عورت کی کتھا، بےنام مسافت، لیلیٰ خالد، سیاہ حاشیے میں گلابی رات وغیرہ شامل ہیں۔

“کشور ناہید کی نوٹ بک” آپ کی یادداشتوں پہ مشتمل ہے۔ اسے ہم آپ کی مختصر سوانح حیات کہہ سکتے ہیں۔ یہ نثری کتاب ہے۔ اس میں آپ نے اپنی سرکاری ملازمت کے دوران پیش آنے والے واقعات کے بارے میں بیان کیا ہے۔ بلکہ کشور صاحبہ کے اپنے الفاظ کے مطابق تماشائے اہل کرم دکھایا گیا ہے۔ کشور صاحبہ کی نوکری کا زیادہ تر عرصہ مارشل لاء کے زمانے کا ہے کچھ عرصہ انہوں نے سیاسی حکومتوں کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔ اس کتاب میں تمام ادوار میں موجود صورتحال پہ انہوں نے روشنی ڈالی ہے۔ کتاب کے ابتدائیے میں وہ رقم طراز ہیں:

“یہ جو میں لکھ رہی ہوں یہ تاریخ نہیں ہے، یہ کسی بادشاہ کے دور کی کہانی نہیں ہے۔ البتہ میرے جیسی کمزور عورت نے نوکری کے بیشتر سال آمرانہ حکومتوں کے دور میں گزارے ہیں۔ یہ بھی سچ ہے کہ بودلئیر کی طرح میں کہہ سکتی ہوں کہ یہ سب یادیں ہی یادیں ہیں۔ میں نے کوئی ڈائری نہیں رکھی تھی کہ روزنامچہ لکھتی، مگر میرے اندر جتنے زخم ہیں وہ خلیل جبران کے کہنے کے باوجود ماضی کو فراموش نہیں کر سکتی ہوں۔ عجب عالم تھا۔ ذاتی زندگی میں جو زخم تھے وہ تو گھر آنگن کی دیواروں نے دیکھے تھے مگر دفتری امور میں جتنا تحقیر کے ساتھ ان لوگوں کے ساتھ سلوک کیا گیا جو آمنا صدقنا نہیں کہتے تھے۔ جو ویسے تو سرکاری نوکری نہیں ریاست کی نوکری کرتے تھے، مگر سمجھے جاتے تھے کہ آمر کی تعریف کرنے کے لئے آپ کا قلم چلے گا۔ میرا انکار، میرا یکے بعد دیگرے ایکسپلینیشن بن جاتا تھا۔ یہ صرف میرے ساتھ نہیں ہوتا تھا۔ میں اس عالم بےرنگ کو اپنے حوالے سے بیان کرتے ہوئے بھی سوچ رہی ہوں کہ شاید ہم بھی ٹالسٹائی کی طرح کہہ سکیں کہ ہم تو ادب اور نوکری کے قوانین تبدیل کرنے کے لئے پیدا ہوئے ہیں۔”

کتاب کل اٹھارہ ابواب پہ مشتمل ہے۔ تاہم ان ابواب کو عنوانات نہیں دئے گئے ہیں۔ کتاب میں کشور صاحبہ نے جہاں اپنی دفتری زندگی کی جھلک دکھائی ہے وہیں ان کی ذاتی زندگی کی جھلک بھی نظر آتی ہیں۔ اپنی اولاد کی پرورش کے سلسلے میں کیا مشکلات پیش آئیں۔ ان کے شوہر کا برتاؤ وغیرہ کے بارے میں بھی کچھ اشارے موجود ہیں جو ان کی ذاتی زندگی کی مشکلات کی ایک جھلک دکھاتےہیں۔ اس کتاب کے ذریعے جہاں کشور صاحبہ نے ملک کی سیاسی اور حکومتی صورتحال پیش کی ہے۔ یہ بتایا ہے کہ اعلیٰ دفتروں میں کس طرح فیصلے ہوتے ہیں۔ میرٹ کی بجائے ذاتی پسند ناپسند کو اہمیت دی جاتی ہے، وہیں انہوں نے یہ بھی باور کرایا ہے کہ ملازمت پیشہ خاتون کی زندگی آسان نہیں ہوتی اسے بیک وقت کئی محاذوں پہ جنگ کرنی پڑتی ہے۔ اور یہ کہ زندگی بھولوں کی سیج نہیں ہے۔ کتاب میں کئی دانشوروں، ادباء اور شعراء کا بھی ذکر موجود ہے جن سے کشور صاحبہ کا زندگی کے مختصر ادوار میں واسطہ پڑتا رہا ہے۔

کتاب مختصر ہے اور ایک سے دو نشستوں میں مکمل کی جا سکتی ہے۔ پاکستانی نوکری پیشہ خواتین کی زندگی، بالخصوص دفتری زندگی کے بارے میں جاننے کے لئے یہ کتاب پڑھی جا سکتی ہے۔

کیا آپ اس تبصرے سے متفق ہیں۔آپ بھی اس کتاب کے بارے میں اپنی رائے دیں۔

اگر آپ نے یہ کتاب پڑھی ہے تو اسے 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹ کریں۔

تشریف آوری کے لئے مشکور ہوں۔

اگلے ہفتے رائڈر ہیگرڈ کی کتاب “شی *” کا تعارف و تبصرہ ملاحظہ کیجئے۔ان شاء اللہ۔

* She by Henry Rider Haggard

Advertisements

One thought on “088- کشور ناہید کی نوٹ بک از کشور ناہید”

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s