087- میرے چارہ گر از رخسانہ نگار عدن

میرے چارہ گر از رخسانہ نگار عدن

Mere Chara Gar by Rukhsana Nigar Adnanمصنفہ: رخسانہ نگار عدن

صنف: ناولٹ، اردو ادب

رخسانہ نگار صاحبہ، خواتین کے لئے شائع ہونے والے پرچوں کی باقاعدہ لکھاری ہیں۔ آپ کے قلم سے کئی ناول، ناولٹ نکل چکے ہیں۔ کتابستان کے گزشتہ صفحات میں آپ کے لکھے ہوئے ایک ناول کا تذکرہ ہو چکا ہے۔ آج کا موضوع آپ کا لکھا ہوا ایک ناولٹ ہے جو ماہنامہ شعاع ڈائجسٹ میں قسط وار شائع ہوتا رہا ہے۔

میرے چارہ گر، ابیہا کی کہانی ہے۔ ابیہا ایک ایسی لڑکی ہے جس کے والد حیات نہیں ہیں۔ وہ اپنی والدہ اور اپنی بہن کے ساتھ اپنے تایا کے گھر میں رہتی ہے۔ اس کی منگنی اس کے کزن سے ہو چکی ہے۔ ابیہا کے والد ایک اچھے خاندان سے تھے اور تایا نے بھی کسی چیز کی کمی انہیں نہیں ہونے دی تھی۔ لیکن قسمت میں جب سکون نہ ہو تو کیا ہو سکتا ہے۔ ابیہا کے گھر پریکٹیکل والے دن، تیز بارش کی وجہ سے وہ کالج میں پھنس گئی۔ رستے بند ہونے کی وجہ سے مجبوراً اسے رات اپنی پھوپھی کے ہاں گزارنی پڑی۔ یہیں سے اس کی قسمت بدل گئی۔ اگلی صبح جب وہ اپنے گھر واپس پہنچی تو گھر والوں نے اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا اور اسے بدچلن لڑکی قرار دے دیا گیا۔ اس کی بےگناہی کسی نے نہ سنی۔ مجبوراً اس کی پھوپھی نے اپنے بیٹے سے اس کا نکاح کر دیا اور اسے اپنے گھر لے آئیں۔ پھوپھو کا گھرانہ مالی مشکلات کا شکار تھا۔ جہاں ابیہا اے سی والے کمروں میں سونے کی عادی تھیں وہیں اسے یہاں حبس زدہ کمروں میں وقت گزارنا پڑتا۔ ابیہا کے تعلقات اپنے شوہر کے ساتھ بھی قائم نہ ہو سکے اور وہ گھٹن کا شکار ہوتی چلی گئی۔ اس کے دل میں اپنی ماں کے خلاف کدورت بیٹھ گئی۔ ابیہا کی کہانی کا انجام کیا ہوا، اس کے لئے تو ناول ہی پڑھنا پڑے گا۔

میرے چارہ گر، ایک سماجی ناولٹ ہے جو ہمارے معاشرے اور سماج کے مختلف پہلوؤں سے پردہ اٹھاتا ہے۔ ایک لڑکی کی آبرو کتنی قیمتی ہوتی ہے جو ایک ذرا سی نادانی سے سوالیہ نشان بن جاتی ہے۔ پسند کی شادی کی کیا قیمت ہوتی ہے۔ اور اسی طرح کے کئی موضوعات اس ناولٹ میں موجود ہیں۔ ناولٹ کی کہانی تلخی لئے ہوئے ہے۔ ابیہا نے اپنی زندگی میں جس طرح کی گھٹن محسوس کی، قاری ویسی ہی گھٹن ناولٹ پڑہھتے ہوئے محسوس کرتا ہے۔ ناولٹ کے بہت سارے کرداروں کے روئے غیر فطری محسوس ہوتے ہیں لیکن شاید یہ حد سے بڑھی ہوئی جہالت ہمارے معاشرے کا حصہ ہے تبھی بار بار مختلف کہانیوں کی صورت میں سامنے آ جاتی ہے۔ لیکن ہماری خواہش اور دعا ہے کہ والدین اپنی اولاد خصوصاً بیٹیوں پہ اعتماد کرنا سیکھیں اور انہیں کسی مشکل موقع پہ بے اماں نہ کریں۔ اپنی جھوٹی انا کے لئے معصوم زندگیوں کو بھینٹ نہ چڑھائیں۔

کیا آپ اس تبصرے سے متفق ہیں۔آپ بھی اس کتاب کے بارے میں اپنی رائے دیں۔

اگر آپ نے یہ کتاب پڑھی ہے تو اسے 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹ کریں۔

تشریف آوری کے لئے مشکور ہوں۔

اگلے ہفتے کشور ناہید کی کتاب “کشور ناہید کی نوٹ بک” کا تعارف و تبصرہ ملاحظہ کیجئے۔ان شاء اللہ۔

***************

رخسانہ نگار عدن کے قلم سے مزید

محبت خواب سفر از رخسانہ نگار عدن

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s