086- Digital Fortress by Dan Brown

Digital Fortress by Dan Brown

Digital fortressمصنف: ڈین براؤن

زبان: انگریزی

صنف: ناول، انگریزی ادب

سن اشاعت: 1998

ڈین براؤن کی کتابوں کا پہلے بھی تعارف پیش کیا جا چکا ہے۔ آج ہمارا موضوع جو کتاب ہے وہ ڈین براؤن صاحب کی سب سے پہلی کتاب ہے۔ کتاب کا عنوان ہے “ڈیجیٹل فورٹریس”۔ یہ کتاب 1998 میں شائع ہوئی تھی۔ یہ ایک تھرلر فکشن ناول ہے جس کی خاص بات اس کی تیز رفتاری ہے۔ ڈیجیٹل فورٹریس گرچہ ڈین براؤن کا پہلا ناول ہے تاہم اس کا موضوع یونیک ہے۔ اس میں براؤن نے ای میل اور انٹرنیٹ پہ بھیجے جانے والے پیغامات کی پرائیویسی کے بارے میں سوال اٹھائے ہیں۔ انہوں نے یہ بتایا ہے کہ حکومتیں ہر پیغام کو پڑھتی ہیں۔ اس مقصد کے لئے باقاعدہ الگ ڈیپارٹمنٹ موجود ہے جس کے پاس جدید ترین سہولیات موجود ہیں۔ ناول کی اشاعت کے سولہ سال بعد یعنی 2014 میں ہم یہ بات جانتے ہیں کہ حکومتیں تمام ای میلز، میسیجز کو پڑھتی ہیں یعنی الیکٹرانک گفتگو اور ڈیجیٹل ورلڈ میں کچھ بھی پرائیویسی باقی نہیں، ہر پیغام حکومتی محافظوں کی نظر سے گزرتا ہے۔ حکومتیں جہاں اس معاملے کو سیکیوریٹی کے لئے ضروری قرار دیتی ہیں وہیں ایک عام آدمی کے لئے یہ اس کی ذاتی زندگی میں دخل اندازی کے مترادف ہے اور اسے پورا حق حاصل ہونا چاہئے کہ وہ اپنی معلومات کو کسی بھی دوسرے کی نظروں سے محفوظ رکھ سکے۔ نیز یہ کہ ایک عام آدمی کو علم بھی نہیں کہ اس کی خفیہ نگرانی ہو رہی ہے۔

ڈیجیٹل فورٹریس کی کہانی انہی سوالوں سے ہو کے اپنے انجام تک پہنچتی ہے۔ ناول کی کہانی شروع ہوتی ہے جب امریکہ کی نیشنل سیکیوریٹی ایجنسی کے ایک کوڈ بریکز کمپیوٹر میں مسئلہ آ جاتا ہے۔ یہ کوڈ بریکر، انٹرنیٹ پہ بھیجا ہوا ہر پیغام ڈی کوڈ کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ تاہم “ڈیجیٹل فورٹریس” نامی ایک کوڈ کو بریک کرنے میں اسے اٹھارہ سے زیادہ گھنٹے لگ گئے اور یہ مسلسل اسے بریک کرنے میں ناکام رہا۔ اس موقع پہ ناول کی ہیروئن سوزین فلیچر کی ناول میں انٹری ہوتی ہے جو ایک ذہین اور خوبصورت خاتون ہے اور انکرپشن ڈیپارٹمنٹ کی ہیڈ ہے۔ سوزین کو معلوم ہوتا ہے کہ ڈیجیٹل فورٹریس، اینسائی تنکاڈو نے لکھا ہے جو پہلے نیشنل سیکیورٹی ایجنسی میں ہی ملازم تھا۔ لیکن وہ اپنے محکمے کے کام سے ناخوش تھا۔ اس کے نزدیک حکومتوں کو یہ حق حاصل نہیں تھا کہ وہ عوام کی ذاتی معلومات اور پیغامات کی نگرانی کریں اور انہیں خفیہ طور پہ کھول کے دیکھیں۔ اس کے نزدیک حکومتوں کے لئے بھی ضابطہ اخلاق ہونا چاہئے تھا کہ محافظوں کو بھی نگرانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اینسائی تنکاڈو نے ڈیجیٹل فورٹریس نامی پروگرام نیشنل ایجنسی کے کوڈ بریکر پروگرام کو خراب کرنے کے لئے بھیجا تھا۔ اس نے ایسا انتظام کیا تھا کہ اگر کسی وجہ سے اس کی موت ہو جائے تو سارا نیشنل سیکیوریٹی ایجنسی کا سارا ڈیٹا انٹرنیٹ پہ عام ہو جائے۔ یہی وجہ تھی کہ ڈیجیٹل فورٹریس کو روکنا اور کمپیوٹر سسٹم سے باہر نکالنا بہت ضروری تھا۔ یہیں سے ناول کا تھرل اسٹارٹ ہوتا ہے جو انکرپشن کی معلومات سے بھرپور ہے۔

ناول کا پلاٹ گرچہ منفرد ہے اور حکومتوں کے کردار پہ سوال اٹھاتا ہے، اس کے باوجود کئی لوگوں کو یہ متاثر کرنے میں ناکام رہا۔ ایک ایسا قاری جو ڈیٹا انکرپشن سے انجان ہے اس کے لئے یہ ناول یقیناً معلومات کا ذریعہ ہے لیکن اس فیلڈ کے ماہرین کے مطابق ناول میں کئی تکنیکی غلطیاں ہیں۔ ناول کا تھرل کئی لوگوں کو غیر متاثر کن لگا اور کہانی پریڈکٹ ایبل۔ ہماری رائے میں بھی ناول کا کلائمکس اتنا متاثر کن نہیں رہا، جتنا کہ توقع تھی لیکن اس کے باوجود یہ ایک منفرد ناول ہے اور پڑھنے کے لائق ہے۔ ڈین براؤن کے ناولوں میں کئی باتیں مماثلت رکھتی ہیں۔ وہ مماثلتیں، براؤن کے ناول پڑھنے والے جانتے ہی ہیں۔ نئے قاری انہیں خود دریافت کر لیں گے۔

کیا آپ اس تبصرے سے متفق ہیں۔آپ بھی اس کتاب کے بارے میں اپنی رائے دیں۔

اگر آپ نے یہ کتاب پڑھی ہے تو اسے 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹ کریں۔

تشریف آوری کے لئے مشکور ہوں۔

اگلے ہفتے رخسانہ نگار عدن کی کتاب “میرے چارہ گر” کا تعارف و تبصرہ ملاحظہ کیجئے۔ان شاء اللہ۔

***************

Dan Brown کے قلم سے مزید

اینجلز اینڈ ڈیمنز (Angels and demons) از ڈین براؤن (Dan Brown)

ڈیسیپشن پوائنٹ (Deception point) از ڈین براؤن (Dan Brown)

Advertisements

One thought on “086- Digital Fortress by Dan Brown”

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s