083- دلچسپ حکایاتِ رومی رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ

دلچسپ حکایاتِ رومی رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ

Hikatay-e-Roomiمرتب: ابن علی

صفحات: 157

قیمت: 85 روپے

ناشر: مشتاق بک کارنر، اردو بازار لاہور

مولانا رومی رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ کے بارے میں کون نہیں جانتا۔ آپ ایک مشہور صوفی بزرگ اور شاعر تھے۔ آپ کی شاعری مثنوی روم کے نام سے موجود اور مشہور ہے اور آج بھی پڑھی جاتی ہے۔ اس کا ترجمہ دنیا کی کئی زبانوں میں ہو چکا ہے جس کی وجہ سے مولانا کے کلام سے کئی زبانوں کے لوگ مستفید ہو چکے ہیں اور ہو رہے ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے ہم نے ایک ترکی مصنفہ کی لکھی ہوئی کتاب ” فورٹی رولز آف لو” کا ذکر کیا تھا۔ اس کتاب میں حضرت شمز تبریز اور مولانا روم کی ملاقات، دوستی اور محبت کی کہانی ایک ناول کی شکل میں پیش کی گئی ہے۔ “فورٹی رولز آف لو” کی مصنفہ نے مثنوی روم پڑھنے کے بعد ہی ناول لکھنے کا ارادہ کیا تھا اور ان کے ناول کے کئی واقعات مثنوی سے ہی لئے گئے ہیں۔ آج جس کتاب کی ہم بات کر رہے ہیں یعنی دلچسپ حکایات رومی بھی مثنوی روم سے ہی ایک انتخاب ہے۔

اس کتاب کے اصل مصنف تو مولانا روم رح ہی ہیں۔ تاہم مترجم کا علم نہیں کہ ان حکایات کو اردو زبان میں منتقل کرنے کا شرف کن کو حاصل ہے۔ تاہم “دلچسپ حکایات رومی” کو ابن علی صاحب نے مرتب کیا ہے۔ کتاب میں آپ کے بارے میں کوئی تعارف دستیاب نہیں ہے اور نہ ہی آپ کی مرتب کردہ کسی اور کتاب کا ذکر موجود ہے اس لئے ہم ابن علی صاحب کے بارے میں مکمل طور پہ لا علم ہیں۔ کتاب کے حرف آغاز میں ابن علی صاحب کا کہنا ہے کہ

” اخلاقی کتابوں میں جو بلند مقام مولانا روم رح کی مثنوی شریف کو حاصل ہے وہ بہت کم کتابوں کو نصیب ہوتا ہے۔ مثنوی شریف اگرچہ تصوف کی کتاب ہے مگر مولانا روم رح نے اس میں عام فہم انداز میں ایسی دلچسپ حکایات کو بیان کیا ہے کہ صدیاں گزر جانے کے باوجود روز اول کی طرح آج بھی انہیں بڑے شوق سے پڑھا جاتا ہے۔”

ابن علی صاحب کی بات درست ہے کیونکہ ہم نے بھی حکایات کو بہت دلچسپی سے پڑھا گرچہ کہ ان میں سے زیادہ تر ہم سے ہم پہلے ہی واقف تھے۔ کتاب میں کل کتنی حکایات موجود ہیں، اس بارے میں کوئی فہرست نہیں بنائی گئی، لیکن پڑھنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ حکایات کی تعداد سو کے لگ بھگ ضرور ہو گی۔ یہ حکایات مختلف موضوعات پہ ہیں جن میں قصہ بیان کرنے کے بعد اس سے اخذ کردہ نتیجہ بھی پیش کیا گیا ہے۔ اس کتاب کو پڑھنے سے بچپن میں پڑھے ہوئے کئی قصے یاد آئے اور وہ اچھی باتیں بھی جو ہم نے گاہے بہ گاہے اپنے بڑوں سے سیکھی تھیں۔ بہت سے نتائج پڑھ کے ایسا احساس بھی ہوا کہ موجودہ زمانے کی نہ صرف رفتار بدل گئی ہے بلکہ معاملات کو سمجھنے اور پرکھنے کا انداز بھی تبدیل ہو چکا ہے۔ یعنی اگر یہ حکایات موجودہ دور کے حوالے سے لکھی جاتیں تو ان سے اخذ شدہ نتائج یقیناً مختلف ہوتے۔ اس بات سے وہ قارئین ضرور متفق ہوں گے جو آج کے دور کے لحاظ سے لکھی گئی کچھوا اور خرگوش، چالاک لومڑی وغیرہ والے ایس ایم ایس کا مطالعہ کر چکے ہوں گے۔ تاہم اس بات کے ذکر سے ہمارا مطلب ہرگز بھی مثنوی کی اہمیت کم کرنا یا اسے آؤٹ ڈیٹڈ قرار دینا نہیں ہے۔ بلکہ یہ اس حقیقت کی طرف افسوس کا اظہار ہے کہ زمانے کے چلن کے ساتھ انسان اپنے اصل سے کتنا دور ہٹتا جا رہا ہے۔

یہ کتاب ہر عمر اور ہر طبقے کے افراد کے لئے ہے۔ یہ اخباری کاغذ پہ شائع کی گئی ہے جس کی وجہ سے اس کی قیمت بھی کم ہے۔

کیا آپ اس تبصرے سے متفق ہیں۔آپ بھی اس کتاب کے بارے میں اپنی رائے دیں۔

اگر آپ نے یہ کتاب پڑھی ہے تو اسے 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹ کریں۔

تشریف آوری کے لئے مشکور ہوں۔

اگلے ہفتے پاویل لوکنتیسکی کی کتاب “پہاڑوں کی بیٹی” کا تعارف و تبصرہ ملاحظہ کیجئے۔ان شاء اللہ۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s