082- دہشت گرد از طارق اسمٰعیل ساگر

دہشت گرد از طارق اسمٰعیل ساگر

Dehshat Gard Urdu Novel by Tariq Ismail Sagarمصنف: طارق اسمٰعیل ساگر

صنف: ناول، اردو ادب

طارق اسمٰعیل ساگر صاحب کا نام جاسوسی ادب کی دنیا میں نیا نہیں ہے۔ آپ کے قلم سے کئی ناول نکل چکے ہیں جنہوں نے عوامی مقبولیت حاصل کی ہے۔ ناولوں کے علاوہ آپ ڈرامے، کالمز اور سفر نامے بھی لکھ چکے ہیں۔ آپ کی کتابوں کی ایک طویل فہرست ہے جس میں سے چند نام یہ ہیں۔ آخری گناہ کی مہلت، اور حصار ٹوٹ گیا، بیس کیمپ، بلیک واٹر، کمانڈو، گرفت، یلغار وغیرہ۔

آج جس ناول پہ بات ہو رہی ہے وہ بھی ایک جاسوسی ناول ہے جس کا عنوان ہے دہشت گرد۔ اس ناول میں طارق صاحب نے ملک میں ہونے والی دہشت گردانہ واقعات کے پیچھے موجود ہمسایہ ملک کی خفیہ ایجنسی کے کردار کو پیش کیا ہے۔ ناول میں یہ بتایا گیا ہے کہ کس طرح ہمسایہ ملک کے ایجنٹ ہمارے ملک میں موجود ہیں اور یہاں کے لوگوں کو بےوقوف بنا کے اور خوب صورت خواب دکھا کے اپنے مقاصد کے لئے استعمال کر رہے ہیں۔ ناول میں ان سیاسی رہنماؤں کا بھی حال پیش کیا گیا ہے جو ذرا سے مفاد کے لئے اپنے آپ کو دشمنوں کے ہاتھوں بیچ دیتے ہیں۔ دشمن اپنے مقاصد کے لئے جہاں روپے پیسے کا بےدریغ استعمال کر رہا ہے وہیں وہ اپنی بیٹیوں کو بھی اپنے مضموم مقاصد کے لئے استعمال کر رہا ہے۔

طارق اسمٰعیل ساگر صاحب کے قلم نے دہشت گردی کے واقعات کے پیچھے بیرونی ہاتھ کا بہت تفصیلی سے ذکر پیش کیا ہے جو کئی لوگوں کی آنکھیں کھول دینے کے لئے کافی ہے۔

کیا آپ اس تبصرے سے متفق ہیں۔آپ بھی اس کتاب کے بارے میں اپنی رائے دیں۔

اگر آپ نے یہ کتاب پڑھی ہے تو اسے 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹ کریں۔

تشریف آوری کے لئے مشکور ہوں۔

اگلے ہفتے “حکایات رومی ” کا تعارف و تبصرہ ملاحظہ کیجئے۔ان شاء اللہ۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s