080-شب آرزو کا عالم از عنیزہ سید

شب آرزو کا عالم از عنیزہ سید

shab-e-arzoo ka alam by Aneez Syedمصنفہ: عنیزہ سید

صفحات: 138

صنف: ناولٹ، اردو ادب

عنیزہ سید صاحبہ کی کتب پہلے بھی کتابستان کی زینت بن چکی ہیں۔ آج بھی ہم ان کی ایک ایسی تصنیف لے کے آئے ہیں جس کی بنیاد انسانیت پہ رکھی گئی ہے۔ موجودہ نفسا نفسی کے اس دور میں مصنفہ نے اس کہانی اور اپنے کرداروں کے ذریعے انسانیت اور بھلائی پہ قاری کا یقین دوبارہ سے قائم کرنے کی کوشش کی ہے۔

شب آرزو کا عالم ایک ناولٹ ہے جو ایک سے دو نشستوں میں باآسانی مکمل کیا جا سکتا ہے۔ یہ ناولٹ بھی ڈائجسٹ میں شائع شدہ ہے جسے بعد میں کتابی صورت میں پیش کیا گیا ہے۔ یہ ناولٹ “کرن” کی کہانی ہے۔

کرن ایک ایسی لڑکی ہے جس کے والدین حیات نہیں، اس کی اور اس کے بھائی بہن کی پرورش اس کے دادا دادی نے کی ہے۔ اپنی زندگی کی محرومیوں نے کرن کو بچپن سے ہی حساس بنا دیا تھا۔ وہ اپنے بہن بھائی اور دیگر افراد سے مختلف تھی۔ اس کے شوق اور دلچسپیاں عام انسانوں سے مختلف تھیں۔ وہ ماس کمیونیکیشن میں ماسٹرز کر رہی تھی۔ یہیں اس کی زندگی میں داؤد داخل ہوا۔ داؤد ایک خوشحال خاندان سے تعلق رکھنے والا اینگری ینگ مین تھا۔ اس کی اپنے والدین سے کبھی نہیں بنی۔ اس کے نزدیک اس کے ماں باپ نے ہمیشہ اس پہ اپنی مرضی مسلط کی تھی اور اس نے اس رویے سے ہمیشہ بغاوت کی تھی۔ اسی وجہ سے وہ سب سے ناراض اور اکھڑا اکھڑا رہتا تھا۔ کرن سے ملاقات کے بعد داؤد نے کرن میں دلچسپی لینی شروع کی، جوں جوں وہ اس لڑکی کے بارے میں جانتا گیا توں توں اس کو اس کے خاص پن کا احساس ہوتا گیا۔ کہانی کچھ موڑ مڑ کے آگے بڑھتی ہے۔ کرن اور داؤد کی دوستی کا انجام کیا ہوا، اس کے لئے تو ناولٹ ہی پڑھنا پڑے گا۔

ہم نے آغاز میں ذکر کیا تھا کہ اس کہانی کے ذریعے سے مصنفہ نے انسانیت کا پیغام دیا ہے۔ یہ پیغام کرن کے کردار کی شکل میں ہے۔ کرن کا کردار ایک ایسی لڑکی کا ہے جس نے اپنی محرومیوں کے جواب میں بغاوت اور خودغرضی کا رستہ نہیں اپنایا بلکہ دنیا کی مدد کا رستہ اختیار کیا۔ اس کے وسائل محدود تھے وہ کوئی بڑے ہسپتال اور خیراتی ادارے نہیں بنا سکتی تھی۔ لیکن وہ فٹ پاتھ پہ بیٹھے کتب فروش کی پرانی کتابوں پہ کور چڑھا کے انہیں دیدہ زیب اور قابل قبول بنا دیتی تھی۔ کینسر کے ایک مریض کے نام سے اخبار میں کارٹون بنا دیتی تھی جس کی آمدنی اس مریض کو مل جاتی تھی۔ اسی طرح کی اور بھی کچھ مثالیں مصنفہ نے دی ہیں۔ جن سے یہ پیغام ملتا ہے کہ اچھائی چھوٹے پیمانے پہ بھی کی جا سکتی ہے۔ کسی کو ایک لمحے کی خوشی دینے سے ہی انسانیت کے بڑے مسائل کم کئے جا سکتے ہیں۔ اور یہ روشنی کی ایسی کرن پھیلاتی ہے جو آگے سے آگے بڑھتی ہی جاتی ہے۔ ہمارے معاشرے میں یقیناً کرن جیسے کردار موجود ہیں، لیکن وہ ضرورت سے بہت کم ہیں۔ ہمیں کرن کے کردار کی روشنی میں اپنے گریبان میں جھانکنا چاہئے اور دیکھنا چاہئے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں۔ مصنفہ نے اس کردار کے ذریعے سے ہمیں آئینہ دکھانے کی کوشش کی ہے۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں اس کا اجر دیں اور ہمیں توفیق دیں کہ اپنے اردگرد موجود لوگوں کی بےلوث مدد کر سکیں۔

کیا آپ اس تبصرے سے متفق ہیں۔اس کتاب کے بارے میں تبصرہ کریں ۔

اگر آپ نے یہ کتاب پڑھی ہے تو اسے 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹ کریں۔

تشریف آوری کے لئے مشکور ہوں۔

اگلے ہفتے ماہنامہ خواتین ڈائجسٹ کا تعارف و تبصرہ ملاحظہ کیجئے۔ان شاء اللہ۔

***************

عنیزہ سید کے قلم سے مزید

دل من مسافر من از عنیزہ سید

شب گزیدہ از عنیزہ سید

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s