073- چوتھی دنیا از احمد عقیل روبی

چوتھی دنیا از احمد عقیل روبی

Chauthi Dunyaمصنف: احمد عقیل روبی

صفحات: 143

چوتھی دنیا احمد عقیل روبی کے قلم سے نکلا ہوا ناولٹ ہے جس کو آپ نے ممتاز مفتی کے نام موسوم کیا ہے۔ احمد عقیل روبی ایک معروف ادیب ہیں۔ آپ مشہور قوال نصرت فتح علی کے بارے میں بھی کتاب لکھ چکے ہیں۔ آپ کے قلم سے نکلی ہوئی کتب سنجیدہ ادب کے زمرے میں آتی ہیں اس لئے عین ممکن ہے کہ کئی قارئین آپ کے کام سے ناواقف ہوں۔

چوتھی دنیا ایک ناولٹ ہے جس کا موضوع ایک ایسی جنگ عظیم جو دنیا سے انسانوں کے وجود کو ختم کردے، کے بعد کی صورتحال کی عکاسی ہے۔ آج کی دنیا میں تیسری دنیا کا ذکر کیا جاتا ہے یعنی موجودہ دور میں انسان پہلی، دوسری اور تیسری دنیا کی تقسیم میں بٹے ہوئے ہیں۔ تاہم اس قیامت خیز جنگ کے بعد جو دنیا بچے گی وہ چوتھی دنیا ہوگی۔ چوتھی دنیا طنزیہ انداز میں لکھا گیا ناول ہے۔ جس کے آغاز میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح پہلی اور دوسری دنیا نے ایک دوسرے کو تباہ کرنے کی خواہش میں دنیا ہی ختم کر دی۔

چوتھی دنیا، اس واحد انسان کی دنیا ہے جو اس تباہ خیز جنگ کے اختتام پہ بچ جانے والا واحد شخص تھا۔ اس اکیلے آدمی کی زندگی کس طرح کی ہو سکتی تھی، جنگ کی ہلاکت خیزی کے بعد کی دنیا کس حال میں تھی، ناولٹ میں ان سب باتوں کی تصویر کشی کی گئی ہے۔ وہ اکیلا آدمی تنہائی کا شکار تھا۔ ایسے میں ایک گدھے کی موجودگی اس کی تنہائی دور کرنے کا سبب بن گئی۔ ناولٹ میں گدھے کا کردار بھی اپنے اندر طنز کا ایک پہلو لئے ہوئے ہے کہ انسان اپنی زندگی میں گدھے کو بےوقوفی کی علامت گردانتا ہے لیکن ایک ایسے وقت میں، کہ جب دنیا میں کوئی ذی روح موجود نہیں تھا اس میں وہی گدھا زندگی کی نوید بن گیا۔ ناولٹ کا اختتام مصنف نے امید افزاء کیا ہے جہاں اس واحد آدمی کی ملاقاقیت ایک عورت سے ہوتی ہے اور وہ دونوں مل کر زمین پہ چوتھی دنیا کی بنیاد رکھتے ہیں۔

موجودہ دور کی ترقی اور خصوصاً ہلاکت خیز ہتھیاروں کی موجودگی کے باعث کئی مصنفین نے ایسی کہانیاں پیش کی ہیں جن میں ایسی جنگ کا ذکر کیا گیا ہے کہ وہ روئے زمین پہ انسانیت کے خاتمے کا باعث بن گئیں اور زمین پہ چند انسان ہی باقی رہ گئے۔ ایسے انسانوں کی زندگی کس طرح کی ہو سکتی ہے اس بارے میں کئی مصنفین نے خیال آرائی کی ہے۔ ان تمام کاوشوں کی موجودگی میں “چوتھی دنیا” کا خیال نیا یا اچھوتا محسوس نہیں ہوتا۔ اس موجوع پہ لکھی گئی اکثر کہانیوں میں اسی طرح کی صورتحال ہی پیش کی گئی ہے جو مصنف نے بیان کی ہے۔ تاہم یہ مصنف کا انداز ہوتا ہے جو باربار کہی گئی کہانیوں کو بھی نیا اور اچھوتا بنا کے پیش کر سکتا ہے۔ ناولٹ کا مرکزی خیال گو نیا نہیں، لیکن کہانی میں عمدہ فلسفہ پیش کیا گیا ہے، کہانی کا طنزیہ انداز و کردار بھی قارئین کو اپنی طرف متوجہ کر سکتے ہیں۔

کیا آپ اس تبصرے سے متفق ہیں۔آپ بھی اس کتاب کے بارے میں اپنی رائے دیں۔

اگر آپ نے یہ کتاب پڑھی ہے تو اسے 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹ کریں۔

تشریف آوری کے لئے مشکور ہوں۔

اگلے ہفتے قمر عبداللہ کی کتاب “دہشت گرد۔۔۔؟” کا تعارف و تبصرہ ملاحظہ کیجئے۔ان شاء اللہ۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s