071- لاحاصل از عمیرا احمد

لاحاصل از عمیرا احمد

La hasil by Umera Ahmedمصنفہ:عمیرا احمد

صفحات: 275

کتابستان میں عمیرا احمد وہ مصنفہ ہیں جن کی کتب پہ سب سے زیادہ بات ہوئی ہے۔ آج پھر سے ہمارا موضوع ان کی لکھی ہوئی کتاب ہے۔ ایسا یقیناً ان کے کام کی اہمیت کی وجہ سے ہے۔ ان کے ناولوں نے جس طرح سے قارئین کے دلوں اور ذہنوں میں اپنی جگہ بنائی ہے وہ کم ہی دیکھنے میں آتی ہے۔ آپ کی تحریریں دیر پا اثرات چھوڑ جاتی ہیں اور مدتوں قارئین کے ذہن میں محفوظ رہتی ہیں۔ آپ کی تحاریر گرچہ عمومی ہیں لیکن ان کے کردار بہت خاص ہیں۔ آپ کے زیادہ تر کردار مشہور ہوئے ہیں جیسے سالار، امامہ، عکس، در شہوار وغیرہ۔ لاحاصل کی مرکزی کردار بھی ایک خاص خاتون ہیں جن کا نام ہے خدیجہ نور۔

لاحاصل ایک نسبتاً طویل ناول ہے اور یہ کیتھرین کی خدیجہ نور بننے کی داستان بیان کرتا ہے۔ کیتھرین ایک عیسائی لڑکی تھی۔ اس کا باپ ایک پاکستانی تھا لیکن وہ اس کی ماں کو چھوڑ کے جا چکا تھا۔ اس غم میں اس کی ماں نے شراب نوشی کو عادت بنا لیا اور اپنی زندگی اس کی نذر کر دی۔ کیتھرین کی تعلیم ادھوری رہ گئی۔ ماں کی موت کے بعد زندگی کی گاڑی چلانے کے لئے وہ جسم فروشی کے دھندے سے منسلک ہوگئی۔ کچھ عرصے بعد اس کی ملاقات مظہر سے ہوئی۔ مظہر اس کے پیشے کے بارے میں مکمل طور پہ لاعلم تھا۔ لیکن وہ اس کی محبت میں گرفتار ہو گیا۔ انہوں نے شادی کر لی اور کیتھرین نے اسلام قبول کر لیا۔ اس کا نام خدیجہ نور رکھ دیا گیا۔ ان کے ہاں ایک بیٹا پیدا ہوئی لیکن سکون خدیجہ کی زندگی میں عارضی تھا، ایک دن مظہر کے ایک کزن نے خدیجہ کو کیتھرین کی حیثیت سے شناخت کر لیا، وہ اس کا گاہک رہ چکا تھا۔ نتیجتاً مظہر باپ کی نے خدیجہ کو طلاق دے دی اور بیٹے کو لے کے پاکستان واپس آ گیا۔ یہاں سے خدیجہ کی آزمائش کا ایک نیا دور شروع ہوا۔ اس کا شوہر بھی اس کے باپ کی طرح نکلا۔ اس کی ماں کی طرح اسے بھی اکیلا چھوڑ دیا گیا۔ تاہم اس نے ہمت نہیں ہاری، جو عزت اسے مل چکی تھی اسے چھوڑ کے واپس اس دلدل میں جانا اسے گوارا نہیں تھا۔ خدیجہ نور کی زندگی میں آگے کیا ہوا، یہ جاننے کے لئے تو ناول ہی پڑھنا پڑے گا۔

مذہب کی تبدیلی ایک بہت بڑا فیصلہ ہے لیکن مذہب کی تبدیلی کے بعد ثابت قدمی سب سے ضروری چیز بن جاتی ہے۔ ایک نئے مذہب میں شامل ہونا اور اس کے طور طریقوں کو پورے دل سے اپنانا اور پھر بعد میں کبھی بھی اس پہ شکوہ نہ کرنا، ایک ایسی ڈیمانڈ ہے جو ہر مذہب اپنے نئے پیروکار سے چاہتا ہے۔ اسلام میں بھی اللہ تعالیٰ کا یہی فرمان ہے کہ دین میں پورے کے پورے داخل ہو جاؤ۔ یہی خدیجہ نور کی زندگی کا مقصد تھا، ایک مرتبہ اسلام کے دائرے میں داخل ہونے کے بعد انہوں نے مڑ کر اس زندگی اور آزادی کی خواہش نہیں کی جو انہیں پہلے حاصل تھی۔ گرچہ غربت اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑا لیکن انہوں نے ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا۔ اور اپنے تئیں یہ ثابت کیا کہ مذہب کی تبدیلی انہوں نے اسلام سے متاثر ہو کے کی تھی اور یہ کسی مرد کی محبت میں گرفتار ہو کے کیا گیا جذباتی فیصلہ نہیں تھا۔ یہی وہ بات ہے جو خدیجہ نور کے کردار کو اہم بناتی ہے اور قاری کے دل میں ایمان کی مضبوطی پیدا کرتی ہے کہ جب خدیجہ نور اس قدر ثابت قدمی کا مظاہرہ کر سکتی ہے تو ہم پیدائشی مسلمان کیوں نہیں۔ یہی شاید مصنفہ کا بھی پیغام ہے۔

کیا آپ اس تبصرے سے متفق ہیں۔آپ بھی اس کتاب کے بارے میں اپنی رائے دیں۔

اگر آپ نے یہ کتاب پڑھی ہے تو اسے 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹ کریں۔

تشریف آوری کے لئے مشکور ہوں۔

اگلے ہفتے ایلف شفق کی کتاب “فورٹی رولز آف لو*” کا تعارف و تبصرہ ملاحظہ کیجئے۔ان شاء اللہ۔

* Forty rules of love

***************

عمیرا احمد کے قلم سے مزید

عکس از عمیرا احمد

تھوڑا سا آسمان از عمیرا احمد

پیرِ کامل از عمیرا احمد

دربارِ دل از عمیرا احمد

Advertisements

2 thoughts on “071- لاحاصل از عمیرا احمد”

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s