069- بہشت از بشریٰ رحمٰن

بہشت از بشریٰ رحمٰن

Bahishtمصنفہ: بشریٰ رحمٰن

صفحات: 186

سن اشاعت: 2002

ناشر: خزینہ علم و ادب، لاہور

بشریٰ رحمٰن صاحبہ کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ آپ ایک مشہور مصنفہ اور سیاستدان ہیں۔ کتابستان میں گفتگو آپ کے علمی کام تک ہی محدود رہے گی۔ آپ کے قلم سے کئی ناول، ناولٹ اور افسانے نکل چکے ہیں جنہوں نے بہت مقبولیت حاصل کی۔ ان میں پارسا، پیاسی، خوبصوورت، لازوال وغیرہ شامل ہیں۔ بشریٰ رحمٰن صاحبہ کا موضوع عورت ہے۔ آپ کی تحریروں میں عورتوں کی زندگی کے بارے میں بھرپور روشنی پڑتی ہے۔

آج جس کتاب پہ بات ہو رہی ہے اس کا عنوان ہے بہشت۔ یہ ناولٹوں کا مجموعہ ہے۔ اس میں کل پانچ ناولٹ شامل ہیں جن کے عنوانات ہیں: بہشت، بیگم صاحبہ، ممتا، امڑی اور بددعا۔

“بہشت” ایک ایسے بچے کی کہانی ہے جو اپنی ماں سے نفرت کرتا ہے۔ لیکن یہ نفرت اس طرح کی نفرت نہیں ہے جیسا کہ عام تصور ہے۔ اس بچے کی ماں ایسی ماں تھی جس نے اسے کبھی کسی برے کام کو کرنے سے منع نہیں کیا لیکن وہ اپنی باتوں سے اس کی تربیت اس طرح کر رہی تھی کہ وہ خود ہی کسی برائی میں نا پھنس سکا۔ ہر برا کام کرنے سے پہلے اس کے سامنے اس کی ماں کی کہی باتیں آ جاتیں جو اسے خواہش کے باوجود برا کام کرنے سے بچا لیتیں۔ اپنی ماں کی انہی باتوں کی وجہ سے وہ خائف تھا۔ وہ ساری زندگی اپنی ماں سے خائف رہا لیکن جب اس کی اپنی بیوی ماں بنی تو اسے علم ہوا کہ اس کی اپنی ماں نے اسے کس بہترین انداز میں پرورش کی تھی جس میں اس کی بیوی ناکام رہی تھی۔ ناولٹ کا خیال بہت عمدہ ہے۔ اس میں عمدہ پرورش کے اثرات بتائے گئے ہیں۔ ایک اولاد کو کس طرح بےجا روک ٹوک کے اچھے اخلاق اور قدریں سکھائی جائیں، اس کا طریقہ کار بتایا گیا ہے۔ اولاد کی پرورش ہر ماں کا مسئلہ ہے، اس لئے ہمارے رائے میں ماؤں کو یہ ناولٹ ایک بات ضرور پڑھنا چاہئے اور اولاد کو بھی تاکہ وہ سمجھ سکیں کہ والدین کی رائے ان کی بہتری کے لئے ہی ہوتی ہے۔

کتاب کا دوسرا ناولٹ ایک ایسے خوددار بچے کی کہانی ہے جس کی ساری تعلیم کا خرچہ ایک بیگم صاحبہ نے اٹھایا۔ وہ بچہ اس حقیقت سے ناآشنا تھا، تاہم جب اسے علم ہوا تو اس بات نے اس کے اندر غصہ پیدا کیا کہ اس کے باپ نے اس کی تعلیم کے لئے کسی سے پیسے لئے۔ تاہم ان بیگم صاحبہ سے ملاقات کے بعد اس کی سوچ اور رویہ بدل گیا اور وہ ایک مثبت انسان میں تبدیل ہو گیا۔

ناولٹ “امڑی” کا خیال بھی متاثر کن ہے۔ یہ ان سماجی رویوں پہ طنز ہے جو ہمارے ہاں اکثر دیکھنے میں آتے ہیں۔ یہ ایک بیٹی کی کہانی ہے جس کی ماں کی موت ہو گئی ہے۔ وہ اپنی ماں کے مرنے پہ چالیس دن کا سوگ منانا چاہتی ہے لیکن کیونکہ شادی شدہ ہے اور سسرال میں رہتی ہے اس لئے گھر بھر کے کاموں کی ذمہ داری اسی پہ ہے وہ ان کاموں کو ترک کرکے اپنی ماں کی مغفرت کے لئے قرآن پاک اور دعائیں نہیں پڑھ سکتی اور اس کا شکوہ ہے کہ دنیا سلیقے سے سوگ بھی نہیں منانے دیتی۔

ناولٹوں کے خیال عمدہ ہیں۔ کہانیاں ہمارے معاشرے سےہی اٹھائی گئی ہیں اس لئے اجنبی نہیں محسوس ہوتیں۔ زیادہ تر کردار ہمیں اپنے ارد گرد گھومتے ہوئے ہی محسوس ہوت ے ہیں۔ عورتوں کی زندگی، ان کے مسائل اجاگر کرتی ہوئی یہ ایک اچھی کتاب ہے۔

کیا آپ اس تبصرے سے متفق ہیں۔آپ بھی اس کتاب کے بارے میں اپنی رائے دیں۔

اگر آپ نے یہ کتاب پڑھی ہے تو اسے 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹ کریں۔

تشریف آوری کے لئے مشکور ہوں۔

اگلے ہفتے پروفیسر احمد رفیق اختر کی کتاب “بنیادی انحراف” کا تعارف و تبصرہ ملاحظہ کیجئے۔ان شاء اللہ۔

Advertisements

One thought on “069- بہشت از بشریٰ رحمٰن”

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s