068- دجال از علیم الحق حقی

دجال از علیم الحق حقی

dajjal-titleمصنف: علیم الحق حقی

دجال کے تصور کے بارے میں ہم پہلے بھی کچھ کتب میں ذکر کر چکے ہیں۔ یہ ایک ایسا فتنہ ہے جس کا ذکر تمام الہامی مذاہب میں پایا جاتا ہے۔ ہمارے آخری پیغمبر الزماں نے ایسی کئی احادیث بیان کی ہیں جن میں مستقبل میں سامنے آنے والے فتنہ دجال سے خبردار کیا گیا ہے۔ عیسائی مذہب میں بھی یہ تصور موجود ہے۔ علیم الحق حقی صاحب کے پیش کردہ ناول کا موضوع یہی فتنہ ہے تاہم ناول کی بنیاد عیسائی عقیدے کے تصور پہ رکھی گئی ہے۔ ناول کا مرکزی خیال ایک انگریزی ناول اومین (Omen) سے لیا گیا ہے۔ تاہم حقی صاحب کا یہ ناول انگریزی کے دو ناولوں کی کہانیوں کو آپس میں مکس کرکے پیش کرتا ہے۔ ایک کا ذکر ہم کر چکے ہیں اور دوسرا سڈنی شیلڈن کا ناول Are You Afraid of the Dark? ہے۔

ناول کے مطابق عیسائیت میں تصور ہے کہ دنیا کے اختتام سے پہلے شیطان اپنی اولاد دنیا میں بھیجے گا۔ یہ اولاد ایک جانور کے جسم سے پیدا ہوگی اور دنیا میں فتنہ و فساد پیداکرے گی۔ شیطان کا مقابلہ کرنے کے لئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام دنیا میں تشریف لائیں گے اور دنیا میں امن و امان قائم ہوگا۔ ناول کا آغاز اسی تصور سے ہوا ہے جہاں ایک مادہ گیدڑ کے ہاں شیطانی بچے کی پیدائش ہوتی ہے۔ اس بچے کو شیطانی چیلے ایک ایسے جوڑے کے بچے سے تبدیل کر دیتے ہیں جن کے ہاں بھی عین اسی وقت اولاد پیدا ہوئی تھی لیکن ان کا بچہ ان چیلوں نے مار دیا تھا۔ یہ خاندان ایک امیر اور اثر و رسوخ رکھنے والا خاندان تھا۔ اس بچے کا نام ڈیمین رکھ دیا گیا اور ناز و نعم میں اس کی پرورش شروع ہوئی۔ تاہم خاندان نحوستوں کا شکار ہوتا چلا گیا۔ پراسرار اموات کا ایک نا ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوا جس کا آغاز بچے کی آیا کے قتل سے ہوا، پھر اس کی ماں اس کا نشانہ بنی۔ شیظانی قوتیں ہر اس شخص کو ختم کر رہی تھیں جو اس بچے کی راہ میں رکاوٹ بن سکتا تھا۔ آخر کار اس بچے کی اصلیت اس کے باپ پہ بھی آشکار ہو گئی۔ اسے یہ معلوم ہو گیا کہ اس کا بچہ دنیا کے امن کے لئے خطرہ ہے۔ وہ اس کو مارنے کی کوشش کرتا ہے تاہم اپنے ہی بیٹے کے ہاتھوں وہ مارا جاتا ہے۔ اس طرح ایک کے بعد ایک قتل کا سلسلہ چلتا رہتا ہے۔ جس جس کو ڈیمین کی اصلیت معلوم ہوتی ہے وہ شیطان کے چیلوں کا شکار ہوتا جاتا ہے۔ ڈیمین بڑا ہوجاتا ہے اور طاقتور بھی۔ بڑے ہونے کے بعد ڈیمین کس طرح دنیا کے امن کے لئے خطرہ بنتا ہے اور خود کس طرح انجام کار تک پہنچتا ہے، یہ جاننے کے لئے ناول ہی پڑھنا پڑے گا۔

ناول بہت تفصیلی ہے۔ گرچہ یہ حقی صاحب کی اپنی تخلیق کردہ کہانی نہیں ہے تاہم اس کہانی کو اپنی اردو زبان میں پڑھنے کا اپنا ہی مزہ ہے۔ ناول میں حقی صاحب نے اسلامی نقطہ نظر کی وضاحت بھی کی ہے اور اس کے لئے حنیف نامی ایک کردار متعارف کرایا ہے۔ جو اپنے اس خیال کا اظہار کرتا ہے کہ ڈیمین اصل دجال نہیں بلکہ ایک فتنہ ہے۔ ایسا حقی صاحب نے شاید اس لئے کیا ہے کہ ناول پڑھتے ہوئے اسلامی اور عیسائی تصور کا فرق واضح رہے۔ ناول دلچسپ اور تیز رفتار ہے۔ ایک بار ہاتھ میں لینے کے بعد اسے بنا مکمل کئے واپس رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ سسپنس پسند کرنے والے قارئین کو یہ ناول ضرور پسند آئے گا۔

کیا آپ اس تبصرے سے متفق ہیں۔آپ بھی اس کتاب کے بارے میں اپنی رائے دیں۔

اگر آپ نے یہ کتاب پڑھی ہے تو اسے 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹ کریں۔

تشریف آوری کے لئے مشکور ہوں۔

اگلے ہفتے بشریٰ رحمٰن کی کتاب “بہشت” کا تعارف و تبصرہ ملاحظہ کیجئے۔ان شاء اللہ۔

***************

علیم الحق حقی کے قلم سے مزید

چوتھی سمت از علیم الحق حقی

Advertisements

4 thoughts on “068- دجال از علیم الحق حقی”

  1. یہ ناول جب پاکستان کے ایک مقامی روزنامے میں قسط وار شائع ہو رہا تھا تو میں نے اس کی کچھ قسطیں پڑھیں تھیں اور یہ میرے ذہن سے چپک کر رہ گیا تھا۔ پھر میں نے ایک ساتھ اس کے تینوں حصے خریدے۔ بہت سنسنی خیز اور دلچسپ کہانی ہے۔ ایک بار پڑھنا شروع کردیں تو پھر چھوڑنے کا دل نہیں کرتا۔ علیم الحق حقی صاحب کا انتخاب اور ان کا ترجمہ لاجواب ہوتا ہے۔ پہلی کتاب خاص طور پر ایسی ہے کہ ہر ہر پل قاری کو اپنے سحر میں گم رکھتی ہے۔

    Like

  2. حضرت یہ داون لوڈ کیسے ہوگا یہ بتا کر استفادہ کا موقعہ دیں اور یہ ہندوستان میں کسی کتب خانہ میں دستیاب ہوں تو مطلع فرما کر شکدیہ کا موقعہ دیں
    خالد سیفاللہ

    Like

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s