067-The legend of sleepy hollow by Washington Irving

The legend of sleepy hollow by Washington Irving

sleepy hollowمصنف: واشنگٹن ارونگ

زبان: انگریزی

سن اشاعت: 1820

نام ترجمہ: سر کٹا گھڑ سوار

مترجم: ریاض احمد

ناشر: فیروز سنز پبلی کیشنز

واشنگٹن ارونگ، انیسویں صدی کے ایک امریکی مصنف تھے۔ آپ نے زیادہ شہرت اپنی مختصر کہانیوں سے حاصل کی۔ آپ کے کام کو اس وقت کے یورپ میں بھی پسند کیا گیا۔ یعنی آپ کی شہرت بین الاقوامی نوعیت کی تھی۔ کتابستان میں آج آپ کی مختصر کہانیوں کے ایک مجموعے کو موضوع بنایا گیا ہے۔ یہ مجموعہ بھی کافی پرانا ہے۔ یہ ترجمہ 1975 میں ریاض احمد صاحب نے کیا اور فیروز سنز پبلی کیشنز والوں نے شائع کیا۔ انیسویں صدی میں جب یہ کہانیاں شائع ہوئی ہوں گی تو یقیناً بڑوں نے انہیں شوق سے پڑھا ہوگا، لیکن اب انہیں پڑھتے ہوئے بچوں کی کہانیوں جیسا احساس ہوتا ہے۔ ایسا اس لئے ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انسانی معلومات اور علم میں اضافہ ہوتا چلا آیا ہے۔ ہر دور کے بچے پچھلے دور کے بچوں سے تیز اور سمجھدار ہوتے جا رہے ہیں۔ اور یہی وجہ ہے کہ اب ہم ان کہانیوں کو بچوں کی کہانیاں قرار دے رہے ہیں۔

“سر کٹا گھڑ سوار” میں تین کہانیاں شامل ہیں۔ تینوں کہانیاں ماورائی اور ڈراؤنی قصوں پہ مشتمل ہیں۔ ان کہانیوں کے عنوانات ہیں: سرکٹا گھڑ سوار، بھوتوں کا خزانہ اور بیس برس لمبی رات۔

سر کٹا گھڑ سوار، جیسا کہ نام سے ہی واضح ہے ایک ایسے گھڑ سوار کے بارے میں ہے جس کا سر نہیں تھا۔ یہ کہانی دریائے ہڈسن کے کنارے واقع ایک بستی کی ہے جسے “ٹیری ٹاؤن” کے نام سے جانا جاتا تھا۔ اس وادی کو “سوئی ہوئی وادی” بھی کہا جاتا تھا کیونکہ یہاں کے لوگ جاگتی حالت میں بھی سوئے ہوئے سے محسوس ہوتے تھے اور انہیں عجیب و غریب چیزیں نظر آتی تھیں، انہین عجیب و غریب چیزوں میں ایک سر کٹا گھڑ سوار بھی تھا۔ اس گھڑ سوار کی کیا کہانی تھی اور یہ کس طرح گاؤں والوں پہ اثر انداز ہوتا تھا، اس کو جاننے کے لئے تو کہانی ہی پڑھنی پڑے گی۔

مجموعے کی دوسری کہانی، بھوتوں کا خزانہ، کے عنوان سے ہے۔ یہ ڈولف نامی ایک نوجون کی کہانی ہے جو اپنی بیوہ ماں کا واحد سہارا تھا۔ تاہم وہ انتہائی غیر ذمہ دار انسان تھا اور اپنی ماں کی تمام تر کوششوں کے باوجود کسی طرح کا ہنر نہیں سیکھ سکا۔ اس کو سدھارنے کی نیت سے اس کی ماں نے اسے ایک ڈاکٹر کے پاس بھجوا دیا جس سے وہ طب کا علم سیکھ لے۔ اس کی یہ کوشش بھی ناکام ہوئی ڈاکٹر نے اس کے روئے سے مایوس ہوکے اسے اپنے ایک گھر کی نگرانی کے لئے بھجا دیا جو آسیب ذدہ مشہور تھا۔ یہاں سے اس لڑکے کی زندگی میں ایک نیا دور آیا۔ وہ کیا تھا اس کی تفصیل کے لئے تو کہانی ہی پڑھنی پڑے گی۔

مجموعے کی تیسری کہانی، بیس برس لمبی رات ہے۔ یہ رپ فان ونکل کی کہانی ہے جو اپنی بیوی کی بدزبانی سے بےحد نالاں تھا اور اسی وجہ سے اکثر اپنے کتے کے ہمراہ جنگل میں اکیلا گھومتا رہتا تھا۔ اسی آوارہ گردی کے دوران اس کی زندگی میں ایک ایسی رات آئی جو بیس برس طویل تھی۔ اس رات کی صبح جب وہ سو کے اٹھا تو اس کی زندگی کے بیس برس گزر چکے تھے۔ اس کی بیوی مر چکی تھی اور اولاد جوان ہو چکی تھی۔ اس کہانی کو پڑھتے ہوئے اصحاب کہف کا قصہ یاد آتا ہے جو جب اپنی نیند سے بیدار ہوئے تو تین سو برس کا عرصہ گزر چکا تھا۔

مجموعے میں شامل تینوں کہانیاں دلچسپی کی حامل ہیں۔ گرچہ ان موضوعات پہ اب اتنی کہانیاں لکھی اور پڑھی جا چکی ہیں کہ موضوع میں کوئی نیا پن محسوس نہیں ہوتا لیکن یہ اصلی کہانیاں ہیں جن میں بعد میں تبدیلیاں کرکے سینکڑوں کہانیاں بنا لی گئی ہیں۔ اور یہ احساس ان کہانیوں کو پڑھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ ان کی بات ہی الگ ہے۔ اپنے بچپن کو ایک دفعہ محسوس کرنے کے لئے یہ اچھا مجموعہ ہے۔

کیا آپ اس تبصرے سے متفق ہیں۔آپ بھی اس کتاب کے بارے میں اپنی رائے دیں۔

اگر آپ نے یہ کتاب پڑھی ہے تو اسے 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹ کریں۔

تشریف آوری کے لئے مشکور ہوں۔

اگلے ہفتے علیم الحق حقی کی کتاب “دجال” کا تعارف و تبصرہ ملاحظہ کیجئے۔ان شاء اللہ۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s