065- شہرِ محبت از نگہت سیما

شہرِ محبت از نگہت سیما

Shaher-e-Muhabbatمصنفہ: نگہت سیما

صفحات: 152

قیمت: 250 روپے

سن اشاعت: 2009

ناشر: المجاھد پبلشرز، گجرانوالہ

نگہت سیما صاحبہ کا نام خواتین کے لئے شائع ہونے والے پرچے پڑھنے والے قارئین کے لئے قطعی نیا نہیں۔ آپ باقاعدگی سے لکھنے والی مصنفات میں شامل ہیں۔ کئی ناول، ناولٹ اور افسانے آپ کے قلم سے نکل چکے ہیں۔ آپ کی تصنیفات میں سے کچھ عنوان یہ ہیں: ماہِ تمام، پل صراط، انٹلیلکچوئل، خواب رنگ اور راستے وغیرہ۔

شہرِ محبت ایک ناولٹ ہے۔ اس کتاب کا انتساب مصنفہ نے ان محبتوں کے نام کیا ہے جو ناپید ہو چکی ہیں۔ یہ سمیعہ کی کہانی ہے جو دو بہن بھائیوں سمیت اپنے والدین کے ساتھ رہتی تھی۔ سمیعہ اپنی اصلیت سے بےخبر تھی۔ اسے ایسا محسوس ہوتا تھا کہ اس کی والدہ کا رویہ اس کے دونوں بہن بھائیوں کے ساتھ اس کی نسبت سے اچھا ہے۔ گرچہ سمیعہ کو اپنے گھر میں کسی قسم کی تکلیف یا تنگی کا سامنا نہیں تھا لیکن ایک احساس اس کے دل میں موجود تھا کہ شاید وہ اپنی ماں کی سوتیلی بیٹی ہے اور اسی وجہ سے ان کی محبت اس کے لئے تنگ پڑ جاتی ہے۔ سمیعہ کا رویہ اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کے ساتھ اچھا تھا وہ ان کی زندگی کے معاملات میں دلچسپی لیتی تھی اور ہمیشہ ان کی فکر کرتی تھی۔ گھر کا ماحول خوشگوار تھا اور اسی باعث انہوں نے اپنے گھر کا نام “شہر محبت” رکھ دیا اور اسے گھر کے باہر چسپاں بھی کر دیا۔ تاہم سمیعہ کی اپنے ماضی کے متعلق کھوج جاری تھی اور اسی کھوج نے ایک دن اس پہ یہ انکشاف کیا کہ وہ اپنے والدین کی سگی اولاد نہیں ہے بلکہ شادی کے کئی سالوں تک اولاد نہ ہونے کی وجہ سے اس کے موجودہ والدین نے اسے گود لیا تھا۔ وہ اس بات کو جاننے کے بعد گھر چھوڑ کے چلی گئی، اپنے اصلی رشتے داروں کی تلاش میں۔ کچھ مشکلات کے بعد اس نے انہیں ڈھونڈ ہی لیا، جہاں جا کے اسے معلوم ہوا کہ اس کے رشتے داروں کو اس کے عوض رقم کی ادائیگی کی گئی تھی جس کی وجہ سے انہوں نے اسے اس کے موجودہ والدین کے حوالے کر دیا تھا۔ اس خبر سے اسے مزید صدمہ ہوا۔ کچھ وقت ان کے ساتھ گزارنے پہ اسے علم ہوا کہ گرچہ وہ اپنی ماں کی سوتیلی بیٹی تھی اس کے والد وہی تھے اور انہوں نے اولاد نہ ہونے پہ اس کی اصل ماں سے باقاعدہ شادی کی تھی تاہم اس کی ماں، اسے جنم دینے کے بعد دنیا سے رخصت ہو گئی تھیں اور اس کے والد اسے لے کے اپنی پہلے بیوی کے پاس آ گئے تھے تاہم انہوں نے اس کے ننھیالی خاندان کو کچھ رقم کی ادائیگی کی تھی تاکہ ان کی گزر اوقات اچھے انداز سے ہو سکے۔ سمیعہ تمام باتیں جاننے کے بعد شرمندہ بھی تھی اور اپنے بہن بھائیوں کی کمی بھی محسوس کر رہی تھی۔ دوسری طرف اس کی سوتیلی والدہ بھی اپنے سلوک پہ شرمندگی محسوس کر رہی تھیں۔ سمیعہ گھر واپس آ گئی اور سب پھر سے ہنسی خوشی رہنے لگے۔

شہر محبت ایک حساس موضوع پہ لکھا گیا ناول ہے۔ گود لئے گئے بچوں کے دکھوں کو بیان کرتی ہوئی یہ کہانی حساسیت اور محبت کے امتزاج سے بنی ہے۔ کسی انسان کو اپنی عمر کا ایک حصہ گزارنے کے بعد علم ہو کہ جن لوگوں کے درمیان وہ رہ رہا ہے وہ اس کے اپنے نہیں بلکہ مکمل اجنبی ہیں، تو اس کی شخصیت کس طرح بکھرتی ہے، یہ اس کہانی میں بتایا گیا ہے۔ شناخت اور اپنوں کی تلاش انسان سے کیا کیا کرواتی ہے، وہ اپنا سب کچھ کس طرح داؤ پہ لگاتا ہے یہ سب اس ناول میں پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے۔ تاہم یہ کہانی شہر محبت کی ہے یعنی ایسے گھر کی، جس میں اپنی اولاد نہ ہونے کے باوجود بھی اسے اپنی اولاد کا درجہ ہی دیا گیا تھا اور اسی باعث سمیعہ اپنی حقیقت جاننے کے بعد بھی واپس اسی گھر میں آ گئی۔

نگہت سیما نے کہانی کو محبت سے لکھا ہے۔ کہانی کے اتار چڑھاؤ کے دوران کسی کڑواہٹ اور تلخی کا احساس نہیں ہوتا اور کہانی پڑھنے والے کے دماغ پہ ایک خوشگوار تاثر چھوڑتی ہے۔

کیا آپ اس تبصرے سے متفق ہیں۔آپ بھی اس کتاب کے بارے میں اپنی رائے دیں۔

اگر آپ نے یہ کتاب پڑھی ہے تو اسے 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹ کریں۔

تشریف آوری کے لئے مشکور ہوں۔

اگلے ہفتے اشفاق احمد کی کتاب “زاویہ اول” کا تعارف و تبصرہ ملاحظہ کیجئے۔ان شاء اللہ۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s