064- مصحف از نمرا احمد

مصحف از نمرا احمد

Mushuf-by-Nimra-Ahmedمصنفہ: نمرہ احمد

ناشر: خواتین ڈائجسٹ

نمرہ احمد، نسبتاً نئی اور کم عمر لکھاری ہیں۔ اس کے باوجود آپ کی تحریروں نے بہت پسندیدگی حاصل کی ہے۔ آپ کی تحاریر مختلف ڈائجسٹس میں باقاعدگی سے چھپ رہی ہیں۔ آپ کے قلم سے ناول، ناولٹ اور کئی افسانے نکل چکے ہیں۔ کئی قارئین آپ کے لکھے ہوئے کو عمیرا احمد کے لکھے جیسا قرار دیتے ہیں۔ ایسا شاید موضوعات کے چناؤ کی وجہ سے ہے۔ نمرا احمد کے موضوعات میں مذہب بھی ایک موضوع ہے۔ آج کا زیر گفتگو ناول “مصحف” کا موضوع بھی مذہب سے متاثرہ ہے۔ اس کے علاوہ جنت کے پتے بھی ایک ایسا ہی ناول ہے۔ نمرا احمد کے لکھے ہوئے دیگر ناولوں میں قراقرم کا تاج محل، بیلی راجپوتاں کی ملکہ، سانس ساکن تھی وغیرہ شامل ہیں۔

“مصحف” کا لفظ صحیفے سے لیا گیا ہے یعنی وہ الہامی کتاب جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پہ نازل کی۔ ناول میں مصحف کا لفظ قرآن پاک کے لئے استعمال کیا گیا ہے اور ناول کا مرکزی خیال یہی کتاب ہے۔ ڈائجسٹ میں شائع ہونے کی وجہ سے اس کہانی میں بھی وہ تمام لوازمات شامل ہیں جو ڈائجسٹی کہانیوں کا خاصہ ہیں۔ کہانی کا مرکزی کردار ایک لڑکی، محمل ابراہیم، ہے جس کے والدین کا انتقال ہو چکا ہے۔ وہ اپنے ددھیالی رشتے داروں کے ساتھ مقیم تھی لیکن اس کے والدین کی جائداد پہ اس کے لالچی چچا اور تایا کا قبضہ تھا۔ ان کا رویہ اپنے بھائی کی اولاد کے ساتھ ناروا تھا۔ محمل اپنی زندگی سے تنگ اور اکتائی ہوئی تھی۔ اس کا رویہ گھر والوں کے ساتھ بدتمیزانہ تھا جس کے باعث زیادہ تر لوگ اسے ناپسند کرتے تھے۔ محمل کو روز بس اسٹاپ پہ ایک سیاہ فام لڑکی ملتی تھی۔ ایک دن اس سیاہ فام لڑکی نے محمل کو ایک کتاب دی اور کہا کہ اس میں تمہارے ماضی، حال اور مستقبل کا ذکر ہے۔ محمل وہ کتاب اس سے لے لیتی ہے۔ گھر آ کے جب وہ اس کتاب کو دیکھتی ہے تو اس میں ایسا کچھ اسے نہیں ملتا، وہ اس کتاب کو اس سیاہ فام لڑکی کو واپس کر دیتی ہے۔ وہ کتاب دراصل میں کسی جادو کی کتاب نہیں تھی جیسا کہ محمل نے سمجھا تھا، بلکہ وہ قرآن پاک تھا، جو کتاب ہدایت ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ محمل کی زندگی مزید مشکلات کا شکار ہوتی چلی جاتی ہے۔ پھر اس کی ملاقات فرشتے سے ہوتی ہے جو ایک مسجد میں معلمہ تھی وہ اسے محمل کو مذہب کی طرف متوجہ کرتی ہے اور قرآن پاک کی تفسیر بتاتی تھی اور یہ بھی کہ اس کتاب میں تمام مسائل کا حل موجود ہے۔ محمل بالآخر مذہب کی طرف متوجہ ہو جاتی ہے اور آہستہ آہستہ اس کی زندگی بدلنا شروع ہوتی ہے۔

محمل کی کہانی کا کیا انجام ہوا، اس کے لئے تو ناول ہی پڑھنا پڑھے گا۔ ناول کا خیال اچھا ہے۔ یہ ایک طرح سے مسلمانوں کی یاد دہانی کرواتا ہے جو زندگی کی تیز رفتاری میں الجھ کے قرآن سے ہدایت لینے کی روایت ترک کر چکے ہیں۔ نتیجتاً زندگی مسائل کے انبار میں الجھ کے رہ گئی ہے۔ تاہم مصنفہ کی کم عمری کے باعث کہانی میں گہراؤ کا عنصر کم نظر آتا ہے۔ محمل کی کہانی ڈائجسٹس میں شائع ہونے والی دیگر کہانیوں کی طرح ہی معلوم ہوتی ہے۔ مصنفہ کو کہانی کے تانے بانے بنانے میں بھی اتنی ہی محنت کرنی چاہئے جتنی انہوں نے قرآن پاک کی تفسیر کو شامل کرنے کے لئے کی ہے۔

کیا آپ اس تبصرے سے متفق ہیں۔آپ بھی اس کتاب کے بارے میں اپنی رائے دیں۔

اگر آپ نے یہ کتاب پڑھی ہے تو اسے 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹ کریں۔

تشریف آوری کے لئے مشکور ہوں۔

اگلے ہفتے نگہت سیماکی کتاب “شہرِ محبت” کا تعارف و تبصرہ ملاحظہ کیجئے۔ان شاء اللہ۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s