063- پہلی محبت کے آنسو از اے حمید

پہلی محبت کے آنسو از اے حمید

Pehli Muhabbat K Aansooمصنف: اے حمید

صفحات: 662

پہلی محبت کے آنسو اے حمید صاحب کی تصنیف ہے۔ اے حمید صاحب کا نام پاپولر فکشن پڑھنے والوں کے لئے نیا اور اجنبی نہیں۔ آپ بچوں کے بھی جانے مانے ہوئے ادیب ہیں۔ “پہلی محبت کے آنسو” ایک طویل ناول ہے جو ایک اردو پرچے میں قسط وار شائع ہوتا رہا ہے اور کتابی شکل میں بھی دستیاب ہے۔

کتاب ہاتھ میں لینے سے پہلے قاری کو اندازہ ہونا چاہئے کہ یہ ناول پاپولر فکشن کی کیٹیگری سے تعلق رکھتا ہے اور وقت گزاری کے طور پہ پڑھا جا سکتا ہے۔ ناول میں کئی غیر فطری کردار موجود ہیں اس لئے اس ناول میں حقیقت ڈھونڈنے کی بجائے اس کو فکشن کے تناظر میں پڑھنا مناسب رہے گا۔ “پہلی محبت کے آنسو” بنیادی طور پہ ایک رومانوی داستان ہے جس میں کئی موڑ ہیں۔ یہ سمیرا اور یاقوت کی محبت کی کہانی ہے۔ سمیرا ایک پڑھی لکھی اور خوبصورت لڑکی تھی جو اپنے والد کی وفات کے بعد اپنے نوکر اور اس کی بیٹی کے ساتھ ایک الگ تھلگ علاقے میں ایک مکان خرید کر شفٹ ہو گئی تھی۔ اس مکان میں منتقل ہونے کے بعد اس کے ساتھ کچھ پراسرار واقعات پیش آئے لیکن وہ ان کی کوئی توجیہہ سمجھ نہیں سکی۔ پھر اس پراسرار خوشبو مستقل اس کے ساتھ رہنے لگی جو اس کے سوا کسی اور کو محسوس نہیں ہوتی تھی۔ یہ خوشبو یاقوت کی تھی جو انسانی روپ دھارے ایک قدیم روح تھی جس کی اپنی ایک الگ کہانی تھی۔ وہ اپنی زندگی میں ایک معصوم لڑکی کے محبت بھرے دل کو توڑنے کی غلطی کر چکا تھا اور اب اس کا کفارہ اس کی روح ادا کر رہی تھی۔ اپنی غلطی کی تلافی کے لئے اسے کسی معصوم لڑکی کی محبت حاصل کرنا تھی جس کی محبت اس کے گناہوں کو دھو سکے۔ وہ صدیوں سے کسی ایسی لڑکی کی تلاش میں تھا جو اس سے سچی محبت کرے۔ اسی تلاش میں ایک دن سمیرا اس کے سامنے آ گئی اور اس نے فیصلہ کر لیا کہ سمیرا ہی اس کی سچی محبت ہے۔

سمیرا بھی یاقوت کی محبت میں گرفتار ہو گئی۔ وہ یاقوت کا ہاتھ تھامے اس دنیا میں داخل ہوگئی جس کا وہ باسی تھا۔ یاقوت نے اسے قدیم اور جدید دونوں زمانوں کی سیر کرائی۔ سمیرا گرچہ یاقوت کے ساتھ خوش تھی لیکن یاقوت کو احساس تھا کہ سمیرا انسان ہے اور وہ روح۔ دونوں کا ملاپ صرف سمیرا کی موت کے بعد ہی ہو سکتا ہے یہی وجہ تھی کہ وہ سمیرا سے دور رہنے لگا اور جب سمیرا کی زندگی میں سلیمان آیا تو اس نے کسی قسم کی مداخلت نہ کی۔ سمیرا اور سلیمان کی شادی ہو گئی۔ سلیمان توقعات کے برخلاف ثابت ہوا اور سمیرا کی ازدواجی زندگی مشکلات سے دوچار رہی۔ سمیرا نے آہستہ آہستہ اپنی زندگی محدود کر لی۔ وہ دوسروں کی مدد کرنے میں خوشی محسوس کرتی اور عبادات میں مشغول رہتی۔ یاقوت کا خیال اس کے ہمراہ رہتا، وہ کئی مرتبہ اس کی خوشبو محسوس کرنے کی کوشش کرتی لیکن ہمیشہ ناکام رہتی۔ پھر ایک دن اس کی روح اس کے جسم سے آزاد ہوگئی۔ یاقوت اسی وقت کا منتظر تھا جب دونوں کی روحیں یکجا ہو سکیں اس کی محبت کی جیت کا وقت آ گیا تھا۔ صدیوں کے سفر پہ محیظ اس کا کفارا ادا ہونے والا تھا۔ لیکن دنیا میں ایک پاکیزہ زندگی گزارنے کی وجہ سے سمیرا کی روح اس کے مقام سے بہت آگے نکل چکی تھی۔ ان کا ملاپ مرنے کے بعد بھی ممکن نہیں ہو سکا تھا اور صدیوں پہ مشتمل یاقوت کا سفر اب بھی جاری تھا۔

ناول کا مرکزی خیال دلچسپ ہے۔ تاہم کہانی میں بے شمار واقعات کی بھر مار کی وجہ سے قاری کئی دفعہ ڈی ٹریک ہوتا ہوا محسوس کرتا ہے۔ کہانی کے وسط تک پہنچ کے یاقوت کا کردار بالکل غائب ہو جاتا ہے اور کہانی صرف سمیرا کی رہ جاتی ہے۔ قاری جو یاقوت کی کہانی کو بھی جاننا چاہتا ہے وہ مایوسی محسوس کرتا ہے۔ سمیرا کی کہانی بہت دکھ بھری تھی اور طوالت کے ساتھ پیش کی گئی ہے۔ شاید ایسا انجام کے پیش نظر کیا گیا ہے۔ جہاں مرنے کے بعد سمیرا کے درجات یاقوت سے زیادہ دکھانا مطلوب تھا۔ بہر حال وقت گزاری کے لئے یہ کتاب پڑھی جا سکتی ہے۔

کیا آپ اس تبصرے سے متفق ہیں۔آپ بھی اس کتاب کے بارے میں اپنی رائے دیں۔

اگر آپ نے یہ کتاب پڑھی ہے تو اسے 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹ کریں۔

تشریف آوری کے لئے مشکور ہوں۔

اگلے ہفتے نمرا احمد کی کتاب “مصحف ” کا تعارف و تبصرہ ملاحظہ کیجئے۔ان شاء اللہ۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s