062- ابتدائی دور کے 28 مسلمان صوفی اور فلاسفر از ایس۔ ایم۔ بجلی

ابتدائی دور کے 28 مسلمان صوفی اور فلاسفر از ایس۔ ایم۔ بجلی

Musalman-sufi-aur-philosphers-s-m-bijli-Ilm-o-Irfan-Publishersمصنف: ایس۔ ایم۔ بجلی

مترجم: مسعود مفتی

صفحات: 168

قیمت: 200 روپے

سن اشاعت: 2013

ناشر: سیونتھ اسکائی پبلی کیشنز

پروفیسر شاہ محمد بجلی صاحب کا تعلق تامل ناڈو سے ہے۔ آپ علی گڑھ یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہیں۔ آپ کے قلم سے تقابلی مذاہب، فلسفے اور مابعد الطبیعات کے موضوعات پہ کتب نکل چکی ہیں۔ کتاب میں موجود آپ کے تعارف کے مطابق اب تک دس کتب آپ تحریر کر چکے ہیں۔ زیر گفتگو کتاب ابتدائی دور کے اٹھائیس مسلمان صوفی اور فلاسفر، کتابستان میں شامل ہونے والی آپ کی پہلی کتاب ہے۔ ہمیں امید ہے کہ باقی کتابیں بھی ان شاء اللہ کتابستان کا موضوع بنیں گی۔

کتاب میں کل اٹھائیس صوفی اور فلاسفر حضرات کا ذکر ہے۔ کتاب کے باقاعدہ آغاز سے پہلے مصنف نے ایک صفحہ قارئین کی توجہ کے لئے لکھا ہے جس میں انہیں پیش لفظ کی اہمیت سے آگاہ کیا ہے۔ مصنف کے بقول وہ پیش لفظ دو مرتبہ پڑھتے ہیں، ایک دفعہ کتاب پڑھنے سے پہلے اور ایک مرتبہ کتاب پڑھنے کے بعد تاکہ ان وجوہات سے آگاہ ہو سکیں جن کے باعث مصنف نے وہ کتاب تحریر کی ہے۔ زیر گفتگو کتاب کا پیش لفظ چار صفحات پہ مشتمل ہے اور اس میں مصنف نے اس تحریک کو بیان کیا ہے جو کتاب لکھنے کا سبب بنی۔

کتاب میں جن صوفی اور فلاسفر حضرات کا ذکر ہے ان کے نام یہ ہیں:
دھول نن مصری، رابعہ بصری، بایزید البسطامی، منصور حلاج، الکندی، الفارابی، ابن رشد، ابن عربی، ابن سینا، سہروردی المقتول، عمر خیام، ناصر خسرہ، حکیم سنائی، ابن فرید، نصیر الدین طوسی، شیخ فرید الدین عطار، الغزالی، رومی، ابو سعد بن ابی الخیر، نظامی آف گانجا، سعدی، حافظ شیراز، جامی، امیر خسرو، ھوشنگ دی پشڈاڈی، عنصر المعالی کیکاؤس، جلال الدین دوانی، اور حسین وعظ خاشفی۔

فہرست پہ نظر ڈالنے سے کئی معروف نام نظر آتے ہیں۔ تاہم کئی ایسے نام بھی ہیں جو عوامی سطح پہ اتنے جانے پہچانے نہیں بلکہ انجان ہیں۔ مفکرین میں سے زیادہ تر کا تعلق بلخ اور اندلس سے ہے۔ انہوں نے نہ صرف اسلام کو چار چاند لگائے بلکہ سائنس، فلسفہ اور اخلاقیات کے میدانوں میں بھی گرانقدر خدمات انجام دیں۔ کتاب میں محدود جگہ کی وجہ سے ان مفکرین کے کارناموں پہ تفصیلی روشنی ڈالنا ممکن نہیں تھا۔ اس لئے زیادہ تر مفکرین کی زندگی کے بارے میں خاکے پیش کئے گئے ہیں اور ان کی زندگی کا تعارف لکھا گیا ہے۔ ان خاکوں میں مصنف نے کوشش کی ہے کہ ان مفکرین کے پیغامات کے چیدہ چیدہ نکات بھی شامل کر دئے جائیں جو فکر اور سوچ کو نئی سمت اور روشنی دینے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ مصنف نے کئی اچھی باتیں شامل کی ہیں۔ ذیل میں ہم کچھ اقتباسات پیش کر رہے ہیں۔

حضرت رابعہ بصری کی دعا، ” میرے خدا ستارے چمک رہے ہیں اور انسانوں کی آنکھیں بند ہیں اور بادشاہوں نے اپنے دروازے بند کر لئے ہیں اور یہ ایک عاشق اپنے معشوق کے ساتھ تنہا ہے اور میں یہاں تیرے ساتھ تنہا ہوں۔”

سعدی کے اقوال:

” کسی یتیم کے سامنے اپنے بچے کو پیار نہ کرو۔

کیونکہ اگر یتیم روتا ہے۔۔۔ کون اس کی اشک شوئی کے لئے موجود ہے؟

اگر یتیم اپنے والدین کے سائے سے محروم ہو چکا ہے۔

اسے اپنے سینے سے لگا لو

اور اسے والدین کی محبت عطا کرو

یاد رکھو اگر یتیم روتا ہے

خدا کا تخت کانپتا ہے

اگر تم اپنے بچے کو پیار کرنا چاہتے ہو

پہلے یتیم کو پیار کرو۔”

“ایک کتا روٹی کے اس ٹکڑے کو کبھی نہ بھولے گا جو اسے عطا کیا جائے گا خواہ اس کے بعد آپ اس کے سر پہ سینکڑوں پتھر برسائیں۔

روئے زمین پہ بےوقعت ترین اشیاء درج ذیل ہیں۔

بنجر زمین پہ بارش

سورج کی روشنی میں چراغ

ایک اندھے شخص کے نکاح میں دی گئی خوبصورت عورت

ناشکرے کے ساتھ کی جانے والی نیکی۔”

عنصر المعالی کیکاؤس کے اقوال:

” ہر پرندہ اپنے جیسے پرندے کے ساتھ اڑتا ہے۔”

“یہ ایک انتہائی شرمناک بات ہے کہ رکھوالے کے لئے بھی رکھوالے کی ضرورت ہو۔”

یہاں تمام مفکرین کے اقوال پیش کرنا ممکن نہیں۔ اس لئے ان کی تفصیلات جاننے کے لئے کتاب کا مطالعہ ہی کرنا پڑے گا۔ یہ کتاب خصوصی طور پہ نوجوان نسل کو مدنظر رکھ کے لکھی گئی ہے جو اپنے آباؤ اجداد کے کارناموں اور فکری بلندی سے ناآشنا ہے۔ ہماری رائے میں بھی آج کل کے نوجوانوں کے لئے اس کتاب کا مطالعہ مفید رہے گا اور وہ مفکرین کی فکری سوچ سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔

کیا آپ اس تبصرے سے متفق ہیں۔اس کتاب کے بارے میں تبصرہ کریں ۔

اگر آپ نے یہ کتاب پڑھی ہے تو اسے 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹ کریں۔

تشریف آوری کے لئے مشکور ہوں۔

اگلے ہفتے اے حمید کی کتاب “پہلی محبت کے آنسو ” کا تعارف و تبصرہ ملاحظہ کیجئے۔ان شاء اللہ۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s