061- دل من مسافر من از عنیزہ سید

دل من مسافر من از عنیزہ سید

sshot-622مصنفہ: عنیزہ سید
صفحات: 640

عنیزہ سید صاحبہ کی ایک تخلیق کا ہم پہلے بھی تعارف پیش کر چکے ہیں۔ آج بات ہونے والی ہے آپ کے ایک اور ناول کے بارے میں، جس کا عنوان ہے “دل من مسافر من”۔ ناول کا عنوان فیض احمد فیض کی مشہور نظم سے لیا گیا ہے۔ ذیل میں قارئین کی دل چسپی کے لئے پیش کی جا رہی ہے۔

دلِ‌ من مسافرِ من
ہوا پھر سے حکم صادر
دیں گلی گلی صدائیں
کریں رخ نگر نگر کا
کہ سراغ کوئی پائیں
کسی یار نامہ بر کا
ہر اک اجنبی سے پوچھیں
جو پتا تھا اپنے گھر کا
سر کوئے ناشنایاں
ہمیں دن سے رات کرنا
کبھی اِس سے بات کرنا
کبھی اُس سے بات کرنا
تمہیں کیا کہوں کہ کیا ہے
شبِ غم بری بلا ہے
ہمیں یہ بھی تھا غنیمت
جو کوئی شمار ہوتا
ہمیں کیا برا تھا مرنا
اگر ایک بار ہوتا !!!

ناول کے اتنے خوبصورت عنوان کے بعد اس سے وابستہ توقعات بڑھ جاتی ہیں۔ مصنفہ نے ان توقعات پہ پورا اترنے کی پوری کوشش کی ہے تاہم اس میں وہ کتنی کامیاب ہو سکی ہیں اس کا فیصلہ قاری ناول پڑھنے کے بعد ہی لگا سکے گا۔ کتاب کے آغاز میں دئے گئے تعارف کے مطابق یہ ناول ایک خواتین ڈائجسٹ میں مسلسل تینتیس ماہ تک شائع ہوتا رہا ہے۔ اتنے طویل عرصے تک اس کا مسلسل شائع ہونا یقیناً اس ناول کی قارئین میں پسندیدگی کی سند ہے۔ اتنے طویل عرصے تک شائع ہونے کا مطلب یہ بھی ہے کہ ناول تفصیلی انداز میں لکھا گیا ہے اور اس کے کرداروں کی جزیات پہ توجہ دی گئی ہے۔

دل من مسافر من کہانی کا آغاز براہ راست کیا گیا ہے۔ کرداروں سے آغاز میں متعارف نہیں کروایا گیا بلکہ کہانی کے بڑھنے کے ساتھ ساتھ، کسی پیاز کی پرت کی طرح کردار آہستہ آہستہ کھلتے ہیں۔ ایسا انداز اکثر خواتین لکھاریوں کی تصانیف میں پایا جاتا ہے۔ غالباً ماہنامہ پرچوں میں قسط وار شائع ہونے کی وجہ سے مصنفات یہ انداز اپناتی ہیں تاکہ ہر قسط میں سسپنس کا عنصر موجود رہے اور قاری اگلی قسط کا منتظر رہے۔ تاہم یہی انداز کہانی کو مکمل ناول کی شکل میں پڑھنے کی صورت میں قاری کی اکتاہٹ کا باعث بنتا ہے۔ اور وہ اگلے صفحات پلٹ کر تفصیلات جاننے کی کوشش کرتا ہے۔ نتیجتاً ناول پڑھنے میں وہ مزا نہیں آتا جس کی قاری کو توقع ہوتی ہے۔

اس ناول میں کئی کردار ہیں۔ تمام کردار گو کہ آپس میں کسی ایک وجہ سے منسلک ہیں۔ تاہم ان میں بہت تنوع ہیں۔ گاؤں کے ماسٹر ہدایت اللہ سے شروع ہوکے، ناول کے ہیرو فراز جو کہ ماسٹر ہدایت اللہ کا شاگرد تھا، سے لے کے مشہور مصور شاہنواز احمد ، لیلیٰ اور لینا، دو ایسی لڑکیاں جو ایسے عیسائی خاندان سے تعلق رکھتی تھیں جو انگریزوں کے جانے کے بعد بھی یہیں بسا رہا اور انتہائی غربت کے حالات سے گزر رہا تھا۔

یہ تمام کردار آپس میں جس لڑی کی وجہ سے پروئے ہوئے تھے وہ اس سے انجان تھے۔ کہانی کے مختلف تانے بانے سے گزر کے وہ ایک دوسرے کی حقیقت سے آشنا ہوتے ہیں۔ ناول کو رومانوی کہانی نہیں کہا جا سکتا۔ گرچہ اس میں رومانس کی جھلک موجود ہے تاہم یہ ناول کا مرکزی خیال نہیں ہے۔ ناول میں مصنفہ نے کئی پیغامات دینے کی کوشش کی ہے۔ مصنفہ کے مطابق دنیا میں ہر شخص کے ذمے کام ہوتے ہیں۔ ہر شخص کی ذمہ داریاں پہلے سے طے شدہ ہوتی ہیں اور وقت آںے پہ وہ انہیں پورا کرتا ہے۔ جیسے کہانی کا مرکزی کردار فراز، جو نا چاہتے ہوئے بھی ایسی صورتحال کا حصہ بن گیا جس میں وہ واحد ایسا شخص تھا جو ناول کے تمام کرداروں سے منسلک تھا اور ان کے اعتماد کا حامل تھا۔ ماسٹر ہدایت اللہ، ایک ایسا شخص، جس نے اپنے اردگرد موجود تمام لوگوں کو ہدایت اور نیکی کا رستہ دکھایا، لیکن اس کی اپنی اولاد گمراہی کا شکار ہوگئی۔ ماسٹر ہدایت اللہ اپنی تمام کوشش کے باوجود اپنے بیٹے کو راہ راست پہ نہ لا سکا، لیکن مصنفہ کے بقول ماسٹر ہدایت اللہ کے لئے یہ سب پہلے سے طے شدہ تھا۔ دوسری طرف وہی نالائق اولاد، جس میں دنیا جہاں کی برائیاں بھری تھیں ایک عیسائی عورت کو مسلمان کرنے کی نیکی کمانے میں کامیاب ہو گیا۔۔۔۔۔

مصنفہ نے کافی مشکل اور مختلف خیال پیش کیا ہے اور اس پہ محنت بھی بہت کی ہے۔ تاہم کہانی پیش کرنے کا انداز ایسا ہے کہ قاری کئی مقام پہ اکتاہٹ اور بوریت محسوس کرتا ہے۔ ناول کو مکمل کرنا ایک صبر آزما کام بن جاتا ہے۔ ناول میں جہاں عیسائی خاندان کا ذکر ہے وہاں ان کے مکالمے انکی اینگلو انڈین اردو میں لکھے گئے ہیں۔ جنہیں پڑھنے سے کہانی کی روانی ایک دم سے ڈسٹرب ہوتی ہے۔ کئی مقامات پہ مصنفہ نے ان کی سادہ اردو الگ سے پیش کی ہے اور کئی مقامات پہ وہ ایسا کرنا بھول گئی ہیں۔ نا ہی کتاب کے ناشر نے ان کی توجہ اس طرف دلائی ہے۔ اس سے بیان میں ناہمواری کا تاثر آتا ہے اور قاری مزید الجھن کا شکار ہو جاتا ہے۔ یہ چھوٹی چھوٹی باتیں ایسی ہیں جن کی وجہ سے ایک اچھی کتاب کا مزا بھی کم ہوجاتا ہے۔ یہ مصنف کے ساتھ ساتھ ناشر کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ کتاب کو اچھی طرح پیش کرنے میں اپنا کردار ادا کرے۔

ان تمام باتوں کے باوجود ایک مختلف خیال پہ کہانی لکھنے پہ مصنفہ مبارک باد کی مستحق ہیں۔ اللہ کرے زور قلم اور زیادہ۔

کیا آپ اس تبصرے سے متفق ہیں۔اس کتاب کے بارے میں تبصرہ کریں ۔

اگر آپ نے یہ کتاب پڑھی ہے تو اسے 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹ کریں۔

تشریف آوری کے لئے مشکور ہوں۔

اگلے ہفتے ایس۔ ایم۔ بجلی کی کتاب “ابتدائی دور کے 28 مسلمان صوفی اور فلاسفر ” کا تعارف و تبصرہ ملاحظہ کیجئے۔ان شاء اللہ۔

***************

عنیزہ سید کے قلم سے مزید

شب گزیدہ از عنیزہ سید

Advertisements

One thought on “061- دل من مسافر من از عنیزہ سید”

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s