060- A thousand splendid suns by Khaled Hosseini

060- A thousand splendid suns by Khaled Hosseini

a-thousand-splendid-suns-movie-posterمصنف: خالد حسینی
زبان: انگریزی
صفحات: 219
سن اشاعت: 2007

خالد حسینی افغان امریکی مصنف ہیں۔ آپ کی پیدائش افغانستان کی ہے لیکن آپ کے والد ایک سفیر تھے جس کی وجہ سے آپ کا زیادہ تر وقت ملک سے باہر گزرا۔ بعد میں افغانستان کے حالات کے باعث آپ کے خاندان نے امریکہ میں پناہ حاصل کر لی اور آپ بھی وہیں مقیم ہو گئے۔ “اے تھاؤزینڈ سپلینڈڈ سنز” آپ کے قلم سے نکلا ہوا دوسرا ناول ہے۔ آپ کا پہلا ناول ” دی کائٹ رنر” تھا جس نے آپ کو بہت زیادہ شہرت دلائی۔ یہ دوسرا ناول بھی توقعات پہ پورا اترا ہے اور اس نے بھی بیسٹ سیلر ناول کا درجہ حاصل کیا ہے۔ حال ہی میں آپ کا تیسرا ناول بھی شائع ہوا ہے امید ہے کہ یہ بھی آپ کے باقی ناولوں کی طرح مقبولیت کی سند حاصل کرنے میں کامیاب رہے گا۔ کتابستان میں ہماری کوشش رہے گی کہ آپ کے دیگر دو ناولوں پہ بھی بات کی جائے۔

“اے تھاؤزینڈ سپلینڈڈ سنز” کا اردو میں ترجمہ “ہزار شاندار سورج” ہو سکتا ہے۔ یہ ناول گرچہ انگریزی زبان میں لکھا گیا ہے لیکن اس کی کہانی افغانستان سے اٹھائی گئی ہے۔ مصنف گرچہ اب امریکہ میں مقیم ہیں لیکن ہم اس ناول کو افغان ادب کی کیٹیگری میں رکھ سکتے ہیں۔ مصنف کے لکھے ہوئے پہلے ناول، دی کائٹ رنر، کو باآسانی مردوں کی کہانی کہا جا سکتا ہے۔ اس بات کا مصنف نے خود اعتراف بھی کیا ہے اور اسے باپ بیٹے کی کہانی قرار دیا ہے۔ اسی طرح اس ناول کو عورتوں کی کہانی کہا جا سکتا ہے اور مصنف کے بقول یہ ماں بیٹی کے تعلق کی کہانی ہے۔

ناول کی کہانی دو عورتوں، مریم اور لیلیٰ، کے گرد گھومتی ہے جن میں ایک مرد مشترک تھا، یعنی ان کا شوہر رشید۔ ناول کے چار حصے ہیں۔ پہلے حصے میں مریم کی کہانی بیان کی گئی ہے۔ مریم ایک امیر باپ کی ناجائز اولاد تھی اور شہر دور ایک علاقے میں اپنی ماں کے ساتھ رہتی تھی۔ اس کا باپ ہفتے میں ایک دن اس سے ملنے آتا تھا لیکن وہ اسے کبھی شہر میں اپنے گھر نہیں لے گیا جہاں اس کے باقی بچے رہتے تھے۔ ایک دن مریم اپنی ماں سے چھپ کے اپنے باپ سے ملنے اس کے شہر والے گھر چلی گئی لیکن اس کا باپ اس سے نہیں ملا۔ مریم جب مایوسی کی حالت میں گھر واپس آئی تو معلوم ہوا کہ اس کی ماں نے اس کی جدائی میں خود کشی کر لی ہے۔ مجبوراً مریم کے باپ کو مریم کو اپنے ساتھ لے جانا پڑا۔ اس نے جلد ہی مریم کی شادی اس سے تیس سال بڑے ایک موچی سے کر دی جس کا نام رشید تھا اور مریم کو اپنے باپ کا گھر چھوڑنا پڑا۔ کافی عرصہ گزرنے کے بعد بھی جب مریم، رشید کو کوئی زندہ اولاد دینے میں کامیاب نہ ہو سکی تو رشید کا رویہ اس کے ساتھ بےحد خراب ہو گیا۔ وہ اسے مارتا پیٹتا اور گالیاں دیتا۔

ناول دوسرا حصہ لیلیٰ کی کہانی سے شروع ہوتا ہے۔ لیلی مریم سے ایک نسل چھوٹی تھی۔ لیلیٰ کی بچپن سے طارق نامی ایک لڑکے سے دوستی تھی جو بڑے ہوتے ہوتے محبت میں تبدیل ہو گئی۔ افغانستان کے حالات خراب ہوئے تو طارق کے خاندان والوں نے ہجرت کرنے کا ارادہ کرلیا۔ لیلیٰ اور طارق کی جدائی کا مرحلہ آیا تو آخری ملاقات میں تمام حدیں پار ہوگئیں۔ لیلیٰ کے خاندان نے بھی ہجرت کا ارادہ کیا لیکن ایک راکٹ کے حملے میں اس کا تمام خاندان مارا گیا اور وہ خود بری طرح زخمی ہو گئی۔ زخمی لیلیٰ کو مریم اور رشید اپنے گھر لے آئے۔

صحتیابی کے بعد لیلیٰ کو علم ہوا کہ وہ طارق کے بچے کی ماں بننے والی ہے۔ انہی دنوں اطلاع آئی کہ طارق مارا گیا ہے نتیجتاً لیلیٰ رشید سے شادی کے لئے راضی ہوگئی۔ دوسری طرف رشید بھی اولاد کے لئے دوسری شادی کرنا چاہتا تھا۔ لیلیٰ نے ایک بیٹی کو جنم دیا۔ جس کا نام عزیزہ رکھا گیا۔ بیٹی کی پیدائش پہ رشید خوش نہیں تھا۔ دوسری طرف مریم اور لیلیٰ آپس میں گہری دوست بن گئی تھیں۔ لیلیٰ نے دوسری دفعہ ایک بیٹے کو جنم دیا جو رشید کا بیٹا تھا اور اس کا نام زلمائی رکھا گیا۔ لیلیٰ اور مریم نے رشید سے تنگ آکے گھر سے بھاگنے کی کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہو سکیں۔ اس واقعے کے بعد رشید کا رویہ ان دونوں کے ساتھ بہت خراب ہو گیا اور اس نے انہیں کافی سزا دی۔

افغانستان کے حالات خراب ہوتے گئے۔ رشید کا کاروبار تباہ ہو گیا۔ اس نے عزیزہ کو ایک یتیم خانے میں بھیج دیا۔ بےچاری لیلیٰ، ممتا کی ماری اس سے ملنے جاتی اور محرم کے بغیر گھر سے باہر نکلنے پہ کئی کئی درے کھاتی۔ انہی حالات میں ایک دن طارق واپس آگیا۔ اس کے مرنے کی اطلاع جھوٹی تھی۔ مریم نے لیلیٰ کو طارق کے ساتھ جانے کا کہا اور خود رشید کو قتل کرکے پولیس کے سامنے پیش ہو گئی۔ لیلیٰ طارق کے ساتھ نکلنے میں کامیاب ہو گئی۔

ناول، افغان سوچ، معاشرت، زندگی اور مسائل کی یہ اچھی عکاسی کرتا ہے۔ ناول کا پلاٹ طویل عرصے کی داستان بیان کرتا ہے۔ افغانستان کے حالات بادشاہت کے زمانے میں، روس کے حملے کے دوران اور اس کے بعد طالبان کے دور میں اور اچھا تقابلی جائزہ پیش کرتا ہے۔ ناول کی اچھی بات اس کا تفصیلی بیان ہے۔ ہر واقعہ سیاق و سباق کے ساتھ ساتھ تمام ممکنہ جزوی تفصیلات بھی پیش کرتا ہے جس سے واضح تصویر ابھر کے آتی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی ناول کی رفتار انتہائی سست بھی ہو جاتی ہے۔ ناول کے درمیان تک پہنچتے پہنچتے قاری اکتاہٹ محسوس کرتا ہے اور اوراق پلٹ کے جلد از جلد اس ناول کے اختتام تک پہنچنے کی کوشش کرتا ہے۔ تاہم ایسی کسی بھی کوشش کا نتیجہ ناول کی خوبصورتی میں کمی کی صورت میں نکلتا ہے اور قاری اصل پیغام سے کوسوں دور رہ سکتا ہے۔ اس ناول میں کردار چند ہی ہیں لیکن تمام کے تمام کہانی سے منسلک ہیں بالکل انگوٹھی میں نگینے کی طرح۔ ہر ایک کی کہانی بہت مضبوط اور مربوط ہے۔ اس ناول کی ایک اور اچھی بات مصنف کی حساسیت ہے۔ اب تک جتنے بھی مرد قلم کاروں کی تحاریر پڑھنے کا موقع ملا ہے۔ ان میں خواتین کرداروں کی سوچ، احساسات اور جذبات کی نمائندگی مصنوعی محسوس ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہ پڑھنے والے ٴٴ کو اپنی گرفت میں نہیں لے پاتے۔ لیکن خالد حسینی کے اس ناول کو پڑھنے کے بعد یہ احساس ہوتا ہے کہ مصنف نے خواتین کرداروں کی روح کے اندر اتر کے ان کے خیالات، سوچیں، جذبات، احساسات نکالے ہیں اور پردہء قرطاس پہ بکھیرے ہیں۔ اور یہ احساس صنف نازک سے تعلق رکھنے والے قارئین پہ ایک خوشگوار احساس چھوڑتی ہے کہ کوئی تو ہے جس نے انہیں سمجھا۔۔۔

کیا آپ اس تبصرے سے متفق ہیں۔اس کتاب کے بارے میں تبصرہ کریں ۔

اگر آپ نے یہ کتاب پڑھی ہے تو اسے 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹ کریں۔

تشریف آوری کے لئے مشکور ہوں۔

اگلے ہفتے عنیزہ سید کی کتاب “دل من مسافر من ” کا تعارف و تبصرہ ملاحظہ کیجئے۔ان شاء اللہ۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s