058- دربارِ دل از عمیرا احمد

دربارِ دل از عمیرا احمد

مصنفہ: عمیرا احمد
صفحات: 200
قیمت: 200 روپے
سن اشاعت: ء 2005
ناشر: علم و عرفان پبلشرز

موجودہ دور کے ناول نگاروں میں عمیرا احمد کا نام سرفہرست ہے۔ کتابستان میں ان کی کئی کتابوں پہ بات ہو چکی ہے۔ ان کی کتب عمومی پسندیدگی کی سند پاتی ہیں۔ پاکستان میں یہ درجہ کم ہی مصنفین کو حاصل ہو سکا ہے کہ لوگ کسی مصنف کی کتاب کا شائع ہونے سے پہلے ہی منتظر ہوں۔ عمیرا احمد نے اپنے منفرد موضوعات اور مذہب کے امتزاج سے کہانیوں کے ایسے رخ پیش کئے ہیں جنہوں نے پڑھنے والوں سے خوب داد سمیٹی ہے۔ آج جس ناول پہ بات ہو رہی ہے وہ بھی ایک ایسے موضوع پہ لکھا گیا ہے کہ پڑھنے والے کو مکمل اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔

دربار دل کا موضوع انسان کی اللہ سے مانگی ہوئی دعا ہے۔ اس ناول کی بنیاد سورۃ بنی اسرائیل کی اس آیت پہ رکھی گئی ہے جس کا مفہوم ہے کہ انسان اپنے لئے شر کو ایسے مانگتا ہے کہ جیسے بھلائی ہو اور بےشک انسان بڑا جلد باز ہے۔ ناول کا مرکزی کردار ایک دین دار، پردہ دار اور احکام الٰہی بجا لانے والی ایک لڑکی ہے جس کا نام مہر تھا۔ مہر نے بچپن میں اپنی امی سے دعا کرنا سیکھا تھا اور اسے اس بات کا غرور تھا کہ اس کی مانگی ہوئی دعا ضرور قبول ہوتی ہے۔ مذہب کی ڈور میں گندھی ہوئی اس لڑکی کے نزدیک محبت ایک فضول اور بےکار چیز تھی۔ لیکن قسمت میں کچھ اور ہی لکھا تھا۔ اسے نا چاہتے ہوئے بھی مومی نام کے ایک لڑکے سے محبت ہوگئی۔ اپنی محبت سے مجبور وہ گھنٹوں اس کے ساتھ فون پہ گفتگو کیا کرتی تھی۔ ایک دن وہ لڑکا اسے رستے سے فون کر رہا تھا اور فون کے دوران ہی اس کا ایکسیڈنٹ ہوگیا۔ مہر چاہنے کے باوجود بھی اس کی مدد کے لئے نا تو جا سکی اور نہ ہی کسی کو فون کرکے اس کے پاس بھیج سکی۔ لیکن وہ یہ نہ جان سکی کہ اس حادثے کے نتیجے میں وہ لڑکا بچ گیا تھا یا مر گیا تھا۔ اس واقعے نے اس کی پوری زندگی ہلا کے رکھ دی۔ پردہ دار مہر نے پردہ کرنا اور اللہ سے دعا مانگنا چھوڑ دیا اور دور جدید کے رنگ ڈھنگ اپنا لئے۔ اس کے والدین نے اس کی شادی کر دی۔ اس کا شوہر ایک ماڈرن انسان تھا جسے شریک حیات سے زیادہ شمع محفل کی ضرورت تھی۔ مہر مجبوری اور ناخوشی کے عالم میں زندگی کے دن گزار رہی تھی کہ ایک دن اپنے شوہر کے دوست کی آمد پہ اسے علم ہوا کہ جس مومی نام کے لڑکے کی محبت میں وہ مبتلا تھی وہ اس کا اپنا شوہر ہی تھا۔ اور یہ بھی کہ اس کے شوہر نے اس کے مزہبی خیالات کی وجہ سے اس کے ساتھ مذاق کیا تھا۔ اور مہر تھی کہ اس ایک مذاق کے پیچھے اس نے اپنی پوری زندگی تباہ کر لی۔ وہ اپنے شوہر کے ساتھ خوش نہیں تھی لیکن وہ وہی شخص تھا جس کے ساتھ کی اس نے اللہ تعالیٰ سے بھرپور دل کے ساتھ دعا کی تھی۔ اللہ نے اس کی دعا پوری کر دی کیونکہ وہ مہر کی تمام دعائیں پوری کرتا تھا لیکن مانگتے وقت مہر کو احساس نہیں تھا کہ اس نے اپنے لئے خیر مانگا ہے یا شر۔ اس نے جوانی کی اندھی محبت میں جلد بازی میں اپنے لئے بھلائی کے دھوکے میں شر مانگ لیا۔

ناول کا پیغام اچھا ہے۔ یہ پڑھنے والے کو گہری سوچ میں مبتلا کرتا ہے۔ اسے ایک جھٹکے سے دوچار کرتا ہے۔ ہم دعا مانگتے وقت خود کو جائز سمجھتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ جو چیز ہم مانگ رہے ہیں وہ ہمارے حق میں ہے۔ لیکن بھلائی اور بہتری کس چیز میں ہے یہ انسان اکثر نہیں جان پاتا۔ ہماری دعائیں ہمارے لئے خیر کی جگہ شر لے آتی ہیں۔ قاری کو یہ پیغام ملتا ہے کہ دعا بھی سوچ سمجھ کے مانگنی چاہئے۔ بظاہر ناول کی کہانی ایک لو اسٹوری ہے لیکن کہانی کے کرداروں کی زبانی، مصنفہ نے اپنا پیغام بھرپور طریقے سے پہنچایا ہے اور اس کے لئے وہ داد کی مستحق ہیں۔

کیا آپ اس تبصرے سے متفق ہیں۔اس کتاب کے بارے میں تبصرہ کریں ۔

اگر آپ نے یہ کتاب پڑھی ہے تو اسے 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹ کریں۔

تشریف آوری کے لئے مشکور ہوں۔

اگلے ہفتے سید فیاض بخاری کی کتاب “اسرارِ حیات” کا تعارف و تبصرہ ملاحظہ کیجئے۔ان شاء اللہ۔

***************

عمیرا احمد کے قلم سے مزید

عکس از عمیرا احمد

تھوڑا سا آسمان از عمیرا احمد

پیرِ کامل از عمیرا احمد

Advertisements

3 thoughts on “058- دربارِ دل از عمیرا احمد”

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s