057- Princess by Jean Sussan پرنسس از جین ساسون

Princess by Jean Sasson

پرنسس از جین ساسون

نام کتاب: پرنسس
مصنفہ: جین ساسون
نام ترجمہ: پرنسس
مترجم: محمد احسن بٹ
صفحات: 216
قیمت: 250 روپے
سن اشاعت: 2012
ناشر: نگارشات پبلشرز، 24 مزنگ روڈ لاہور

جین ساسون ایک امریکی مصنفہ ہیں۔ آپ کے کام کا زیادہ تر حصہ مشرق وسطیٰ کی خواتین کے بارے میں ہے۔ آپ کے قلم سے ایسی کتب نکل چکی ہیں جن میں آپ نے عرب خواتین کی حالت زار اور مسائل پہ روشنی ڈالی ہے۔ آپ کے قلم سے نکلی ہوئی کتب میں The Rape of Kuwait، Princess: A True Story of Life Behind the Veil in Saudi Arabia، Princess Sultana’s Daughters، Mayada: Daughter of Iraq اور دیگر کتب شامل ہیں۔

کتابستان میں آج آپ کی جو کتاب شامل ہو رہی ہے اس کا عنوان ہے پرنسس، یعنی شہزادی۔ کتاب کا ترجمہ بھی “پرنسس” کے نام سے ہی پیش کیا گیا ہے۔ پرنسس، جیسا کہ عنوان سے واضح ہے کہ ایک شہزادی کے بارے میں ہے۔ یہ ایک سعودی شہزادی “سلطانہ” کی آپ بیتی ہے جو انہوں نے کتاب کی مصنفہ جین ساسون سے بیان کی ہے۔ کتاب میں شہزادی کا نام سلطانہ بتایا گیا ہے تاہم یہ بات شروع میں ہی بتا دی گئی ہے کہ یہ شہزادی کا اصلی نہیں بلکہ ایک فرضی نام ہے جو ان کی اصل شناخت کو چھپانے کے لئے استعمال کیا گیا ہے۔

سعودی عرب، مسلمانوں کے لئے ایک خاص اہمیت رکھتا ہے۔ مقامات مقدسہ کی وہاں موجودگی کی وجہ سے ہر مسلمان سعودی عرب اور سعودیوں کے ساتھ ایک خاص عقیدت رکھتا ہے۔ بہت سے پاکستانی افراد وہاں روزگار کے سلسلے میں قیام پذیر ہیں اور سعودی عرب سے عقیدت رکھنے کے باوجود وہ وہاں کے لوگوں کی زندگی کے کچھ ایسے پہلوؤں کا ذکر کرتے ہیں جو کسی طور بھی پسندیدہ یا اسلامی نہیں کہلا سکتے۔ کئی پاکستانی مرد اپنی بیویوں کو وہاں ساتھ رکھنے کے حق میں نہیں کیونکہ ان کے بقول وہاں عزتوں کو سعودی مردوں سے بچانا مشکل ہوتا ہے۔ اس کتاب میں ایک شہزادی کی زبانی سعودی مردوں کی زندگی کے اسی پہلو پہ روشنی ڈالنے کی کوشش کی گئی ہے۔

یہ کتاب شہزادی سلطانہ کے بچپن سے شروع ہوتی ہے۔ اپنے بچپن کی یادداشتوں میں انہوں نے ذکر کیا ہے کہ ان تمام بہنوں کے مقابلے میں ان کے بھائی کو ان کے والد خصوصی اہمیت دیتے تھے۔ اس کی ہر جائز و ناجائز خواہش پوری کی جاتی تھی جس نے ان کے بھائی کو ایک بدتمیز، جاہل اور خواہشوں کا غلام شخص بنا دیا تھا۔ اس بات نے ان کے اندر ایک باغیانہ جذبے کو جنم دیا اور وہ اکثر اپنے بھائی کو پریشان کرنے کی کوشش کرتی تھیں۔ کتاب میں جہاں سعودی مردوں کی عیاش فطرت کا ذکر ہے وہیں خواتین کی حالت ذار کا بھی ذکر ہے۔ لڑکیوں کی ان کی مرضی کے بغیر شادی، تعلیم سے محرومی، بے جا سختیوں اور سزاؤں، ختنہ اور دیگر رسوم و رواج کا ذکر کیا گیا ہے جو ایک عورت کو زندہ درگور کر دینے کا باعث بن جاتی ہیں۔ کتاب میں شہزادی نے اپنے شوہر کے بارے میں بھی ذکر کیا ہے اور بہت کھل کے باتیں بیان کی ہیں۔ ایک جگہ انہوں نے بتایا ہے کہ ان کے شوہر کے دوسری عورتوں کے ساتھ کھلے مراسم تھے اور اس وجہ سے انہیں اپنے شوہر سے جنسی بیماریاں منتقل ہو گئیں۔ شہزادی نے اپنی اولاد خصوصاً بیٹیوں کے بارے میں بھی ذکر کیا ہے اور ان کے رویوں پہ بھی بات کی ہے۔

کتاب پڑھ کے اندازہ ہوتا ہے کہ سعودی مردوں کی زندگی غیر عورتوں سے جنس کرنے اور اپنی عورتوں پہ ظلم کرنے میں ہی مصروف گزر جاتی ہے۔ کتاب میں کئی ایسے واقعات بیان کئے گئے ہیں جنہیں پڑھ کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اور وہ انسانی ذہن پہ برا اثر چھوڑتے ہیں۔ کتاب ایک غیر مسلم مصنفہ کے قلم سے نکلی ہے جس کا تعلق امریکہ سے ہے۔ پاکستانی قارئین کی ایک بڑی تعداد امریکہ کو اپنا دشمن سمجھتی ہے جو اسلام دشمنی میں کوئی کسر نہین چھوڑتا۔ اس لئے یہ کتاب بھی ایک ایسی ہی کاوش قرار دی جا سکتی ہے خصوصاً اس صورت میں، جب شہزادی کا اصل نام بھی پیش نہیں کیا گیا ہے۔ مصنفہ نے واقعات کو امریکی سوچ کے تحت دیکھا اور پرکھا ہے اور اسی نظرئے کے تحت پیش کیا ہے۔ اس لئے کتاب کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ تاہم تمام باتیں مکمل غلط نہیں ہو سکتیں کیونکہ وہاں موجود افراد کچھ رویوں کی بہرحال تصدیق کرتے ہیں۔

خواتین کے معاملات اور خصوصاً ان کی حالتِ زار اور ان سے روا مظالم کے بارے میں دلچسپی رکھنے والوں کے لئے یہ کتاب ضرور دلچسپی کی حامل ہوگی۔

کیا آپ اس تبصرے سے متفق ہیں۔اس کتاب کے بارے میں تبصرہ کریں ۔

اگر آپ نے یہ کتاب پڑھی ہے تو اسے 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹ کریں۔

تشریف آوری کے لئے مشکور ہوں۔

اگلے ہفتے عمیرا احمد کی کتاب دربار دل کا تعارف و تبصرہ ملاحظہ کیجئے۔ان شاء اللہ۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s