056- Memories of Midnight by Sidney Sheldon میموریز آف مڈنائٹ از سڈنی شیلڈن

Memories of Midnight by Sidney Sheldon

میموریز آف مڈنائٹ  از سڈنی شیلڈن

مصنف: سڈنی شیلڈن
صفحات: 404
زبان: انگریزی
سن اشاعت: 1990

مشہور امریکی مصنف سڈنی شیلڈن کے کچھ ناولوں سے ہم آپ کو پہلے ہی متعارف کروا چکے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ وہ آپ کے مطالعے سے بھی ضرور گزرے ہوں گے۔ آج جس کتاب کے بارے میں یہاں گفتگو ہونے والی ہے اس کا عنوان ہے Memories of midnight یعنی آدھی رات کی یادیں۔ یہ ناول، سڈنی شیلڈن کے ناول The Other Side of Midnight کا دوسرا حصہ ہے۔ ناول کا آغاز وہاں سے ہوتا ہے جہاں The Other Side of Midnight کا اختتام ہوتا ہے۔

ناول کا پہلا حصہ بہترین ہے اور بیسٹ سیلرز میں شامل ہے۔ لیکن کئی قارئین کے مطابق Memories of midnight اس معیار پہ نہیں اتر سکا جو اس کے پہلے حصے نے قائم کر دیا تھا۔ اس کے باوجود ناول کی کہانی اپنے پہلے حصے کی محتاج نہیں ہے The Other Side of Midnight کا دوسرا حصہ ہونے کے باوجود یہ ایک مکمل اور الگ ناول ہے اور وہ قارئین، جنہوں نے اگر اس ناول کا پہلا حصہ نہیں بھی پڑھا وہ بھی اس کی کہانی سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔ بلکہ ہماری رائے میں اگر اس کو علیحدہ ناول کے طور پہ پڑھا جائے تو قاری زیادہ لطف محسوس کریں گے۔

ناول کا آغاز کیتھرین ڈگلس کے ذکر سے ہوتا ہے جہاں وہ آدھی رات کو ایک خواب کی وجہ سے بیدار ہو جاتی ہے۔ اس خواب میں وہ دیکھتی ہے کہ وہ ایک جھیل میں موجود ہے جہاں ایک مرد اور ایک عورت اسے ڈبونے کی کوشش کر رہے ہیں اور وہ اپنی جان بچانے کی کوشش کر رہی ہے۔ اسی کوشش میں اس کی آنکھ کھل جاتی ہے۔ بدقسمتی سے کیتھرین ایک حادثے کے نتیجے میں اپنی یادداشت کھو چکی ہے۔ اسے اپنے بارے میں کچھ بھی علم نہیں اور دنیا کی نظروں میں وہ مر چکی ہے۔ لیکن ایک شخص ابھی بھی ایسا ہے جسے اس کے زندہ ہونے کا علم ہے اور وہ اس کے بارے میں سب کچھ جانتا ہے۔ وہ شخص Constantin Demiris ہے جسے اس کے دوست کوسٹا کے نام سے بلاتے ہیں۔ اور یہی وہ شخص ہے جو اس ناول کا ولن بھی ہے اور مرکزی کردار بھی۔ کوسٹا، کیتھرین کے سامنے اس کے ہمدرد اور خیر خواہ کے روپ میں آتا ہے لیکن دراصل وہی ہے جو کیتھرین کی اس حالت کا ذمہ دار ہے۔ ابتدا میں وہ کیتھرین کے ساتھ محبت کا برتاؤ کرتا ہے لیکن بعد میں حالات ایسا رخ اختیار کر لیتے ہیں کہ کیتھرین کو مروانے کے سوا اس کے سامنے کوئی راستہ نہیں رہتا۔

اس ناول میں کوسٹا کا کردار سڈنی شیلڈن نے بہت تفصیل سے پیش کیا ہے۔ اس کردار کی خوبیاں، خامیاں، وہ ایک غریب آدمی سے ترقی کرکے کوسٹا کیسے بنا، اس کی بیوی کے ساتھ اس کے تعلقات، اس کے سالے کے ساتھ اس کی رقابت اور دیگر بہت ساری مثالوں کے ساتھ سڈنی نے اس کردار پہ روشنی ڈالی ہے۔ کوسٹا کے کردار سے قاری چاہے کتنی بھی نفرت کریں وہ اس کی ذہانت اور باریک بینی سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے۔ مشکل حالات کو کس طرح اپنے فائدے کے لئے موڑنا ہے، اپنی طاقت کو کس طرح استعمال کرنا ہے، یہ سب سڈنی شیلڈن نے بہت اچھی طرح دکھایا ہے۔ اگر کوسٹا کو شیلڈن کا طاقتور ترین ولن قرار دیا جائے تو غلط نہ ہوگا۔

ناول کا آغاز، نقطہ عروج اور اختتام سب ہی شیلڈن اسٹائل کے ہیں، یعنی بہترین۔ ناول کا سسپنس آخری صفحے تک پہنچنے سے پہلے قاری کو کتاب ہاتھ سے رکھنے نہیں دے گا۔ سسپنس پسند کرنے والوں کے لئے ایک اچھی کتاب ہے۔

کیا آپ اس تبصرے سے متفق ہیں۔اس کتاب کے بارے میں تبصرہ کریں ۔

اگر آپ نے یہ کتاب پڑھی ہے تو اسے 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹ کریں۔

تشریف آوری کے لئے مشکور ہوں۔

اگلے ہفتے Jean Sasson کی کتاب Princess کا تعارف و تبصرہ ملاحظہ کیجئے۔ان شاء اللہ۔

***************

Sydney Sheldon کے قلم سے مزید

دی اسٹارز شائن ڈاؤن (The Stars Shine Down) از سڈنی شیلڈن (Sidney Sheldon) 

The sky is falling by Sidney Sheldon

Advertisements

2 thoughts on “056- Memories of Midnight by Sidney Sheldon میموریز آف مڈنائٹ از سڈنی شیلڈن”

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s