054- دل، دیا، دہلیز از رفعت سراج

دل، دیا، دہلیز از رفعت سراج

مصنفہ: رفعت سراج
صفحات: 1106

کتابستان پہ رفعت سراج صاحبہ کی یہ پہلی کتاب ہے جس پہ بات ہونے جا رہی ہے تاہم رفعت سراج کسی بھی طرح قارئین کے لئے نیا نام نہیں ہے۔ آپ خواتین ڈائجسٹوں کی باقاعدہ لکھاری ہیں اور کئی ناول آپ کے قلم سے نکل چکے ہیں جن میں سے کئی ایک نے بہت مقبولیت بھی حاصل کی ہے۔ آپ کے دیگر ناولوں میں دلِ آباد، شہر یاراں، امانت وغیرہ شامل ہیں۔

دل دیا دہلیز ایک ہزار سے زیادہ صفحات پہ محیط ایک ضخیم ناول ہے۔ اس بات سے قاری  اندازہ کر سکتا ہے کہ وہ ایک انتہائی تفصیلی انداز میں لکھا ہوا ناول پڑھنے جا رہا ہے۔ یہی اس ناول کی اچھی بات ہے کہ اس میں مصنفہ نے ہر کردار کا پس منظر اور اس کی کہانی کو تفصیلی واضح کیا ہے جس کی وجہ ناول میں اس کی سوچ اور نفسیات کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے جو ایک طرف تو ناول کی خوبصورتی میں اضافہ کرتے ہیں وہیں کرداروں کی ضرورت کو بھی واضح کرتے ہیں۔ بہت سارے ناولوں میں ناول نگار صرف مرکزی کرداروں کی کہانی پیش کرتے ہیں اور دیگر کرداروں پہ توجہ نہیں دیتے جس کی وجہ سے وہ بھرتی کے معلوم ہونے لگتے ہیں، تاہم دل دیا دہلیز میں ایسا نہیں ہے۔ مصنفہ نے ہر کردار کو توجہ اور وقت دیا ہے اور اس سے بھر پور انصاف کیا ہے۔

دل دیا دہلیز میں کرداروں کی بھر مار ہے تاہم بنیادی طور پہ یہ ایک لڑکی روشانے، جسے گھر میں روشی کے نام سے پکارا جاتا تھا، کی کہانی ہے۔ یہ کہانی جاگیردارانہ نظام کے پس منظر میں لکھی گئی ہے۔ روشانے کی والدہ بچپن میں ہی فوت ہوگئی تھیں، اس کے والد ایک اہم سرکاری عہدے پہ فائز تھے جس کی بنا پہ وہ اسے کم ہی وقت دے پاتے تھے۔ گو کہ روشی کی پرورش مشترکہ خاندانی نظام میں دیگر کزنز اور رشتے داروں کی موجودگی میں ہوئی لیکن والدین کی کمی اور ان کی عدم توجہی کو اس نے ہمیشہ ہی محسوس کیا اور اس کمی نے اس کے اندر باغیانہ جذبے کو پنپنے کا موقع دیا۔ قریبی خونی رشتوں کی عدم توجہی کے باعث روشی، اپنی حویلی کے ایک اہم نوجوان ملازم، عبدالباری کو پسند کرنے لگتی ہے۔ تاہم عبدالباری ایک سلجھا ہوا، سمجھدار اور شریف آدمی تھا جس نے روشی کی کبھی حوصلہ افزائی نہیں کی۔ جوں جوں کہانی آگے بڑھتی ہے، اس میں کئی نئے کردار شامل ہوتے جاتے ہیں۔ روشی کی خالہ، جو روشی سے ملنے آتی ہیں، وہ اس کے والد سے شادی کرکے اس کی ماں بن جاتی ہیں۔ اس کے بعد جب وہ اپنی بہن کی موت کے اسباب جاننے کی کوشش کرتی ہیں تو ان پہ ایک نئی حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ ان کی بہن زندہ ہیں تاہم تمام خاندان والوں کے لئے وہ مر چکی ہیں اور یہی بات ان کی اولاد کو بھی بتائی گئی تھی۔ گویا روشی ماں کی موجودگی کے باوجود بھی بےماں کی بیٹی بن کے رہ رہی تھی۔ کہانی میں کئی اتار چڑھاؤ آتے ہیں۔ انتہائی مایوس کن صورتحال میں روشی خود کشی سے لے کے گھر سے بھاگنے تک کی تمام کوششیں کرتی ہے۔ ان کوششوں کا انجام کیا ہوتا ہے، کیا اسے ماں باپ کی محبت اور توجہ مل سکی؟ کیا باری اس کی زندگی کا شریک بن سکا؟ اور اس کی ماں سے اس کی جدائی کی کیا وجہ تھی؟ یہ سب جاننے کے لئے تو ناول ہی پڑھنا پڑے گا۔

ناول جہاں بہت تفصیلی ہے وہیں بہت گہرائی میں بھی لکھا گیا ہے۔ خواتین لکھاری عموماً خواتین کی زندگی کے مسائل پہ بخوبی روشنی ڈالتی ہیں۔ اس ناول میں بھی عورتوں کے کئی روپ دیکھنے کو ملتے ہیں، جیسے روشی۔۔۔ ایک محروم اور باغی بچی، ماہین۔۔۔ خالہ اور پھر ماں، نازنین۔۔۔ ایسی ماں جسے اس کی اولاد سے جدا کر دیا گیا، مطربہ۔۔۔ محبت کے لئے کچھ بھی کرنے کو تیار، جھومر۔۔۔۔ ایک ایسی عورت جس کی شادی ایک ذہنی بیمار شخص سے کر دی گئی۔۔۔۔

ہمیں امید ہے کہ خواتین قارئین کو یہ ناول بہت پسند آئے گا۔ محبت کی کہانیاں پڑھنے کے شوقین قارئین کو بھی روشی اور باری کی لو اسٹوری پسند آئے گی۔

کیا آپ اس تبصرے سے متفق ہیں۔اس کتاب کے بارے میں تبصرہ کریں ۔

اگر آپ نے یہ کتاب پڑھی ہے تو اسے 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹ کریں۔

تشریف آوری کے لئے مشکور ہوں۔

اگلے ہفتے گبریل گارشیا مارکیز کی کتاب محبتوں کے آسیب (Of Love and Other Demons) کا تعارف و تبصرہ ملاحظہ کیجئے۔ان شاء اللہ۔

***************

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s