052- ذات کا سفر از قیصرہ حیات

ذات کا سفر از قیصرہ حیات

مصنفہ: قیصرہ حیات
صفحات: 304
قیمت: 200 روپے
سن اشاعت: اپریل 2006
ناشر: علم و عرفان پبلشرز

محترمہ قیصرہ حیات صاحبہ کا لکھا ہوا یہ پہلا ناول ہے جو ہماری نظر سے گزرا ہے تاہم آپ خواتین ڈائجسٹوں کی باقاعدہ لکھاری ہیں اور کئی افسانوں اور ناولوں کی مصنفہ ہیں۔ آپ کے ناول “کہیں دیپ جلے کہیں دل” پہ ڈرامہ بھی بن چکا ہے۔ زیر گفتگو ناول “ذات کا سفر” مصنفہ کا پہلا ناول ہے۔ کتاب کے تعارف میں انہوں نے یہ بات بتائی ہے کہ ذات کا سفر ان کا پہلا ناول ہے لیکن کیونکہ اس کا موضوع بہت منفرد اور وسیع تھا اس لئے اس ضمن میں انہیں تحقیق بھی کرنی پڑی جس کی وجہ سے اس کتاب کو مکمل ہونے میں تین سال لگ گئے۔

ذات کا سفر، کا موضوع انسانی ذات ہے۔ انسانی ذات لمحہ بہ لمحہ ارتقائی عمل سے گزرتی ہے، شعور کے مدارج طے ہوتے ہیں اور جب یہ سفر مکمل ہوتا ہے تو انسان کو اس مثلث کی تکمیل کا احساس ہوتا ہے جس کے ایک کونے میں خدا، دوسرے میں انسان اور تیسرے میں کائنات ہے اور پھر وہ برملا کہتا ہے “خدا تو انسان میں ہے اور انسان خدا میں ہے”۔

ناول کا موضوع گرچہ بہت پیچیدہ ہے تاہم یہ ان چند موضوعات میں سے ہے جن پہ کئی مصنفین نے قلم آزمائی کی ہے۔ ممتاز مفتی، بانو قدسیہ سے لے کر ہاشم ندیم اور عمیرا احمد تک کئی مصنفین اس موضوع پہ اپنے خیالات کا اظہار کر چکے ہیں۔ موضوع گو نیا نہیں لیکن یہ مصنف کا انداز ہے جو کتاب میں قاری کی دلچسپی بنائے اور برقرار رکھتا ہے۔ محترمہ قیصرہ صاحبہ گو کہ ڈائجسٹس میں لکھنے والی مصنفہ ہیں تاہم انہوں نے اس روایتی ڈائجسٹی موضوعات سے ہٹ کے منفرد موضوع پہ قلم اٹھا کے اپنے منفرد ہونے کا ثبوت دیا ہے۔

ناول کے دو حصے ہیں۔ پہلا حصہ استعاراتی ہے جس میں ان ارتقائی ادوار کا ذکر ہے جن میں انسانی شعور نے پختگی حاصل کی اور وہ اس درجے تک پہنچا جس حالت میں آج ہم اسے دیکھتے ہیں۔ ناول کا دوسرا حصہ ان واقعات کا احاطہ کرتا ہے جو انسانی سوچ، نفسیات اور احساسات پہ اثر انداز ہوتے ہیں اور یہی واقعات انسان کی ذات کے روحانی سفر کا تعین کرتے ہیں اور اسے انسانیت کی معراج تک پہنچا دیتے ہیں۔ یہ واقعات مصنفہ نے ضحیٰ کی زندگی کے حوالے سے دوسرے حصے میں پیش کئے ہیں۔ ضحیٰ اس ناول کا مرکزی کردار ہے اور مصنفہ نے اس کی مکمل زندگی کا احاطہ کیا ہے۔ ضحیٰ سوچ و بچار کی عادی تھی اسے محسوس ہوتا کہ اس کے اندر ہمیشہ کوئی انجانا دکھ گردش کرتا رہتا ہے اور وہ ایک گیلی لکڑی کی مانند سلگ رہی تھی۔ اپنے اندر موجود احساس اسے ایک پل چین نہ لینے دیتا اور یہی بے چینی اسے نامعلوم منزلوں کی طرف لے جاتی۔ رفتہ رفتہ اس نے خود میں اور دنیا میں دلچسپی لینا ختم کر دیا۔ اس کے والدین اس غم میں دنیا سے چلے گئے اور ایک دوست کے سوا وہ دنیا میں بالکل اکیلی رہ گئی۔ تاہم کسی اپنے کے مر جانے کے بعد بھی زندگی ختم نہیں ہوتی۔ اور ایسا ہی ضحیٰ کے ساتھ ہوا، اس نے بہرحال زندہ رہنا سیکھ لیا۔ اس کی زندگی میں کیا کیا واقعات پیش آئے اور اس نے ذات کا سفر کس طرح طے کیا، یہ جاننے کے لئے تو ناول ہی پڑھنا پڑے گا۔

ناول کا پہلا حصہ استعاراتی ہونے کے باوجود عام فہم اور سادہ ہے۔ یہی صورتحال دوسرے حصے میں ہے۔ مصنفہ نے کوئی مشکل خیال اور بات پیش کرنے سے اجتناب کیا ہے اور آسان انداز میں اپنا پیغام پہنچایا ہے۔ جس کی وجہ سے عام قاری کی دلچسپی کتاب میں برقرار رہتی ہے۔ ناول خصوصاً خواتین کی دلچسپی کو مدنظر رکھ کے لکھا گیا ہے اور اس کا مرکزی کردار بھی ایک عورت ہے۔ اس سے پڑھنے والی خواتین قارئین کو سبق حاصل کرنے میں مدد ملے گی اور امید ہے کہ وہ بھی ذات کا سفر طے کر سکیں گی۔

کیا آپ اس تبصرے سے متفق ہیں۔اس کتاب کے بارے میں تبصرہ کریں ۔

اگر آپ نے یہ کتاب پڑھی ہے تو اسے 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹ کریں۔

تشریف آوری کے لئے مشکور ہوں۔

اگلے ہفتے Dan Brown کی کتاب “Deception point” کا تعارف و تبصرہ ملاحظہ کیجئے۔ان شاء اللہ۔

***************

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s