051- State of fear by Michael Crichton

State of fear by Michael Crichton

مصنف: مائیکل کریکٹن
زبان: انگریزی
سن اشاعت: 2004

مائیکل کریکٹن انگریزی زبان کے جانے مانے مصنف ہیں۔ آپ کے قلم سے زیادہ تر سائنس فکشن اور تھرلر ناولز نکلے ہیں جنہوں نے بہت زیادہ مقبولیت حاصل کی ہے۔ آپ کے کریڈٹ پہ جراسک پارک جیسے ناول اور فلمیں موجود ہیں۔ آپ کی تحریروں کے موضوعات میں ایکشن اور جدید ترین ٹیکنالوجی لازم ہیں۔ عموماً آپ نے ایسے موضوعات پہ قلم اٹھایا ہے جن میں ٹیکنالوجی اور انسانی نا اہلی کے ملاپ سے ہونے والے حادثات پہ روشنی پڑتی ہے۔

زیر گفتگو ناول اسٹیٹ آف فیئر، جس کا اردو ترجمہ “حالتِ خوف” ہو سکتا ہے کا موضوع گلوبل وارمنگ ہے۔ گلوبل وارمنگ آج کی دنیا کے اہم ترین موضوعات اور مسائل میں سے ایک ہے۔ گلوبل وارمنگ کا مختصر ترین تعارف یوں کروایا جا سکتا ہے کہ سائنس کے مطابق دنیا میں انسانی کاروائیوں کی بنا پہ درجہ حرارت بڑھ رہا ہے جو گلیشئیرز کے پگھلنے، بارشوں، طوفانوں اور سیلابوں کا سبب بن رہا ہے۔ آئے دن اس موضوع پہ کانفرنسیں منعقد ہو رہی ہیں جن کے ذریعے ایک طرف دنیا کو گلوبل وارمنگ کے خطروں سے آگاہ کرنے کی کوشش ہو رہی ہے اور دوسری طرف اس مسئلے سے بچنے کے لئے لائحہ عمل تیار کیا جا رہا ہے۔ تاہم اسٹیٹ آف فیئر کے مطابق گلوبل وارمنگ اتنا اہم اور خطرناک مسئلہ نہیں ہے جتنا کہ اسے سمجھا جا رہا ہے اور دنیا کے سامنے پیش کیا جا رہا ہے۔ مصنف کے مطابق گلوبل وارمنگ ہو سکتا ہے کہ ہو رہی ہو، لیکن یہ انسانی سرگرمیوں کے باعث نہیں، بلکہ اتنی گلوبل وارمنگ تو قدرتی طور پہ ہمیشہ ہی ہوتی رہتی ہے۔ مصنف نے ناول میں اس بات کی طرف بھی توجہ دلائی ہے کہ سائنسی تحقیق بھی آزادانہ طور پہ انجام نہیں دی جاتی بلکہ تحقیق کے نتائج اس طرح مرتب کئے جاتے ہیں جن سے تحقیق کے لئے فنڈز مہیا کرنے والے اداروں کو اپنے مقاصد حاصل کرنے میں مدد حاصل ہو اور یہ کسی بے ایمانی سے کم نہیں۔

اسٹیٹ آف فئیر ایک تھرلر ناول بھی ہے۔ ناول میں ولن کا کردار ماحولیاتی دہشت گرد لوگوں کے پاس ہے جو ایک بین الاقوامی کانفرنس کے موقع پہ دنیا میں کچھ ایسے مصنوعی موسمیاتی بحران پیدا کرنے جا رہے ہیں جن سے ناصرف گلوبل وارمنگ کا ایشو ابھر کر سامنے آئے گا بلکہ سینکڑوں ہزاروں افراد کی جان بھی جائے گی۔ ایسا کرنے سے انہیں گلوبل وارمنگ کے موضوع پہ تحقیق کرنے کے لئے بے اندازہ فنڈز مل سکتے ہیں۔ تاہم ناول کا ہیرو اور اس کی ٹیم انہیں ایسا کرنے سے باز رکھنے کی کوشش کرتی ہے اور اس مقصد میں کامیاب رہتی ہے۔ تاہم کانفرنس کے موقع پہ کون سے ماحولیاتی حادثے پیش آنے والے تھے۔ انہیں کس طرح پلان کیا گیا تھا اور نیز ان سے کس طرح بچاؤ کیا گیا، یہ سب جاننے کے لئے تو ناول ہی پڑھنا پڑے گا۔

ناول بہت تفصیلی ہے۔ مصنف نے اپنے نقطہ نظر کی تفصیلی وضاحت پیش کی ہے اور اس کے لئے مختلف چارٹس اور ڈیٹا کی مدد لی ہے۔ جو ایک طرف مصنف کا بیان مضبوط کرتے ہیں، وہیں دوسری طرف ان کی بہتات کہانی میں بوریت کا عنصر پیدا کرتی ہے اور کہانی کا تھرل سستی کا شکار ہو جاتا ہے۔ لیکن یہ موضوع شاید اتنی ہی تفصیل کا متقاضی تھا اور مصنف اپنا خیال پیش کرنے میں مکمل کامیاب رہے ہیں۔ گلوبل وارمنگ کے بارے میں تو اخبارات اور جرائد میں عام پڑھنے کو مل جاتا ہے، تاہم گلوبل وارمنگ کی مخالفت یا تصویر کا دوسرا رخ جاننے کے لئے یہ ناول بہت عمدہ اور مددگار ہے۔

کیا آپ اس تبصرے سے متفق ہیں۔اس کتاب کے بارے میں تبصرہ کریں ۔

اگر آپ نے یہ کتاب پڑھی ہے تو اسے 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹ کریں۔

تشریف آوری کے لئے مشکور ہوں۔

اگلے ہفتے قیصرہ حیات کی کتاب “ذات کا سفر” کا تعارف و تبصرہ ملاحظہ کیجئے۔ان شاء اللہ۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s