050- روسی جرنیل کی پراسرار موت از مقبول جہانگیر

روسی جرنیل کی پراسرار موت از مقبول جہانگیر

RGKPMمصنف: مقبول جہانگیر
صفحات: 403

مقبول جہانگیر کا نام اب کتابستان کے قارئین کے لئے نیا نہیں ہے۔ ہم پہلے بھی ان کے کام کے بارے میں بات کر چکے ہیں۔ کتابستان میں آج بھی ان کی ایک کتاب زیر گفتگو ہے جس کا عنوان ہے “روسی جرنیل کی پراسرار موت”۔ یہ عنوان کتاب کے موضوع کی بخوبی وضاحت کرتا ہے اور کتاب کھولنے سے پہلے ہی قاری پہ واضح کرتا ہے کہ یہ جرم و جاسوسی کے موضوع پہ لکھی گئی ہے۔ یہ کتاب مقبول جہانگیر صاحب کی وفات کے بعد ان کی ایک عزیزہ نے شائع کروائی ہے جن کے مطابق یہ کتابی شکل میں شائع ہونے سے پہلے قسط وار شائع ہو چکی ہے اور قارئین میں بےحد مقبول ہوئی۔

یہ کتاب ایک اہم روسی جرنیل کی موت کے بعد اس کے قاتل اور قتل کے اسباب کے کھوج کی روداد بیان کرتی ہے۔ اس جرنیل کے قتل کو چھپانے کے لئے کے جی بی نے بھرپور کوشش کی اور اس موت کو ایک فطری موت قرار دے دیا۔ سرکاری بیان میں یہ شائع کرایا گیا کہ جرنیل عمر رسیدہ ہونے کے باعث بیماریوں کا شکار تھا اور یہی بیماریاں اس کے دل کے دورے کا سبب بنیں۔ تاہم یہ روسی جرنیل نہ صرف اہم تھا بلکہ ملک کے صدر کا ہم زلف بھی تھا اور یہی وجہ تھی کہ ملک کے صدر نے اس معاملے کے دوسرے رخ کو دیکھنے کے لئے ایک افسر کو تفتیش کے لئے مقرر کیا۔ اس افسر نے اس معاملے کی تفتیش کس طرح کی، جرنیل کے قتل کا سبب کیا تھا اور اس کے قاتل کون تھے، یہ سب جاننے کے لئے تو ناول ہی پڑھنا پڑے گا۔ اس تفتیش کے دوران خود تفتیشی افسر کی زندگی بھی کئی مرتبہ خطروں کا شکار ہوئی کیونکہ ایک طرف جہاں ملک کا صدر تھا جو اس قتل کی تحقیقات چاہتا تھا تو دوسری طرف طاقتور قاتل تھے جو اس معاملے کو صیغہ راز میں رکھنا چاہتے تھے۔

مقبول جہانگیر صاحب نے ناول بہت تفصیلی لکھا ہے۔ کہانی کے مرکزی کردار کی سوچ، تفتیش، اس کی مشکلات وغیرہ کا بیان تفصیل سے کیا گیا ہے۔ ناول میں روس میں رہنے والے افراد کی زندگی اور ان کی مشکلات کے بارے میں بھی ہلکی سی روشنی ڈالی گئی ہے جہاں انہیں ہفتہ وار راشن کوٹے کے حساب سے ہی ملتا ہے اور دیگر ضروریات زندگی تک رسائی بھی محدود ہے، وہیں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اعلیٰ حکومتی اور فوجی افسران کس طرح کی آرام دہ اور بھرپور زندگی گزار رہے ہیں۔ کے جی بی کے افسران کس طرح دن دھاڑے جو چاہیں کر سکتے ہیں اور ایک عام آدمی سے اپنی بات منوا سکتے ہیں۔ ان باتوں سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ روس میں ایک عام آدمی کی زندگی کتنی مشکل ہے۔ ان تمام تفصیلات کی موجودگی کے باعث یہ ناول مقبول جہانگیر صاحب کا طبع ذاد معلوم نہیں ہوتا بلکہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ کسی روسی ناول کا ترجمہ ہے۔ کیونکہ اتنی تفصیلات کا کسی غیر روسی مصنف کو علم ہونا بہت مشکل معلوم ہوتا ہے۔ تاہم اس ناول کے اصل یا انسپیریشن کے بارے میں مقبول جہانگیر صاحب کا قلم خاموش ہے اور نہ ہی ان کی عزیزہ، جنہوں نے یہ کتاب چھپوائی ہے، اس بارے میں کچھ بتاتی ہیں۔

ناول گرچہ جرم و جاسوسی کے موضوع پہ ہے تاہم اس موضوع پہ لکھے گئے دیگر ناولوں کے برعکس اس میں کوئی ایسا خاتون کردار نظر نہیں آتا جو مرکزی تفتیش کار کی تفتیش کو گمراہ کرنے کے لئے بھیجا گیا ہو۔ عموماً اس طرح کی کہانیوں میں خواتین کا ذکر اور کردار کسی شو پیس آئیٹم کے طور پہ ہوتا جن کا ذکر اس انداز میں کیا جاتا ہے جو قاری میں شہوت اور نفسانی خواہشات کو ابھارنے میں مددگار ہوتی ہیں۔ تاہم مقبول جہانگیر کے قلم کی یہ خصوصیت یہ ہے کہ انہوں نے اس طرح کے کسی کردار اور سین سے گریز کیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ یہ ناول بی گریڈ اور سطحی ناولوں سے بہت بہتر ہے۔

صاف ستھری جاسوسی کہانیاں پسند کرنے والے قارئین کے ذوق پہ یہ کتاب ضرور پوری اترے گی۔

کیا آپ اس تبصرے سے متفق ہیں۔اس کتاب کے بارے میں تبصرہ کریں ۔

اگر آپ نے یہ کتاب پڑھی ہے تو اسے 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹ کریں۔

تشریف آوری کے لئے مشکور ہوں۔

اگلے ہفتے Michael Crichton کی کتاب “State of fear ” کا تعارف و تبصرہ ملاحظہ کیجئے۔ان شاء اللہ۔

***************

مقبول جہانگیر کے قلم سے مزید

پانچ خوفناک کہانیاں از مقبول جہانگیر

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s