048- ہم سفر از فرحت اشتیاق

ہم سفر از فرحت اشتیاق

مصنفہ: فرحت اشتیاق

جوں جوں میڈیا ترقی کر رہا ہے توں توں ناولوں پہ ڈرامے بننے کا رجحان فروغ پا رہا ہے۔ ہالی وڈ میں بھی مختلف ناولوں پہ فلمیں بنانے کا رجحان ہے اور ناولوں پہ کئی مشہور فلمیں بنائی جا چکی ہیں جیسے ہیری پوٹر سیریز، سائلنس آف دی لیمب، دی ڈا ونشی کوڈ وغیرہ۔ اسی طرح آج کل ایک چینل پہ دکھایا جانے والا مقبول عام ڈرامہ عشق ممنوع بھی ایک ناول کی ہی ڈرامائی تشکیل ہے۔ یہی رجحان پاکستان میں بننے والے ڈراموں میں بھی پایا جاتا ہے۔ آج کل بننے والے ڈراموں کی اکثریت خواتین ڈائجسٹوں میں چھپنے والے ناولوں پہ مبنی ہے۔ اور انہی ناولوں میں سے ایک ناول ہمسفر بھی ہے جس پہ بننے والے ڈرامے کو ملک گیر شہرت حاصل ہوئی ہے۔ اس ناول کی مصنفہ فرحت اشتیاق صاحبہ کے تعارف کے لئے یہ ہی کافی ہے کہ آپ ہم سفر کی مصنفہ ہیں۔ کتابستان کا آج کا موضوع بھی ہم سفر ناول ہے جس پہ ڈرامہ بنایا گیا ہے۔ فرحت اشتیاق خواتین کے لئے چھپنے والے ڈائجسٹوں کی جانی مانی لکھاری ہیں۔ آپ کے قلم سے کئی طویل و مختصر ناول اور افسانے نکل چکے ہیں۔ آپ عموماً ہلکی پھلکی اور رومانوی کہانیوں کے لئے مشہور ہیں اور آپ کی کہانیوں کے ہیرو عموماً بہت خیال رکھنے والے ہوتے ہیں۔ ہم سفر کے علاوہ آپ کے قلم سے نکلے ہوئے دیگر ناولوں میں متاع جان ہے تو، بن روئے آنسو وغیرہ شامل ہیں۔

ہمسفر خرد اور اشعر کی کہانی ہے۔ خرد اور اشعر آپس میں کزن تھے۔ اشعر کا خاندان خوشحال تھا جبکہ خرد ایک اسکول ماسٹر کی بیٹی تھی۔ خرد کی والدہ اور اشعر کے والد سگے بہن بھائی تھے لیکن کاروباری مصروفیات کی وجہ سے اشعر کے والد کبھی اپنی بیوہ بہن کی خبر گیری نہ کر سکے۔ اسی کوتاہی کی تلافی کے لئے انہوں نے اشعر کی شادی اپنی مرتی ہوئی بہن کی خواہش پہ ان کی بیٹی خرد سے کر دی۔ خرد اور اشعر کی پرورش دو مختلف دنیاؤں میں ہوئی تھی اور اس کے باوجود بھی وہ دونوں ایک دوسرے کی محبت میں مبتلا ہو گئے۔ لیکن دنیا کب کسی کو خوش دیکھ سکتی ہے۔ خرد اور اشعر کے ساتھ بھی یہی ہوا، اور ان کے درمیان غلط فہمیوں کی ایک دیوار کھڑی ہوگئی یہاں تک کہ خرد گھر چھوڑ کے چلی گئی۔ کچھ عرصے بعد اس کے ہاں بیٹی پیدا ہوئی لیکن اشعر اپنی بیٹی کے وجود سے بےخبر ہی رہا۔ اشعر کو اپنی بیٹی کے بارے میں تب علم ہوا جب خرد اس کے علاج کے سلسلے میں مدد مانگنے کے لئے اس کے پاس گئی اور یہاں سے دونوں میاں بیوی کے درمیان سمجھوتے کا ایک نیا دور شروع ہوا جس کی بنیاد ان کی بیٹی کی خوشی تھی۔ کہانی کا انجام کیا ہوا اس کے لئے یا تو ناول پڑھنا پڑے گا یا پھر ڈرامہ دیکھنا پڑے گا۔

ہمسفر ڈرامے نے گرچہ ملکی سظح پہ بھر پور مقبولیت حاصل کی تاہم اس کی کہانی میں کوئی نیا پن نہیں ہے۔ ناول کی کہانی ڈائجسٹوں میں چھپنے والی عام کہانیوں کی طرح ہی کی ہے جس میں ایک خوبرو اور امیر ہیرو ہے، مظلوم ہیروئن ہے، ظالم ساس ہے اور طرح طرح کے ہتھکنڈوں اور مظالم کی تفصیلات ہیں جو ہیروئن کو حد درجہ مظلوم ثابت کرنے پہ تلے ہوئے ہیں۔ وقت گزاری کے لئے یہ ناول پڑھا جا سکتا ہے۔

کیا آپ اس تبصرے سے متفق ہیں۔اس کتاب کے بارے میں تبصرہ کریں ۔

اگر آپ نے یہ کتاب پڑھی ہے تو اسے 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹ کریں۔

تشریف آوری کے لئے مشکور ہوں۔

اگلے ہفتے ماہنامہ گلوبل سائنس کا تعارف و تبصرہ ملاحظہ کیجئے۔ان شاء اللہ۔

***************

فرحت اشتیاق کے قلم سے مزید

سفر کی شام از فرحت اشتیاق

Advertisements

3 thoughts on “048- ہم سفر از فرحت اشتیاق”

  1. جناب ایڈمن ۔۔۔۔ آپ نے کچھ ذیادہ ہی شوخے ہونے کی کوشش کی ہے ۔۔۔۔
    ہمسفر بس ایک “کہانی” نہیں ہے ۔۔۔ بلکہ معاشرے میں موجود عام کہانی کا بہت ہی خاص ورژن ہے ۔۔۔ خرد میں وہ ساری باتیں دکھائی گئی ہیں جو کہ ایک عورت میں ہونی چاہیئے ۔۔۔ ایک عورت کو ایسا ہی مضبوط ہونا چاہیئے ۔۔۔۔

    Like

    1. ہمیں خوشی ہے کہ ناول آپ کو اچھا لگا اور خرد کے کردار میں آپ کو ایسا پیغام نظر آیا جو معاشرے کی خواتین کے لئے مشعل راہ ہو سکتا ہے۔ آپ کی تشریف آوری کے لیے مشکور ہوں۔

      Like

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s