047- Manhunt by Peter L.Bergen

Manhunt by Peter L.Bergen

نام کتاب: مین ہنٹ
مصنف: پیٹیر ایل برجن
ترجمہ: روزنامہ امت اخبار

9/11 سے کیا مراد ہے؟ اس سوال کا جواب دینے کی ضرورت نہیں کیونکہ یہ واقعہ ہر کسی کے علم میں ہے۔ اسامہ بن لادین کون ہے؟ یہ سوال پوچھنے کی کسی کو ضرورت نہیں ہے۔ آج کے دور میں ذرائع ابلاغ اتنی ترقی کر چکے ہیں اور دنیا ایک ایسے چھوٹے گاؤں کی صورت اختیار کر چکی ہے جہاں ہر بات فوراً ہی سب تک پہنچ جاتی ہے۔ 9/11 موجودہ صدی کے آغاز میں پیش آنے والا ایک ایسا واقعہ ہے جس میں کئی امریکی شہری مارے گئے۔ امریکی حکومت نے اس واقعے کا ذمہ دار اسامہ بن لادین کو قرار دیا اور اس کی زندہ یا مردہ تلاش کو نئے دور کی صلیبی جنگ قرار دیا۔ کتابستان میں آج جس کتاب پہ بات ہو رہی ہے اس کا موضوع اسامہ بن لادین کی تلاش ہے۔ یہ کتاب پیٹر برجن نے لکھی ہے جو اسامہ بن لادین اور القاعدہ کے بارے میں ماہر صحافی اور مصنف سمجھے جاتے ہیں اور اس موضوع پہ یہ ان کی لکھی ہوئی تیسری کتاب ہے۔ یہ کتاب گزشتہ سال اسامہ بن لادن کی برسی کے موقع پہ شائع ہوئی تھی اور اس کا ترجمہ روزنامہ امت اخبار نے پیش کیا ہے۔ روزنامہ امت کے بقول اس کتاب کا ترجمہ پیش کرنے کا مقصد قارئین کو دنیا بھر میں ہونے والی اہم تحقیق اور مختلف نقطہ ہائے نظر سے آگاہ کرنا ہے اور اس کتاب کا تعارف اور تبصرہ پیش کرنے کے پیچھے ہمارا بھی یہی مقصد ہے۔

“مین ہنٹ” اسامہ بن لادین کی دس سالہ تلاش کی داستان ہے جس کا اختتام 2 مئی 2011 کو ایبٹ آباد میں ان کے قتل کے واقعات پہ ہوتا ہے۔ کتاب کا انداز تحقیقی کتاب کے جیسا ہے جس میں حقائق و واقعات کو بنا کسی زنگ آمیزی کے پیش کیا گیا ہے۔ مصنف نے 1977 میں ایک انٹرویو کے سلسلے میں اسامہ بن لادین سے ملاقات کی تھی۔ اس کے بعد وہ ان کے قتل تک ان کو فولو کرتے رہے۔ ان کے قتل کے بعد انہیں ایبٹ آباد میں اسامہ کا کمپاؤنڈ دیکھنے کا موقع بھی ملا۔ تاہم اسامہ بن لادین گزشتہ دہائی کا اتنا اہم موضوع رہا ہے اور اس کے بارے میں اتنا کچھ کہا اور لکھا جا چکا ہے کہ کتاب میں پیش کی جانے والی باتیں نئی یا انوکھی نہیں معلوم ہوتیں۔ کتاب میں اسامہ بن لادین کی ذاتی زندگی کی تفصیلات بھی پیش کی گئی ہیں ان کی بیویوں اور بچوں کا ذکر ہے، وہ کیسا انسان تھا اور اپنی خوشیاں کس طرح مناتا تھا۔ کتاب کا آغاز اسامہ بن لادین کی گردوں کی بیماری کے ذکر سے ہوتا ہے جہاں مصنف نے کہا ہے کہ اسامہ کو گردوں کی بیماری نہیں تھی۔

یہ کتاب ایک امریکی مصنف کے قلم سے نکلی ہے۔ مصنف کی سوچ اور تجزئے پہ امریکی طرزِ فکر اور نقطہ نظر کی چھاپ ہے۔ اسامہ بن لادین کی تلاش اور ان کا قتل ایک کامیابی کی داستان کے طور پہ پیش کئے گئے ہیں۔ اس لئے عین ممکن ہے کہ کئی قارئین اس کتاب کو یکسر رد کر دیں یا ناپسند کریں۔

کیا آپ اس تبصرے سے متفق ہیں۔اس کتاب کے بارے میں تبصرہ کریں ۔

اگر آپ نے یہ کتاب پڑھی ہے تو اسے 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹ کریں۔

تشریف آوری کے لئے مشکور ہوں۔

اگلے ہفتے فرحت اشتیاق کی کتاب “ہم سفر” کا تعارف و تبصرہ ملاحظہ کیجئے۔ان شاء اللہ۔

***************

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s