046- پیا رنگ کالا از بابا محمد یحییٰ خان

پیا رنگ کالا از بابا محمد یحییٰ خان

Piya Rang Kala By Baba yahya Khanمصنف: بابا محمد یحییٰ خان
صفحات: 722

بابا محمد یحییٰ خان موجودہ دور کے بابا ہیں۔ آپ ممتاز مفتی اور اشفاق احمد کے قبیل سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کو اپنا مرشد مانتے ہیں۔ بابا جی کے بارے میں کئی لوگ جانتے ہوں گے۔ زیر گفتگو کتاب “پیا رنگ کالا” بظاہر بابا محمد یحییٰ خان کی آپ بیتی ہے۔ بظاہر کا لفظ یہاں اس لئے استعمال کیا ہے کہ اس کتاب میں بہت ساری ایسی ماورائی اور بعید از عقل باتیں موجود ہیں جن کی حقیقت کی سند دینا بہت مشکل ہے۔ ایسی باتوں کی موجودگی کی بنا پہ عقل پسند لوگ اس کتاب کو ناول کا درجہ دیتے ہیں اور اگر انہی کی بنیاد پہ کئی ماننے والے بابا جی کو “علم” والے بندے کا درجہ دے دیتے ہیں۔ تاہم حقیقت کیا ہے یہ یا بابا جی جانتے ہیں یا پھر اللہ تعالیٰ۔

پیا رنگ کالا، بابا محمد یحییٰ خان کے روحانیت کے سفر کی داستان ہے۔ اس کتاب میں کئی رمزیہ باتیں ہیں اور کئی پر حکمت۔ کتاب کا آغاز ان کی پیدائش کی کہانی سے شروع ہوتا ہے۔ بابا جی کے مطابق وہ اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھے اور ایک فقیر کی دعا کے نتیجے میں آپ کی پیدائش ہوئی تھی۔ کتاب میں آپ کے بچپن کے واقعات درج ہیں جن میں سب سے اہم کردار آپ کی چاچی جی کا ہے جو خود بھی کچھ علم اور نظر رکھتی تھیں اور انہوں نے ہی سب سے پہلے آپ کو “کاگا” یعنی کوے کا سروپ قرار دیا تھا۔ اگر کتاب کو حقیقت مان کے چلا جائے تو یہ اسراروں کی ایک الگ دنیا میں لے جاتی ہے۔ کتاب میں کئی ایسے واقعات موجود ہیں جو اللہ کے کام کے پیچھے موجود مصلحتوں سے پردہ اٹھاتی ہیں۔ جیسے کتاب میں ایک لڑکی کا ذکر ہے جس کے چہرے پہ چیچک نکل آئی اور اس کے داغ رک گئے جس کی وجہ سے اس کا چہرہ بدنما نظر آنے لگا۔ بظاہر یہ اس لڑکی کے لئے تکلیف دہ صورتحال تھی لیکن بعد میں یہی چیچک کے داغ طوائف کے کوٹھے پہ اس کی عزت کے محافظ بن گئے۔ اس کے علاوہ کتاب میں ایک پراسرار جزیرے اور اس کی یہودی مالکن کا قصہ بھی موجود ہے جو یہودیوں کی سوچ اور کردار کے ایسے پہلوؤں پہ روشنی ڈالتا ہے جو عموماً نظروں سے اوجھل رہتے ہیں۔ اسی طرح اسپین کے ساحلوں پہ چیچک ذدہ افراد کی موجودگی اور ان کے علاج کا قصہ بھی پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔

کتاب میں گرچہ کئی واقعات پیش کئے گئے ہیں تاہم اس میں بنیادی ربط کی کمی ہے۔ گو مصنف کو زبان و بیان پہ مکمل عبور حاصل ہے لیکن اس کے باوجود کئی قصے نامکمل اور ادھورے چھوڑ دئے گئے ہیں۔ ایک قصہ بیان کرتے کرتے اس میں سے ایک نیا قصہ نکل آتا ہے۔ اور مصنف پرانے قصے کو درمیان مین چھوڑ کے نئے قصے کا بیان شروع کر دیتے ہیں۔ اس طرز تحریر سے قاری کی تشنگی بڑھ جاتی ہے اور وہ کسی نتیجے پہ پہنچنے سے قاصر رہ جاتا ہے۔ تاہم اچھی بات یہ ہے کہ “پیا رنگ کالا” مصنف کی آپ بیتی کا پہلا حصہ ہے۔ اس حصے کی دوسری کتاب “کاجل کوٹھا” کے عنوان سے مارکیٹ میں آ چکی ہے اور اس میں پہلے حصے کے کئی ادھورے قصوں کو مکمل کیا گیا ہے۔ تاہم کئی نئے قصے ادھورے چھوڑ دئے گئے ہیں۔ کتاب کا تیسرا حصہ “فکر فردا” کے عنوان سے آنا ہے تاہم ابھی تک یہ شائع نہیں ہوا۔ امید ہے کہ تیسرے حصے کے سامنے آنے کے بعد تصویر مزید مکمل اور واضح ہو سکے گی۔ ہم کتابستان میں ان شاء اللہ ان کتابوں پہ تبصرہ بھی پیش کریں گے۔

کتاب بےحد ضخیم ہے اس لئے اسے پڑھنے کے لئے کئی نشستیں درکار ہیں۔ قاری اسے ناول سمجھ کے پڑھتا ہے یا سچی آپ بیتی۔ یہ تو قاری کی اپنی سوچ اور رجحان پہ منحصر ہے۔ روحانیت اور طریقیت کی طرف جھکاؤ رکھنے والے قارئین یقیناً آپ بیتی کا درجہ دیں گے اور عقل پسند قارئین ناول کا۔ بہر حال اس الجھاؤ کے باوجود کتاب میں کئی معلوماتی اور حکمت سے بھرپور باتیں موجود ہیں۔ جن کے مطالعے سے ذہن کھلتا ہے اور معاملات کو کئی جہتوں میں دیکھنے کی تحریک ملتی ہے۔

کتاب کا ایک باب یہاں ملاحظہ فرمائیں۔

کیا آپ اس تبصرے سے متفق ہیں۔اس کتاب کے بارے میں تبصرہ کریں ۔

اگر آپ نے یہ کتاب پڑھی ہے تو اسے 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹ کریں۔

تشریف آوری کے لئے مشکور ہوں۔

اگلے ہفتےPeter L. Bergen کی کتاب “Man Hunt ” کا تعارف و تبصرہ ملاحظہ کیجئے۔ان شاء اللہ۔

Advertisements

One thought on “046- پیا رنگ کالا از بابا محمد یحییٰ خان”

  1. جو سمندر میں اتر گیا اس کےلیے یہ بس پانی ہی پانی ہے
    جو ساحل سمندر پر کھڑا رہا اس کےلیے یہ سمندر ہی سمندر ہے
    شرط بس اترنے کی ہے دیکھنے کی نہیں

    Like

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s