045- چوتھی سمت از علیم الحق حقی

چوتھی سمت از علیم الحق حقی

مصنف: علیم الحق حقی
صفحات: 174

علیم الحق حقی کا نام پاکستانی قارئین کے لئے نیا نہیں ہے۔ آپ کے قلم سے عشق کا عین، عشق کا شین، تاش کے پتے، اور دجال جیسے کئی ناول نکل چکے ہیں۔ جو بے انتہا مقبول رہے ہیں۔ علیم الحق حقی کے ناولوں کی خصوصیت ان کی سادہ زبان ہے۔ آپ سلیس اردو میں لکھتے ہیں اور کہانی آپ کے قلم سے پھسلتی چلی جاتی ہے۔ آپ کی تحاریر آسان اور عام فہم ہوتی ہیں اور ایک عام قاری کے ذہنی معیار پہ پورا اترتی ہیں جس کی وجہ سے کتاب کا پیغام قاری تک بخوبی پہنچ جاتا ہے۔ یہی آپ کی مقبولیت کی وجہ ہے۔ کتابستان میں آج کا موضوع آپ کی لکھی ہوئی ایک کتاب ہے جس کا عنوان ہے “چوتھی سمت”۔

چوتھی سمت، کا موضوع آواگون ہے یعنی مرنے کے بعد لیا جانے والا دوسرا جنم۔ یہ ایک کامیاب نوجوان مصنف کی کہانی ہے جو فلموں کے لئے لکھتا ہے۔ اور حال ہی میں اس کی ایک فلم کی کہانی آسکر ایوارڈ کے لئے نامزد بھی ہوئی ہے۔ حالات کے پھیر کی وجہ سے یہ نوجوان مصنف کچھ ایسے واقعات کا شکار ہونے لگتا ہے، اسے ایسی باتیں یاد آنے لگتی ہیں جن کی توجیہہ دوسرے جنم کے علاوہ نہیں ہوسکتی۔ اسے ایسا گمان ہوتا ہے کہ اس کا ایک پچھلا جنم تھا جس کی یادیں اس جنم میں آ کے اسے پریشان کر رہی ہیں۔ آہستہ آہستہ اسے اپنے پچھلے جنم کے ایک عشق کا معلوم ہوتا ہے اور یہ کہ اس جنم میں اس کی موت آگ لگنے سے ہوئی تھی۔ یہ نوجوان مصنف مذہباً مسلمان ہے اور جہاں ایک طرف اپنے گزشتہ جنم کی یادیں اس کے لئے مشکل کا سبب بنی ہوئی ہیں وہیں بطور مسلمان اس کا ان باتوں کی حقانیت پہ کوئی یقین نہیں۔ کہانی کس طرح پیچ و خم لے کے آگے بڑھتی ہے اس کے لئے تو ناول کا مطالعہ ہی کرنا پڑے گا۔

آواگون ایک نازک موضوع ہے جسے احتیاط کے ساتھ برتنے کی ضرورت ہے۔ چوتھی سمت پڑھتے ہوئے اس بارے میں مصنف کی مشکل کا احساس ہوتا ہے۔ مصنف نے آواگون جیسے موضوع پہ قلم اٹھا تو لیا تاہم اس موضوع کے اسلام مخالف ہونے کی وجہ سے اختتام پہ انہیں اس موضوع کی نفی کرنا پڑی۔ اختتام پہ انہوں نے تمام واقعات کی عقلی توجیہہ پیش کی اور ایک سازش کا ساخسانہ قرار دیا۔ اس بات نے کہانی کے حسن کو بہت بری طرح مجروح کیا ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مصنف نے عجلت میں تمام حالات و واقعات کا رخ اسلامی تشریح کی طرف موڑ دیا ہے جس سے کہانی کا انجام مصنوعی بن کے رہ گیا ہے اور اس کی بے ساختگی ختم ہوگئی ہے۔ تاہم اس کا فائدہ یہ ہے کہ یہ کہانی ہمارے مذہبی عقائد کے خلاف نہیں جاتی اور اسی لئے قاری کے ذہن میں کوئی الجھن نہیں چھوڑتی۔

کیا آپ اس تبصرے سے متفق ہیں۔اس کتاب کے بارے میں تبصرہ کریں ۔

اگر آپ نے یہ کتاب پڑھی ہے تو اسے 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹ کریں۔

تشریف آوری کے لئے مشکور ہوں۔

اگلے ہفتے بابا محمد یحییٰ خان کی کتاب “پیا رنگ کالا ” کا تعارف و تبصرہ ملاحظہ کیجئے۔ان شاء اللہ۔

Advertisements

2 thoughts on “045- چوتھی سمت از علیم الحق حقی”

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s