044- لبیک از ممتاز مفتی

لبیک از ممتاز مفتی

مصنف: ممتاز مفتی

ممتاز مفتی کا نام اردو ادب کے قارئین کے لئے نیا یا انجان نہیں ہے۔ آپ کے قلم سے کئی افسانے اور ناول نکل چکے ہیں۔ تاہم دو کتب ایسی ہیں جو آپ کی بھر پور مقبولیت کا سبب ہیں، علی پور کا ایلی اور الکھ نگری۔ اردو ادب کے ہر شائق نے ان دو کتابوں یا ان میں سے کسی ایک کتاب کا ضرور مطالعہ کیا ہو گا۔ کتابستان میں آج آپ کے قلم سے نکلی ہوئی ایک اور کتاب کا ذکر ہو رہا ہے جس کا عنوان ہے لبیک۔

لبیک، کوئی ناول یا افسانہ نہیں ہے۔ یہ آپ بیتی ہے، سفر نامہ ہے۔ یہ ممتاز مفتی صاحب کے حج کے سفر کی روداد ہے۔ یہ حج انہوں نے قدرت اللہ شہاب کے ساتھ ادا کیا تھا اور کتاب میں جگہ جگہ ان کے بارے میں معلومات موجود ہیں۔ ممتاز مفتی صاحب کا اپنے بارے میں یہ دعویٰ ہے کہ وہ کوئی مذہبی شخصیت نہیں ہیں۔ اپنی مذہب سے دوری کو انہوں نے کبھی نہیں چھپایا۔ یہی صورتحال اس کتاب میں بھی ہے جہاں آغاز میں انہوں نے حج پہ جانے سے پہلے کے واقعات بیان کئے ہیں کہ جب ان کا حج پہ جانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ممتاز مفتی کا سفر نامہ حج ایک الگ رنگ لئے ہوئے ہے۔ اس میں عقیدت کا وہ روایتی عنصر نظر نہیں آتا جو عموماً حج سے متعلق تحاریر میں موجود ہوتا ہے۔ اس کے باوجود یہ عقیدت سے بھری ہوئی کتاب ہے۔ ممتاز مفتی کا اللہ سے عقیدت کا انداز ایک دوست کی طرح کا ہے۔ ایک ایسا دوست جس سے وہ اپنے دل کی تمام باتیں کہہ سکتے ہیں۔ وہ اس دوست کے گھر کو خانہ کعبہ نہیں بلکہ “کالا کوٹھا” کہتے ہیں۔

کتاب میں جابجا ممتاز مفتی اور قدرت اللہ شہاب کے درمیان ہونے والی باتیں شامل کی گئی ہیں۔ جن سے ناصرف قدرت اللہ شہاب کی شخصیت پہ روشنی پڑتی ہے بلکہ کئی حکمت کی باتیں بھی سامنے آتی ہیں۔ مثال کے طور پہ یہ اقتباس ملاحظہ کیجئے:

یہ آپ کے ہاتھ میں کیا ہے؟
“یہ کاپی ہے۔” میں نے جواب دیا۔
“یہ کیسی کاپی ہے؟” قدرت نے پوچھا۔
“اس میں دعائیں لکھی ہیں۔ میرے کئی دوستوں نے کہا تھا کہ خانہ کعبہ میں ہمارے لئے دعا مانگنا۔ میں نے وہ سب دعائیں اس کاپی میں لکھ لی تھیں۔”
“دھیان کرنا” وہ بولے۔ “یہاں جو دعا مانگی جائے وہ قبول ہو جاتی ہے”
“کیا مطلب؟” میری ہنسی نکل گئی۔ “کیا دعا قبول ہوجانے کا خطرہ ہے؟”
“ہاں، کہیں ایسا نہ ہو کہ دعا قبول ہو جائے۔”
میں نے حیرت سے قدرت کی طرف دیکھا۔
بولے “اسلام آباد میں ایک ڈایریکٹ ہیں۔ عرصہ دراز ہوا انہیں روز بخار ہو جاتا تھا۔ ڈاکٹر، حکیم، وید، ہومیو سب کا علاج کر دیکھا، کچھ افاقہ نہ ہوا۔ سوکھ کر کانٹا ہو گئے۔ آخر چارپائی پر ڈال کر کسی درگاہ پہ لے گئے۔ وہاں ایک مست سے کہا بابا دعا کر کہ انہیں بخار نہ چڑھے۔۔۔ انہیں آج تک بخار نہیں چڑھا۔
اب چند سال سے ان کی گردن کے پٹھے اکڑے ہوئے ہیں۔ وہ اپنی گردن ادھر ادھر ہلا نہیں سکتے۔ ڈاکٹر کہتے ہیں کہ یہ مرض صرف اسی صورت میں دور ہو سکتا ہے کہ انہیں بخار چڑھے۔ انہیں دھڑادھڑ بخار چڑھنے کی دوائیاں کھلائی جا رہی ہیں مگر انہیں بخار نہیں چڑھتا۔”
دعاؤں کی کاپی میرے ہاتھ سے چھوٹ کر گر پڑی۔ میں نے اللہ کے گھر کی طرف دیکھا۔ “میرے اللہ! کیا کسی نے تیرا بھید پایا ہے۔”

یہ ایک ایسی کتاب ہے جو پڑھنے کے بعد مدتوں یاد رہے گی۔

کیا آپ اس تبصرے سے متفق ہیں۔اس کتاب کے بارے میں تبصرہ کریں ۔

اگر آپ نے یہ کتاب پڑھی ہے تو اسے 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹ کریں۔

تشریف آوری کے لئے مشکور ہوں۔

اگلے ہفتے علیم الحق حقی کی کتاب “چوتھی سمت” کا تعارف و تبصرہ ملاحظہ کیجئے۔ان شاء اللہ۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s