042- پانچ خوفناک کہانیاں از مقبول جہانگیر

پانچ خوفناک کہانیاں از مقبول جہانگیر

panch khofnak kahanyanمترجم: مقبول جہانگیر

صفحات: 240

مقبول جہانگیر کا نام سسپنس، جاسوسی، اور خوفناک کہانیاں پسند کرنے والے قارئین کے لئے نیا نہیں ہے۔ آپ کے قلم سے لاتعداد کہانیاں نکل چکی ہیں۔کئی مشہور مصنفین کی کتابوں کے ترجمے آپ نے اردو قارئین کے لئے پیش کئے ہیں۔ آپ کی ترجمہ شدہ ایک اور کتاب بھی کتابستان کا موضوع رہ چکی ہے جس کو یہاں ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔ زیر نظر کتاب “پانچ خوفناک کہانیاں” بھی تراجم کے مجموعے پہ مشتمل ہے۔ یہ کتاب گرچہ مقبول جہانگیر کے نام سے پیش کی گئی ہے تاہم یہ ان کی ذاتی تخلیقات پہ نہیں بلکہ غیر ملکی زبان میں لکھی گئی خوفناک کہانیوں کے ترجموں پہ مشتمل ہے۔ ان کہانیوں کے اصل خالق کون ہیں اس بارے میں کتاب میں کوئی معلومات نہیں دی گئیں اس لئے ان کے اصل لکھاریوں کے بارے میں ہم آگاہ نہیں۔ دراصل یہ کتاب مقبول جہانگیر صاحب کی وفات کے بعد ان کے ایک دوست نے ان کی محبت اور یاد میں شائع کروائی ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اس کتاب کو مقبول جہانگیر صاحب کے نام سے موسوم کر دیا ہے۔ تاہم کہانیاں پڑھتے ہوئے کہیں کہیں مصنف نے ان تراجم کے بارے میں اپنی رائے بھی دی ہے اور اصلی مصنف یا راوی کے بارے میں بھی بیان کیا ہے۔

کتاب جیسا کہ عنوان سے بھی واضح ہے کہ پانچ کہانیوں پہ مشتمل ہے۔ ان پانچ کہانیوں کے عنوانات ہیں: آخری تصویر، انسانی بھیڑیا، روح کا وعدہ، جنرل کی کھوپڑی اور کارمیلا۔

“آخری تصویر” مغل بادشاہ شاہجہاں کے دور کے ایک نوجوان مصور کی بنائی ہوئی آخری تصویر کی کہانی ہے۔ یہ تصویر ایک بےحد خوبصورت لڑکی اور ایک کریہہ صورت کرخت آدمی کی تصویر ہے۔ یہ خوبصورت لڑکی نوجوان مصور کی محبوبہ تھی۔ اس کے ساتھ کھڑا ہوا کرخت صورت آدمی کون تھا یہ جاننے کے لئے تو کہانی ہی پڑھنی پڑے گی۔ نیز یہ تصویر مصور کی آخری تصویر کیوں تھی، یہ راز بھی کہانی پڑھنے پہ ہی کھلے گا۔ کہانی مغلیہ دور کے ماحول کی عکاسی کرتی ہے نیز ایک سچے عاشق کی مشکلات بھری زندگی کی داستان ہے۔ کہانی کے کرداروں میں ایک جن کی موجودگی نے اسے خوفناک کہانیوں کے زمرے میں لا کھڑا کیا ہے۔

انسانی بھیڑیا، شکاریات سے متعلق کہانی ہے جہاں شکاری کو دوران شکار ایک انسانی بھیڑئے سے واسطہ پڑتا ہے جو ایک ماورائی مخلوق تھا۔

روح کا وعدہ، ایک انسانی روح کی کہانی ہے جو مشہور پامسٹ کیرو کی زبانی پیش کی گئی ہے اسی وجہ سے مصنف/ مترجم کا اصرار ہے کہ یہ ایک اصلی کہانی ہے۔ عموماً کہا جاتا ہے کہ جانوروں میں روحوں اور دیگر ایسی مخلوقات کو دیکھنے کی صلاحیت ہوتی ہے جو انسانی آنکھ سے نظر نہیں آتے۔ مصنف نے اس خیال کا اس کہانی میں بخوبی استعمال کیا ہے۔

جنرل کی کھوپڑی، میں بظاہر کسی ماورائی مخلوق کا ذکر نہیں، لیکن جنرل کی اپنی داستان بذات خود ایک ہیبت ناک کہانی ہے اور اس کے ساتھ جو کچھ پیش آیا اللہ تعالیٰ اس تکلیف سے ہر انسان کو محفوط رکھے۔ آمین۔

پانچ کہانیوں پہ مشتمل اس کتاب کی آخری کہانی کارمیلا ہے۔ کہانی میں ایک پراسرار کردار کی موجودگی سے سسپنس پیدا کیا گیا ہے۔ اس پراسرار کردار کی موجودگی کئی اموات کا باعث بنتی ہے۔ اس کردار یعنی کارمیلا کی کہانی جاننے کے لئے تو کتاب ہی پڑھنی پڑے گی۔

مقبول جہانگیر صاحب نے ترجمے کا حق ادا کیا ہے۔ کہانیاں سادہ اور عام فہم انداز میں ترجمہ کی گئی ہیں اور انہیں سمجھنے کے لئے ذہن پہ زیادہ زور نہیں ڈالنا پڑتا۔ ٹائم پاس کرنے کے لئے اچھی کتاب ہے۔

کیا آپ اس تبصرے سے متفق ہیں۔اس کتاب کے بارے میں تبصرہ کریں ۔

اگر آپ نے یہ کتاب پڑھی ہے تو اسے 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹ کریں۔

تشریف آوری کے لئے مشکور ہوں۔

اگلے ہفتے عمیرا احمد کی کتاب “پیر کامل ” کا تعارف و تبصرہ ملاحظہ کیجئے۔ان شاء اللہ۔

Advertisements

4 thoughts on “042- پانچ خوفناک کہانیاں از مقبول جہانگیر”

  1. The last story is a masterpiece of Gothic Literature from Joseph Sheridan Le Fanu, “Carmilla”.

    Like

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s