040۔ تذکرہ حسین بن منصور حلاج از ڈاکٹر شاہد مختار

تذکرہ حسین بن منصور حلاج از ڈاکٹر شاہد مختار

Picture1مصنف: ڈاکٹر شاہد مختار
صفحات: 223

کتابستان کا آج کا موضوع حسین بن منصور حلاج کے بارے میں لکھی گئی ایک کتاب ہے جس کا عنوان انہی کے نام پہ ہی ہے۔ حسین منصور بن حلاج ہماری تاریخ کا ایک ایسا کردار ہیں جن کی وجہ شہرت اناالحق یعنی “میں خدا ہوں” کا نعرہ ہے۔ یہی نعرہ انہیں کسی کی نظر میں کافر بنا دیتا ہے، کوئی انہیں گمراہ قرار دے دیتا ہے اور کوئی انہیں صوفی کا درجہ دے دیتا ہے۔ اپنے خیالات کی وجہ سے انہیں پھانسی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ کئی لوگ آپ کو مظلوم شہید قرار دیتے ہیں۔ بہت سے لوگوں کے خیال میں آپ کا معاملہ اللہ پہ ہی چھوڑ دینا چاہئے۔ مختلف لوگوں کا یہی رویہ انہیں ایک متنازعہ شخصیت بنا دیتا ہے۔ ڈاکٹر شاہڈ مختار نے اسی متنازعہ شخصیت کے بارے میں قلم اٹھایا ہے۔ تذکرہ حسین بن منصور حلاج میں منصور حلاج کی زندگی اور اس کے واقعات کے بارے میں تفصیلات موجود ہیں۔

کتاب کے آغاز میں منصور حلاج کا ایک قول بیان کیا گیا ہے،
“میں نے ادیان کے بارے میں گہرے تفکر میں تحقیق کی
اور انہیں کئی شاخوں والی جڑوں کی طرح پایا
کسی سے اس کے دین کے بارے میں مت پوچھو
(ایسا کرنا) اسے جڑ سے جدا کر دیتا ہے
اصل اسے ڈھونڈ لے گا
جیسے جیسے معنی آشکار ہوں گے، وہ جان لے گا۔”

223 صفحات کی کتاب کل نو ابواب پہ مشتمل ہے جن کے عنوانات ہیں:
دیباچہ؛ پیدائش سے بلوغت تک؛ تحصیل علم؛ شخصیت؛ ویدانت، تصوف، حلول اور وحدت الوجود؛ نظریات ابن منصور؛ نعرہء اناالحق؛ گرفتاری، مقدمہ اور سزا؛ اور زمزمہ موت۔

مصنف نے دیباچے میں مختلف بزرگوں بشمول جوزی، ابوبکر شبلی، ابن عطا، ابن حاقل، ابن کثیر، کی منصور حلاج کے بارے میں رائے پیش کی ہے۔ دیباچے کے اختتام پہ مصنف کا کہنا ہے کہ آئیے اس پراسرار شخصیت کی سربستہ راز حیات کے شب و روز پہ جمی ہوئی روایات کی دبیز تہہ کو تاریخی شواہد کی مدد سے صاف کرتے ہوئے تصوف کی دنیا کو نعرہء انا الحق سے لرزا دینے والی اس شخصیت کے بارے میں قطعی رائے قائم کریں۔

یہ کتاب ایک تحقیقی کتاب کے انداز میں لکھی گئی ہے جس میں جگہ جگہ مختلف لوگوں کی رائے پیش کی گئی ہے۔ نیز منصور حلاج کی باتیں اور اقوال بھی ٹو دی پوائنٹ اور بنا کسی لفاظی کے پیش کئے گئے ہیں۔ کتاب میں پیش کی گئی باتوں میں رنگ آمیزی نہیں کی گئی اور تمام باتوں کو بلا کم و کاست پیش کیا ہے جو اسے دیگر تاریخی کتب ممتاز کرتا ہے۔ روایتی انداز میں لکھی گئی تاریخی کتب کے قارئین کے لئے یہ کتاب مشکل یا مایوس کن ہو سکتی ہے۔ تاہم سنجیدہ قارئین جو تاریخی حقائق جاننا چاہتے ہیں، کے لئے یہ ایک مفید کتاب ہو سکتی ہے۔ کتاب منصور حلاج کی پیدائش سے لے کر موت تک کے تمام مراحل کو پیش کرتی ہے اور اپنے موضوع پہ ایک مختصر مگر جامع کتاب ہے۔

کیا آپ اس تبصرے سے متفق ہیں۔اس کتاب کے بارے میں تبصرہ کریں ۔

اگر آپ نے یہ کتاب پڑھی ہے تو اسے 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹ کریں۔

تشریف آوری کے لئے مشکور ہوں۔

اگلے ہفتے بانو قدسیہ کی کتاب “سامان وجود ” کا تعارف و تبصرہ ملاحظہ کیجئے۔ان شاء اللہ۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s