036۔ اور لائن کٹ گئی از مولانا کوثر نیازی

اور لائن کٹ گئی از مولانا کوثر نیازی

14784_AZ7968مصنف: مولانا کوثر نیازی
صفحات: 171
قیمت: 250 روپے
ناشر: احمد پبلی کیشنز لاہور

گزشتہ مہینے پاکستان میں عام انتخابات منعقد ہوئے۔ یہ انتخابات اس لحاظ سے اہم تھے کہ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی جمہوری حکومت نے اپنی مدت مکمل کی تھی اور اقتدار انتخابی عمل کے ذریعے سے نئی حکومت کو منتقل ہونے والا تھا۔ اس عمل کے دوران ملک کی تمام اہم سیاسی جماعتوں نے بھر طور طریقے سے حصہ لیا اور اسمبلیوں میں آنے کے لئے بھرپور کوشش کی۔ اس موقع پہ کتابستان ماضی کے اوراق سے نکال کے ایک کتاب لایا ہے جس میں پاکستان کے ایک سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کے خاتمے، انتخابات اور جناب ضیا الحق کے لگائے گئے مارشل لاء سے پہلے کے حالات کو موضوع بنایا گیا ہے۔ اور لائن کٹ گئی، مولانا کوثر نیازی کی لکھی ہوئی کتاب ہے۔ آپ ذوالفقار بھٹو کے دور حکومت میں مذہبی امور کے وزیر تھے۔ اس لحاظ سے بھٹو صاحب سے آپ کی میل ملاقات بھی ہوتی رہتی تھی اور اس دور میں پیش آنے والے دیگر واقعات بھی آپ کی نظروں سے گزرتے رہے تھے۔

کتاب میں کل بائیس باب ہیں۔ جن کے عنوانات ہیں: وہ خوفناک رات، انتخابات وقت سے پہلے کیوں، بیوروکریسی کے نرغے میں، نجومیوں اور دشت شناسوں سے مشورے، انتخابی مہم کا آغاز، جرنیلوں سے مشورے، جزوی مارشل لاء کا نفاذ، غیرملکی ہاتھ، ری پراسیسنگ پلانٹ کے پس پردہ حقائق، مارشل لاء کے حق میں یحیٰ بختیار کے دلائل، مزاکرات کی طرف پیش رفت، بھٹو صاحب سہالہ ریسٹ ہاؤس میں، مزاکرت کی راہ ہموار ہوتی ہے، جرنیل ایکسپوز ہوتے ہیں، مزاکرات کے دوران پیپلز پارٹی مسودہ پیش کرتی ہے، نہ جائے رفتن نہ ہائے ماندن، ڈیڈ لاک ہوتا ہے، فیصلہ کن موڑ، کچھ متفرق باتیں، بھٹو مودودی ملاقات اور لائن کٹ گئی۔

ابواب کے عنوانات سے اندازہ ہوتا ہے کہ کتاب میں بھٹو کے آخری دور بالخصوص مارشل لاء کے نفاذ سے بالکل پہلے کے حالات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ بھٹو صاحب کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں پہ بھی روشنی ڈالی گئی ہے جہاں ان کی اچھائیاں اور کردار کی مضبوطی کا ذکر کیا گیا ہے وہیں ان کی شخصیت کی کمزوری پہ بھی بات کی گئی ہے جیسے نجومیوں اور دشت شناسوں سے مشورے وغیرہ۔ اسی طرح 1979 کے انتخابات کے دوران ہونے والی دھاندلی کے امکان پہ بھی مصنف نے قلم اٹھایا ہے۔ اس کے علاوہ مصنف نے وہ تمام واقعات اور وجوہات قلم بند کرنے کی کوشش کی ہے جو ان کی حکومت کا تختہ الٹنے کا باعث بنیں۔ بھٹو صاحب کی حکومت کا تختہ الٹے جانے میں بیرونی ہاتھ کا عمل دخل اور پاکستان کے ایٹمی پروگرام سے اس کا تعلق واضح کرنے کی بھی کوشش کی گئی ہے۔ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کا آغاز کس طرح ہوا اس بارے میں مکمل باب موجود ہے جو ناصرف بھٹو صاحب بلکہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے کردار پہ بھی بھرپور روشنی ڈالتا ہے نیز ان مشکلات کو بھی پیش کرتا ہے جو پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو شروع دن سے لاحق رہے ہیں۔

گرچہ بھٹو صاحب کے بارے میں بےشمار کتب لکھی جا چکی ہیں۔ تاہم یہ کتاب ان کے ایک قریبی ساتھی کے قلم سے نکلی ہے اور آپ کی وزارت عظمیٰ کے آخری دور کے حالات پہ تفصیلی روشنی ڈالتی ہے۔ پاکستانی تاریخ کے اس باب سے دلچسپی رکھنے والوں کے لئے اس کتاب کا مطالعہ یقیناً دلچسپی کا باعث ہوگا۔

کیا آپ اس تبصرے سے متفق ہیں۔اس کتاب کے بارے میں تبصرہ کریں ۔

اگر آپ نے یہ کتاب پڑھی ہے تو اسے 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹ کریں۔

تشریف آوری کے لئے مشکور ہوں۔

اگلے ہفتے مستنصر حسین تارڑ کی کتاب “پیار کا پہلا شہر” کا تعارف و تبصرہ ملاحظہ کیجئے۔ان شاء اللہ۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s