034۔ قدم بہ قدم از مسعود الحسن ضیاء

قدم بہ قدم از مسعود الحسن ضیاء

مصنف: مسعود الحسن ضیا

صفحات: 224

قیمت: 250 روپے

ناشر: پورب اکادمی، اسلام آباد

کتابستان کے آج کے بلاگ کا موضوع مسعود الحسن ضیاء کی لکھی ہوئی کتاب قدم بہ قدم ہے۔ مسعود الحسن ضیاء صاحب کی غالباً یہ پہلی کتاب ہے کیونکہ ان کی لکھی ہوئی کسی دوسری کتاب کا باوجود تلاش کے علم نہیں ہو سکا (اپ ڈیٹ: یہ کتاب مسعود الحسن صاحب کی پہلی تصنیف نہیں ہے۔ آپ کی پہلی تصنیف اور دیگر کتب کے بارے میں جاننے کے لئے اس بلاگ کے نیچے ان کا تبصرہ ملاحظہ کریں۔ شکریہ)۔ کتاب کے آغاز میں کئی لوگوں کی کتاب کے بارے میں رائے بھی پیش کی گئی ہے جن میں بانو قدسیہ صاحبہ، پروفیسر ڈاکٹر سلطان الطاف علی، فرحین چوہدری، پروفیسر ڈاکٹر سید شاہد حسن رضوی، اور ڈاکٹر مزمل بھٹی شامل ہیں۔ بانو قدسیہ صاحبہ کے خیالات پڑھ کے اندازہ ہوتا ہے کہ مسعود صاحب بھی اسی مکتب فکر سے تعلق رکھتے ہیں جس سے ممتاز مفتی صاحب رکھتے تھے اور ابدال بیلا، مسعود صاحب کی رہنمائی کے فرائض ادا کر رہے ہیں۔ کتاب کو پڑھتے ہوئے بھی مصنف اور ابدال بیلا صاحب کی دوستی اور تعلقات کا اندازہ ہوتا ہے۔

قدم بہ قدم ایک سفر نامہ ہے لیکن یہ ذرا مختلف قسم کا سفر ہے۔ عموماً سفرناموں میں کسی ملک یا شہر کے سفر اور اس کی سیر کا احوال بیان کیا جاتا ہے۔ تاہم قدم نہ قدم کا موضوع کسی ملک کی سیر نہیں، بلکہ اسلامی تاریخ کا سفر ہے۔ یہ کتاب دو حصوں پہ مشتمل ہے۔ پہلا حصہ “بصیرت” اور دوسرا حصہ “نور بصیرت” کے عنوان سے پیش کیا گیا ہے۔

پہلے حصے کا سفر مسعود الحسن صاحب نے اپنے دو مرشدوں مولانا روم اور علامہ اقبال کی ہمراہی میں طے کیا ہے۔ اسلامی تاریخ کا سفر مولانا روم اور علامہ اقبال کی ہمراہی میں کرنے کا خیال نا صرف اچھوتا ہے بلکہ مسعود صاحب نے اسے بخوبی پیش بھی کیا ہے۔ مسعود صاحب نے اپنے مرشدوں کا کلام ساتھ ساتھ پیش کرکے سفرنامے کو چار چاند لگا دئے ہیں۔ اسلامی تاریخ سے ناواقفیت آج کے نوجوانوں کا علمیہ ہے۔ اس سے بڑھ کے یہ سوچ کہ اسلام تلوار کے زور پہ پھیلا، ہماری جڑوں کو کاٹے دے رہی ہے۔ ایسے میں یہ کتاب اسلامی تاریخ کے کھوئے ہوئے سحر کو واپس لانے میں مددگار ہے اور مسعود الحسن صاحب کے پیش کرنے کا انداز بےحد متاثر کن ہے۔

کتاب کا دوسرا حصہ “نور بصیرت” کے عنوان سے ہے۔ یہ حصہ مشہور صوفیاء کرام کی مختصر سوانح اور ان کے مزارات کی حاضری پہ مشتمل ہے اور اسے بھی سفر نامے کے انداز میں ہی پیش کیا گیا ہے۔ پاکستان کی سرزمین پہ کئی اولیائے کرام کا قدم پڑا ہے اور کئی بابرکت ہستیوں کے مزارات یہاں موجود ہیں۔ مسعود الحسن صاحب نے ان مزارات پہ خود جا کے حاضری دی ہے اور وہاں کا احوال اس کتاب میں پیش کیا ہے۔ کتاب مین بیس سے زیادہ بزرگان دین کا ذکر پیش کیا گیا ہے جن میں اچ شریف، حضرت مخدوم سید ناصر الدین رح، حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر رح، حضرت سلطان باہو، حضرت بری امام سرکار رح اور کئی دوسرے بزرگان دین شامل ہیں۔

کتاب کا خیال منفرد ہے اور پیش کرنے کا انداز بھلا ہے۔ تصوف کی راہ پہ چلنے والے قارئین کے لئے یقیناً اس کتاب میں دلچسپی کا سامان موجود ہے۔

کیا آپ اس تبصرے سے متفق ہیں۔اس کتاب کے بارے میں تبصرہ کریں ۔

اگر آپ نے یہ کتاب پڑھی ہے تو اسے 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹ کریں۔

تشریف آوری کے لئے مشکور ہوں۔

اگلے ہفتے Agatha Christie کی کتاب “The ABC murders” کا تعارف و تبصرہ ملاحظہ کیجئے۔ان شاء اللہ۔

Advertisements

4 thoughts on “034۔ قدم بہ قدم از مسعود الحسن ضیاء”

  1. A.O.A
    I am Masood ul Hassan Zia from Bahawalpur , Pakistan
    Respected,
    In your review of “Qadam ba Qadam”,you said it may be the first book.I want to inform you that my first book was”Asma-e-khair” published by Dar-ul-Qalam,Lahore.Second was “Qadam ba Qadam” and third was “Seerat-e-FatimaBizat-u-Rasool R.A”.Now the forth one”The Meta Dimension of Time and Space” recently published by Lap Lambert Academica,Germany and marketed by Amazon in July 2016.

    Kindly add these three books in your review of “Qdam ba Qadam.”

    Like

    1. وعلیکم السلام
      بہت شکریہ۔ یہ ہماری خوش نصیبی ہے کہ محترم مسعود الحسن صاحب نے خود ہمارے بلاگ پہ رائے دی اور ہماری تصحیح کی۔
      ہم آپ کی نئی کتاب کی پبلیکیشن پہ آپ کو مبارک باد پیش کرتے ہیں اور آپ کی کامیابیوں کے لئے دعا گو ہیں۔
      والسلام

      Like

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s