032۔ شب گزیدہ از عنیزہ سید

شب گزیدہ از عنیزہ سید

مصنفہ: عنیزہ سید
صفحات: 232
ناشر: خواتین ڈائجسٹ، اردو بازار کراچی

عنیزہ سید کا نام ڈائجسٹ پڑھنے والے قارئین اور خصوصاً خواتین کے لئے نیا نہیں ہے۔ آپ کی تحریر کردہ کہانیاں، ناول اور افسانے کافی عرصے سے مختلف ڈائجسٹوں میں چھپتے رہے ہیں اور اب آپ کی تحریریں کتابی شکل میں بھی پیش کی جا رہی ہیں۔ عنیزہ ان خواتین قلم کاروں میں شامل ہیں جن کی تحریروں میں سنجیدگی اور مقصدیت موجود نظر آتی ہیں۔ آپ کی تحریریں کہانی برائے کہانی یا صرف ذہنی فینٹیسی حاصل کرنے کے لئے لکھی جانے والی کہانیوں میں نہیں آتیں۔

کتابستان کا آج کا موضوع عنیزہ سید کی ہی ایک کتاب ہے جس کا عنوان ہے “شب گزیدہ”۔

شب گزیدہ، ایک ناولٹ ہے اور شعاع ڈائجسٹ میں قسط وار شائع ہوتا رہا ہے۔ یہ ایک لڑکی عائشہ کی کہانی ہے جو ایک چھوٹے سے گاؤں کی رہنے والی تھی جہاں لڑکیوں کی تعلیم کو ثانوی اہمیت بلکہ بالکل ہی غیر ضروری سمجھا جاتا تھا۔ ایسے میں اس کی خوش قسمتی یا بد قسمتی سے اسے تعلیم حاصل کرنے کا موقع مل گیا اور ناصرف اس نے گاؤں میں اپنی تعلیم حاصل کی بلکہ اسے لاہور شہر بھی بھیجا گیا کینئرڈ کالج سے تعلیم حاصل کرنے کے لئے۔ یہیں سے عائشہ کی زندگی بدل گئی اور اس نے آزادانہ زندگی گزارنے کی روش پہ اپنے قدم رکھ دئیے۔ اس کا سفر طویل ہوا اور قسمت نے اسے عائشہ سے آشا چاٹگام والا بنا دیا۔

ناول کا پہلا حصہ ناول ایک کردار مجتبیٰ حسین کی زبانی پیش کیا گیا ہے جو عائشہ کی محبت میں مبتلا تھا۔ اور دوسرا حصہ وہ خط ہے جو عائشہ نے مجتبیٰ حسین کو لکھا، آشا چاٹگام بننے کے بعد۔ جس میں اس نے اپنی زندگی کی کہانی بیان کی ہے اور ان حالات اور تکلیفات کا ذکر کیا ہے جو اس نے آزادی حاصل کرنے کی کوشش میں اٹھائیں۔ یہ ایک بھٹکی ہوئی لڑکی کی کہانی ہے جسے سب کے سامنے پیش کرکے مصنفہ نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ لڑکیوں کو اس حال تک پہنچانے کا ذمہ دار کون ہے۔ یقیناً ہر بھٹکنے والی لڑکی کی ایک کہانی ہوتی ہے اور اسے اس حال تک پہنچانے میں اس کی اپنی غلطیوں اور خواہشات کے ساتھ ساتھ ہمارے معاشری رویوں، تفریق اور جرائم پیشہ عناصر کا بڑا ہاتھ ہے۔ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ سب بہنوں، بیٹیوں کی حفاظت فرمائیں اور انہیں کسی بھی بری گھڑی سے دوچار نہ کریں۔ آمین۔

شب گزیدہ میں ایک چھوٹی سی کہانی اور بھی شامل کی گئی ہے جس کا عنوان ہے “آؤ سچ بولیں”۔ یہ بھی ڈائجسٹ میں شائع شدہ کہانی ہے اور ہلکی پھلکی رومانوی کہانی ہے۔ شب گزیدہ جیسی سنجیدہ تحریر پڑھنے کے بعد یہ کہانی ذہنی سوچ کو ہلکا پھلکا کرنے میں مدد دیتی ہے۔

کیا آپ اس تبصرے سے متفق ہیں۔اس کتاب کے بارے میں تبصرہ کریں ۔

اگر آپ نے یہ کتاب پڑھی ہے تو اسے 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹ کریں۔

تشریف آوری کے لئے مشکور ہوں۔

اگلے ہفتے مولانا عاصم عمر کی کتاب “برمودا تکون اور دجال” کا تعارف و تبصرہ ملاحظہ کیجئے۔ان شاء اللہ۔

Advertisements

3 thoughts on “032۔ شب گزیدہ از عنیزہ سید”

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s