028۔ تھوڑا سا آسمان از عمیرا احمد

تھوڑا سا آسمان از عمیرا احمد

مصنفہ: عمیرا احمد
صفحات: 829
قیمت: 700 روپے
ناشر: علم و عرفان پبلشرز

عموماً ڈائجسٹس میں چھپنے والی خواتین لکھاریوں کی لکھی ہوئی کہانیاں سنجیدہ قارئین کی توجہ نہیں لے پاتیں، تاہم عمیرا احمد اس لحاظ سے خوش قست مصنفہ ہیں کہ وہ سنجیدہ ادب پسند کرنے والوں میں بھی پڑھی جاتی ہیں۔ ایسا عمیرا کی خوش قسمتی کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ ان کے کام کی وجہ سے ہے۔ ان کی تحاریر اتنی مضبوط ہوتی ہیں کہ وہ قاری کو اپنے سحر میں جکڑ لیتی ہیں اور کتاب پڑھے بنا کوئی چارہ نہیں رہتا۔ آج کا بلاگ، تھوڑا سا آسمان عمیرا احمد کے قلم سے نکلا ہوا ایک ضخیم ناول ہے جو آٹھ سو سے زائد صفحات پہ محیط ہے۔ مزید صفحات پہ لکھائی بہت چھوٹے سائز کی ہے اس لئے ایک صفحے پہ موجود مواد کی مقدار بھی کافی زیادہ ہے۔ یہاں اس بات کا ذکر کرنے کی ضرورت اس لئے پیش آئی تاکہ قارئین کو اندازہ ہو سکے کہ وہ ایک انتہائی تفصیلی انداز میں لکھا ہوا ناول پڑھنے والے ہیں، جسے لکھتے ہوئے کہانی کے مختلف پہلوؤں پہ بھر پور توجہ دی گئی ہے اور ناول ختم ہونے پہ کسی قسم کی تشنگی محسوس نہیں ہوتی۔ عمیرا کے دیگر ناولوں کی طرح یہ ناول بھی قسط وار ڈائجسٹ میں شائع ہو چکا ہے اور بعد میں اس کو کتابی شکل میں علم و عرفان پبلشرز نے پیش کیا ہے۔ اس ناول پہ ڈرامہ بھی بنایا جا چکا ہے۔

تھوڑا سا آسمان ایسے لوگوں کی کہانی ہے جو آسمان کی بلندیوں کو چھونا چاہتے ہیں۔ اور ایسا کرنے کے لئے وہ کسی حربے، کسی ہتھکنڈے، مکر و فریب اور برائی کو اختیار کرنے میں نا تو شرمندگی محسوس کرتے ہیں اور نہ ہی چوکتے ہیں۔ ناول عمیرا نے اپنے روایتی انداز میں لکھا ہے۔ ناول کا پلاٹ بےحد مضبوط اور مربوط ہے۔ اس ناول کی خاص بات کرداروں کی بہتات ہے، تاہم ہر کردار کہانی کی ضرورت کے مطابق شامل کیا گیا ہے اور انگوٹھی میں نگینے کی طرح فٹ ہے۔ اتنے بہت سارے کرداروں کو ساتھ لے کے چلنا اور ہر کردار کے ساتھ انصاف کرنا، عمیرا احمد کا ہی خاصا ہو سکتا ہے۔ تاہم چند ایک کو چھوڑ کے تقریباً تمام ہی کردار منفی نوعیت کے ہیں۔

تھوڑا سا آسمان شائستہ کمال اور ہارون کمال کی کہانی ہے۔ لیکن یہ دونوں مرکزی کردار ہونے کے باوجود منفی نوعیت کے ہیں۔ ناول کی خاص بات یہ ہے کہ عمیرا نے ان کرداروں کے منفی پن کو اس خوبصورتی سے دکھایا ہے کہ قاری ان سے نفرت محسوس کرنے لگتا ہے۔ دیگر افراد اور کردار آہستہ آہستہ کہانی ہارون کمال اور شائستہ کمال کی زندگیوں میں شامل ہوتے ہیں اور کہانی کا حصہ بنتے جاتے ہیں۔ ناول میں شائستہ اور ہارون کے علاوہ دو اور خاندانوں کی کہانی بھی بیان کی گئی ہے یہ خاندان آپس میں کسی وجہ سے منسلک ہیں لیکن کہانی کے آغاز میں یہ بات واضح نہیں ہوتی۔ کہانی کے دیگر اہم کرداروں میں فاطمہ، امبر منصور، اور شہیر شامل ہیں۔

ناول بہت تفصیلی لکھا گیا ہے تاہم آغاز میں جہاں ہارون اور شائستہ کے ماضی سے روشناس کرایا گیا ہے، وہ حصہ عجلت میں لکھا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ لیکن یہ احساس بھی ناول میں قاری کی دلچسپی کم کرنے میں کردار ادا نہیں کرتا۔ شائستہ کمال ایک بہت بڑے بزنس مین کی بیوی ہے اور اس میں وہ تمام اخلاقی برائیاں موجود ہیں جو انتہائی امیر طبقے کا خاصہ ہوتی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی وہ اپنے شوہر کے کاروبار کی ترقی کے لئے بہت اہمیت رکھتی ہے۔ کہانی میں یہ بات بار بار باور کرائی گئی ہے کہ شائستہ کمال کی افادیت کی وجہ سے ہارون کمال کا بزنس بہت ترقی کر رہا تھا اور شائستہ اپنے کانٹیکٹس استعمال کرکے اس کے بزنس کے مسائل فوراً حل کروا دیتی تھی۔ تاہم ناول میں ایک بارے میں ایک بھی واقعے یا مثال سے یہ واضح نہیں کیا گیا کہ شائستہ کس طرح ہارون کمال کے بزنس میں مددگار تھی اور اس وجہ سے اس پہ حاوی تھی۔ اتنے ضخیم ناول میں اس پہلو کو نظر انداز کرنے کی وجہ سے کہانی میں ایک خلاء سا محسوس ہوتا ہے اور قاری ناول پڑھنے کے دوران اپنی رائے بنانے کی ببجائے مصنفہ کی بتائی ہوئیی بات پہ بھروسہ کرنے پہ مجبور ہوتا ہے۔

کہانی کا ایک اہم اور عجیب کردار فاطمہ کا ہے۔ جسے قاری سے ایک انتہائی بدصورت عورت کے طور پہ متعارف کروایا گیا ہے۔ ہمارے معاشرے میں کسی بھی لڑکی کے رنگ یا قد کی وجہ سے اسے تضحیک کا نشانہ بنانا بےحد عمومی بات ہے، تاہم یہ کوئی بدصورتی کے پیمانے نہیں ہیں۔ لیکن جب عمیرا جیسی مصنفہ ان پیمانوں کی بنیاد پہ کسی کی بدصورتی کا فیصلہ کرتی ہے تو یقین نہیں آتا۔ کہانی پڑھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ فاطمہ کی بدصورتی دراصل اس کے احساس کمتری کی وجہ سے تھی۔ ناول کے آگے بڑھنے پہ یہ بھی بات سامنے آتی ہے کہ اس بدصورت عورت کا دل بہت خوبصورت تھا اور فاطمہ کے کردار کو شامل کرنے سے شاید عمیرا یہی پیغام دینا چاہ رہی تھیں ایسے میں اس کی بدصورتی پہ اصرار کرنا بے معنی اور غیر ضروری محسوس ہوتا ہے۔ برسبیل تذکرہ،اس مضمون کے مطابق دنیا کی بدصورت ترین عورت کے بارے میں یہاں دیکھئے۔

ناول بہت مربوط ہے اور قاری کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔ ایک دفعہ کتاب ہاتھ میں لینے کے بعد اس کو مکمل پڑھے بغیر واپس رکھنا بہت مشکل ہے۔

کتاب یہاں سے پڑھیں۔

کیا آپ اس تبصرے سے متفق ہیں۔اس کتاب کے بارے میں تبصرہ کریں ۔

اگر آپ نے یہ کتاب پڑھی ہے تو اسے 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹ کریں۔

تشریف آوری کے لئے مشکور ہوں۔

اگلے ہفتے ایم۔ اے۔ راحت کی کتاب “کالا جادو” کا تعارف و تبصرہ ملاحظہ کیجئے۔ان شاء اللہ۔

***************

عمیرا احمد کے قلم سے مزید

عکس از عمیرا احمد

Advertisements

5 thoughts on “028۔ تھوڑا سا آسمان از عمیرا احمد”

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s