027۔ صلیب عشق از ہاشم ندیم

صلیب عشق از ہاشم ندیم

Saleeb-e-Ishq by Hashim Nadeemمصنف: ہاشم ندیم
صفحات: 95

ہاشم ندیم کا نام “خدا اور محبت” اور “عبداللہ” جیسے ناولوں کی مقبولیت کے بعد اجنبی نہیں رہا۔ آپ کے قلم سے نکلا ہوا ناول خدا اور محبت، آن لائن بک اسٹور ای مرکز کے بیسٹ سیلر کی فہرست میں بھی شامل ہے۔ ناول عبداللہ روزنامہ جنگ کے سنڈے میگزین میں قسط وار شائع ہوتا رہا اور اس نے مقبولیت اور پسندیدگی کے نئے ریکارڈ قائم کئے۔ ہاشم ندیم کے ہی قلم سے نکلی ہوئی ایک اور کتاب بچپن کا دسمبر بھی اپنے منفرد موضوع کی بنا پہ بہت پسند کی گئی۔

کتابستان کا آج کا موضوع ہاشم ندیم کے قلم سے نکلی ہوئی ہی ایک کتاب ہے جس کا عنوان ہے “صلیبِ عشق”۔ “خدا اور محبت” اور “عبداللہ” کے برعکس یہ کوئی ناول نہیں بلکہ افسانوں اور آزاد نظموں کا مجموعہ ہے۔ اس کتاب میں کل نو افسانے، پانچ نظمیں اور ایک اداریہ/ کالم شامل ہے۔

ہاشم صاحب کی سوچ کا جو منفردپن ان کے ناولوں میں نظر آتا ہے وہی رنگ ان کے افسانوں میں بھی نمایاں ہے۔ ان افسانوں کو پڑھتے ہوئے احساس ہوتا ہے کہ انہیں لکھنے والا کوئی باقاعدہ ادیب نہیں بلکہ شوقیہ لکھنے والا ہے اور یہی بات آپ کے افسانوں میں تازہ ہوا کے ایک جھونکے کی طرح محسوس ہوتی ہے۔

صلیبِ عشق میں شامل افسانوں میں حساسیت کا رنگ نمایاں ہے۔ کتاب کا پہلا افسانہ “پری زاد” ایک ایسے شخص کی کہانی ہے جس کا نام تو پری زاد تھا لیکن شکل و صورت میں کسی پری سے کوئی مماثلت نہیں تھی۔ اس شخص کی سب سے بڑی خواہش یہ تھی کہ وہ بھی کسی کا محبوب بنے۔ لیکن دنیا تو چمکتی چیز کو دیکھتی ہے اور پری زاد اپنی تمام تر خوبیوں کے ساتھ کوئی چمکدار ستارہ نہیں تھا۔ پری زاد کی زندگی، خواہشات اور آرزوؤں کے بارے میں ہاشم ندیم کا قلم بےحد حساسیت اور ہمدردی لئے ہوئے ہے۔

کتاب کا دوسرا افسانہ “لفظ گر” ایک کامیاب اور مشہور ادیب کا قصہ ہے جو ایک نئے ابھرتے ہوئے ادیب سے خائف تھا۔ وہ کامیابی کے جس سنگھاسن پہ براجمان تھا اس میں ذرا سی شراکت بھی اسے گوارا نہیں تھی۔ وہ کامیاب ادیب، اس نئے ابھرتے ہوئے ادیب سے کیسا سلوک کرتا ہے اور آیا وہ اس سے ہارتا ہے یا جیتتا ہے، یہ افسانہ اسی بارے میں ہے۔

صلیبِ عشق میں کچھ افسانے حالات حاضرہ سے متاثر ہوکے بھی لکھے گئے ہیں۔ جیسے افسانہ “صلیبِ عشق”، کتاب کا عنوان بھی اسی افسانے کے نام پہ رکھا گیا ہے۔ افسانے کا پلاٹ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی کہانی سے اٹھایا گیا ہے اور اس معاملے پہ ہمدردانہ روشنی ڈالتا ہے۔ اسی طرح “میرا نیا دوست” کے عنوان سے شامل کالم/اداریہ ایک ایسے شخص کی کہانی ہے جس کی سوچ حالات کے تحت روشن خیالی سے تبدیل ہوتے ہوئے مسلمانیت کی طرف ہو جاتی ہے۔ “رانگ نمبر” آج کل موبائل ایس ایم ایس کے بڑھتے ہوئے رجحان اور مرد کی ہمیشہ کی بھونرا صفت کو اجاگر کرتی ہوئی کہانی ہے۔ “رین کوٹ” ایک محبت کی کہانی ہے جس کا مرکزی کردار ایک رین کوٹ ہے۔

کتاب میں شامل آزاد نظمیں بھی حساسیت کا وہی انداز لئے ہوئے ہیں جو افسانوں میں موجود ہے۔ اسی حساسیت کی بنیاد پہ قاری ہر افسانے سے اپنا تعلق محسوس کرتا ہے۔ پچانوے صفحات کی یہ مختصر کتاب ایک نشست مین بآسانی ختم کی جا سکتی ہے۔

کیا آپ اس تبصرے سے متفق ہیں۔اس کتاب کے بارے میں تبصرہ کریں ۔

اگر آپ نے یہ کتاب پڑھی ہے تو اسے 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹ کریں۔

تشریف آوری کے لئے مشکور ہوں۔

اگلے ہفتے عمیرا احمد کے ناول “تھوڑا سا آسمان” کا تعارف و تبصرہ ملاحظہ کیجئے۔ان شاء اللہ۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s