026۔ بسیرا از انوار علیگی

بسیرا از انوار علیگی

بسیرامصنف: انوار علیگی
پبلشر: اخبار جہاں

کتابستان کے آغاز سے اب تک مختلف موضوعات کی بہت ساری کتب پہ بات ہو چکی ہے۔ تاہم پاپولر فکشن کا ایک زمرہ ایسا ہے جو ابھی تک موضوع گفتگو نہیں آیا۔ جی ہاں! آج بات ہونے والی ہے ڈراؤنی، خوفناک اور ماورائی موضوعات پہ لکھی گئی کہانیوں کے بارے میں۔ آج کے بلاگ کا موضوع ایک ایسی ہی کہانی ہے جو انوار علیگی کے قلم سے نکلی ہے۔ انوار علیگی پراسرار کہانیاں لکھنے میں خاص مہارت رکھتے ہیں اور ان کی لکھی ہوئی کہانیاں عوامی مقبولیت حاصل کرتی رہی ہیں۔ یہ ناول اخبار جہاں میں قسط وار ہر ہفتے شائع ہوتا رہا ہے۔ اخبار جہاں کے مطابق یہ کہانی سچے واقعات پہ مشتمل ہے، تاہم اس دعوے کے درست یا غلط ہونے کے بارے میں کچھ کہا نہیں جا سکتا۔

زیر گفتگو خوفناک ناول “بسیرا” ایک شادی شدہ جوڑے سارہ اور صارم کے ساتھ پیش آنے والے مافوق الفطرت واقعات پہ مشتمل ہے۔ یہ واقعات ان کے ساتھ تب پیش آنے شروع ہوئے جب وہ ہزار گز پہ محیط ایک پرانا گھر خریدنے کے بعد وہاں شفٹ ہوئے۔ اس مکان کی تعمیر کے وقت وہاں موجود ایک نیم کے درخت کو کٹوا دیا گیا تھا۔ کہنے والوں کے مطابق اس درخت پہ بسیرا تھا۔ اس درخت کے کٹنے کے بعد اس گھر کی تعمیر تو ہو گئی لیکن وہاں کوئی بس نہیں سکا، جو بھی رہنے آیا اس کی موت ہوتی چلی گئی حتیٰ کہ مالک مکان جان بچا کے بیرون ملک جا بیٹھا اور پھر ایک دن صارم اور سارہ یہ مکان خرید کے اس کے مالک بن بیٹھے۔ تاہم سارہ کو مکان کے آسیب ذدہ ہونے کے بارے میں کچھ علم نہ تھا۔

اس مکان میں پیش آنے والے پراسرار واقعات ایک گدھ کی موجودگی سے وابستہ تھے جو ناصرف بڑی جسامت کا مالک تھا بلکہ گھر کے مکینوں پہ حملہ کرنے میں چوکتا بھی نہیں تھا۔ ابتدا میں سارہ اور صارم نے اسے کوئی اہمیت نہ دی لیکن پے در پے پیش آنے والے واقعات اور ارد گرد سے سنی ہوئی باتوں نے انہیں مجبور کیا کہ وہ اس مکان کے آسیب زدہ ہونے کے بارے میں اور سدِباب کے لئے کسی بزرگ سے رابطہ کریں۔ یہیں سے سارہ اور صارم کی مشکلات کا دور شروع ہوتا ہے۔ انہوں نے مدد کے لئے بہت سارے بزرگوں اور عاملوں سے رابطے کئے لیکن کسی قسم کی کامیابی حاصل نہ ہو سکی۔ اسی کوشش میں انہیں دو نمبر لوگ بھی ملے اور شیظانی عامل بھی جو اس گھر میں موجود آسیبی قوت پہ شیطانی مقاصد کے لئے قبضہ جمانا چاہتے تھے۔

یہ آسیب کیا تھی؟ کیا سارہ اور صارم اس سے چھٹکارا حاصل کر پائے؟ اور انہیں کیا کیا پریشانیاں پیش آئیں؟ اس بارے میں جاننے کے لئے تو یہ ناول ہی پڑھنا پڑے گا۔

ناول تفصیلی لکھا گیا ہے۔ کہانی سادہ اور عام فہم ہے۔ ایک کے بعد ایک اور پے در پے پیش آنے والے واقعات کے باعث کہانی اپنی دلچسپی برقرار رکھتی ہے۔ ڈراؤنی کہانیوں کے شوقین افراد کے لئے ایک اچھی کتاب ہے۔ کمزور دل افراد رات کے وقت پڑھنے سے گریز کریں۔

کیا آپ اس تبصرے سے متفق ہیں۔اس کتاب کے بارے میں تبصرہ کریں ۔

اگر آپ نے یہ کتاب پڑھی ہے تو اسے 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹ کریں۔

تشریف آوری کے لئے مشکور ہوں۔

اگلے ہفتے ہاشم ندیم کی کتاب “صلیب عشق ” کا تعارف و تبصرہ ملاحظہ کیجئے۔ان شاء اللہ۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s