025۔ دست بستہ از بانو قدسیہ

دست بستہ از بانو قدسیہ

مصنفہ: بانو قدسیہ
صفحات: 232
قیمت: 300 روپے
پبلشر: سنگ میل پبلیکیشنز، لاہور

بانو قدسیہ صاحبہ کے تعارف کے لئے یہ بتانا قطعی ضروری نہیں ہے کہ آپ مشہور مصنف اشفاق احمد کی اہلیہ ہیں۔ آپ کا خود کا اپنا ایک نام اور مقام ہے جو کسی بھی طرح اشفاق احمد صاحب کے تعلق کے باعث نہیں ہے۔ پاکستان میں اگر فلسفہ لکھنے والوں کی فہرست بنائی جائے تو بانو جی کا نام یقیناً سر فہرست ہوگا۔ آپ کے پائے کا لکھاری بہت کم اور بہت مشکل سے ہی پیدا ہوتا ہے۔ آپ کل قلم سے نکلا ہوا ناول راجہ گدھ پاکستان کے مقبول ترین ناولز میں شمار ہوتا ہے اور یہ ایک اکیلا ناول ہی آپ کو بہترین فلسفیوں کی فہرست میں شامل کرنے کے لئے کافی ہے۔ بانو جی نے راجہ گدھ کے علاوہ بھی بہت ناول اور افسانے لکھے ہیں۔ آپ ٹیلی ویژن کے لئے بھی لکھتی رہی ہیں۔ آپ کے قلم سے نکلے ہوئے ناولوں میں حاصل گھاٹ، توجہ کی طالب، موم کی گلیاں کے علاوہ اور بھی دیگر کئی افسانے اور ناول شامل ہیں۔ کوشش رہے گی کہ آپ زیادہ سے زیادہ کتب کو بلاگ کا موضوع بنایا جائے۔ ان شاء اللہ۔ بانو قدسیہ کے لکھنے کا اپنا ایک مخصوص انداز ہے جو ٹھنڈے پانی کے جھرنے کی طرح محسوس ہوتا ہے اور سیدھے جا کے آپ کے دل پہ اثر کرتا ہے۔ تاہم بہت سارے قارئین ایسے بھی ہیں جنہیں بانو جی کا لکھا ہوا مشکل لگتا ہے، بہت سارے لوگوں کے مطابق بانو جی بہت کھلا ڈلا لکھتی ہیں اور آج بھی کئی گھرانے ایسے ہیں جہاں لڑکیوں کے “راجہ گدھ” پڑھنے کو اچھا نہیں سمجھا جاتا۔ تاہم یہ افکارات، کسی بھی طرح بانو قدسیہ کے کام اور فکر کی اہمیت کو کم نہیں کرتے، بلکہ ایسی سوچ رکھنے والوں کی کم فہمی اور کم علمی کو ظاہر کرتے ہیں۔

اتنے تعارف کے بعد آج کی کتاب پہ بات کی جانی چاہئے۔ آج کے بلاگ کا موضوع بانو قدسیہ کی کتاب دست بستہ ہے جو ان کی لکھی ہوئی کہانیوں پہ مشتمل ہے۔ کل اکیس کہانیاں اس کتاب میں شامل ہیں اور اس میں آپ کی وہ کہانیاں بھی شامل ہیں جو “داستان گو” نامی رسالے میں وقتاً فوقتاً چھپتی رہی ہیں۔ ہر کہانی دوسری کہانی سے جدا اور ایک الگ ہی سوچ اور موضوع لئے ہوئے ہے۔ اس لئے ہماری رائے میں اس کتاب کو ایک یا دو نشستوں میں ختم کرنے کی کوشش نہ کی جائے بلکہ ایک ایک ، دو دو کرکے کہانیاں پڑھ کے ان کے مرکزی خیال پہ گرفت کی جائے۔

دست بستہ کی پہلی کہانی “تدبیر لطیف” ہے۔ یہ دو عمر رسیدہ میاں بیوی کی کہانی ہے جو پیران سالی کے باعث مختلف بیماریوں اور مشکلات کا شکار ہیں۔ میاں دل کے مریض ہیں اور لگتا ہے کہ عنقریب ان کا وقت پورا ہونے والا ہے۔ ایسے میں انہیں ساری فکر اپنی بیوی کی ہے جو ان کی موت کے بعد تنہا رہ جائیں گی اور اس بڑھاپے میں ان کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی نہیں رہے گا۔ اسی سوچ نے بڑے میاں کو پریشان کر رکھا ہے اور وہ ہر وقت اس مسئلے کے حل کی تدبیر میں لگے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کیا تدبیر کی اور کیا وہ کامیاب ہوئی یا ناکام۔۔۔۔؟ اس کے لئے تو افسانہ ہی پڑھنا پڑے گا۔ لیکن افسانہ پڑھنے کے بعد ایک بات سمجھ میں آتی ہے کہ ایک تدبیر وہ ہوتی ہے جو انسان کرتا ہے اور ایک تدبیر وہ ہوتی ہے جو اوپر والا کرتا ہے اور انسان کی تدبیر، اوپر والے کی تدبیر کے آگے کچھ بھی نہیں۔

اسی کتاب کا دوسرا افسانہ ہے “ایک دو اور تیسرا “وہ”۔ یہ ایک ماں کی کہانی ہے اور اس میں مامتا کی عظمت کا بیان کیا گیا ہے۔ کہانی کا مرکزی پیغام یہ ہے کہ اگر کسی ماں کی اولاد جہنم میں چلی جائے گی تو وہ کبھی بھی جنت میں نہیں جا سکے گی اپنی مامتا کے ہاتھوں مجبور ہو کے اسے دوزخ میں ہی جانا پڑے گا۔

دیگر افسانوں میں بھی بانو جی نے بہت عمدہ خیالات پیش کئے ہیں جنہیں پڑھ کے سوچ کے در وا ہو جاتے ہیں اور ایک ایک لفظ اور ایک ایک بات دل پہ گرتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔

سنجیدہ اور فلسفیانہ کتب پڑھنے والے قارئین کے ایک بہت اچھی کتاب ہے۔

کیا آپ اس تبصرے سے متفق ہیں۔اس کتاب کے بارے میں تبصرہ کریں ۔

اگر آپ نے یہ کتاب پڑھی ہے تو اسے 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹ کریں۔

تشریف آوری کے لئے مشکور ہوں۔

اگلے ہفتے انوار علیگی کے ناول “بسیرا” کا تعارف و تبصرہ ملاحظہ کیجئے۔ان شاء اللہ۔

Advertisements

2 thoughts on “025۔ دست بستہ از بانو قدسیہ”

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s