022۔ تلاش حقیقت از سلطان بشیر الدین محمود (ستارہء امتیاز)

تلاش حقیقت از سلطان بشیر الدین محمود (ستارہء امتیاز)

Talaash-e-Haqeeqatصفحات: 176
قیمت: 200 روپے
پبلشر: دارلحکمت انٹرنیشنل، اسلام آباد

سلطان بشیر الدین محمود (ستارہء امتیاز)، پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے سابق ڈائریکٹر جنرل ہیں۔ آپ نامور ایٹمی سائنسدان، انجینئر، موجد اور محقق ہیں۔ زیر نظر کتاب جیسا کہ نام سے ظاہر ہے حقیقت کی تلاش سے متعلق ہے۔ اگر وسیع انداز میں بات کی جائے تو اس کا موضوع اسلام اور سائنس قرار دیا جا سکتا ہے۔ لیکن اگر مخصوص پیرائے میں بات کی جائے تو یہ میٹا فزکس یا مابعد الطبیعات کے موضوع کی مدد سے حقیقت کی تلاش کا سفر ہے۔ اس سفر کے دوران طبیعیات جن نتائج پہ پہنچتی ہے انہی نتائج کی حقیقت کے بارے میں یہ کتاب ہے۔ مصنف کے مطابق یہ تلاش ایک مسلسل سفر ہے جس کی کوئی حد نہیں۔ منزل اور مقصد سچ تک پہنچنا ہے۔ انتہائے حق اللہ تعالیٰ کی ذات ہے لیکن وہاں تک پہنچنے سے انسانی عقل قاصر ہے۔ تاہم سائنس اب تک جہاں پہنچ چکی ہے ان معاملات کی وضاحت کے لئے یہ کتاب پیش کی گئی ہے۔

یہ کتاب مصنف کے ایمز اسکول سسٹمز کے اساتذہ کو دئیے گئے لیکچرز پہ مشتمل ہے۔ کتاب میں کل گیارہ باب ہیں۔ جن کے عنوانات یوں ہیں: تلاش حقیقت۔۔۔ ابتدائے سفر، ظاہر کی دنیا اور کائنات کی حقیقت، عالم باطن کی حقیقت، عالم امر کی حقیقت، آخری حقیقت۔۔۔ حقیقت الٰہی، عالم برزخ کی زندگی، خواب اور روحوں سے ملاقات کی اہمیت، زندگی، موت اور تقدیر کی حقیقت، جینز، تقدیر اور آزادی کی حقیقت، پہلی اور آخری حقیقت، اور قرآن مجید۔۔۔ تلاش حقیقت کے سفر میں اسلام کا روڈ میپ۔

عنوانات سے ظاہر ہے کہ یہ کتاب انسانی ذہن میں اٹھنے والے ان سوالوں کے جوابات دینے کی کوشش کر رہی ہے جو صدیوں سے انسانی ذہن میں پیدا ہوتے رہے ہیں۔ جیسے تقدیر کیا ہے، جب کچھ نہیں تھا تو کیا تھا، خدا کا وجود وغیرہ وغیرہ۔

یہ کتاب عام فہم انداز اور اردو میں لکھے جانے کے باوجود ایک مشکل کتاب ہے۔ سائنسی اور طبیعاتی اصطلاحات کی معانی و مطالب سمجھنے اور مصنف کی بات سمجھنے کے لئے کافی کوشش کرنی پڑتی ہے۔ لیکن یہ مصنف کی کمزوری نہیں بلکہ موضوع کی مشکل ہے۔ سائنسی اصطلاحات اردو زبان مین عموماً اجنبی معلوم ہوتی ہیں۔ ان باتوں کو انگریزی زبان میں پڑھنا اور سمجھنا اتنا مشکل محسوس نہیں ہوتا جتنا انہیں اردو زبان میں پڑھ کے احساس ہوتا ہے۔ تاہم انگریزی زبان میں لکھی جانے والی کتب سائنس کے مصنفین اسلامی پہلو پہ بحث نہیں کرتے اس لئے سائنس اور اسلام کی آپس کی ہم آہنگی جاننے کی خواہش تشنہ ہی رہ جاتی ہے۔ اس تشنگی کو یہ تلاش حقیقت بخوبی دور کرتی ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ کسی بھی کتاب کو پڑھنے کے بعد سو فیصد درست سمجھ لیا جائے۔ عام قصے کہانیوں اور ناولوں کی تشریحات بھی قارئین اپنے انداز سے کرتے ہیں۔ اس لئے اگر اس کتاب کا پچاس فیصد بھی سمجھ لیا جائے تو بھی معلومات کے خزانے میں بھرپور اضافے کے ساتھ تشنگی میں کمی کا احساس بھی ہوتا ہے۔

کتاب کے تمام باب ہی دلچسپ اور معلومات سے بھر پور ہیں۔ تاہم باب نمبر 9 کا موضوع انتہائی منفرد ہے جہاں مصنف نے تقدیر اور انسانی جینز کے درمیانی تعلق کو واضح کیا ہے۔ مسئلہ جبر و قدر صدیوں سے علماء کو پریشان کرتا آیا ہے۔ تاہم اب جدید سائنس نے یہ دریافت کیا ہے کہ جینز کے اوپر ایک پروگرام لکھا ہوتا ہے جو اس کے افعال کو کنٹرول کرتا ہے۔ اس تحقیق نے سائنسدانوں کو پریشان کر دیا ہے کہ آیا انسان اپنے جینز پہ لکھے کوڈ کا غلام ہے۔ ؟ اگر ہاں تو کس حد تک۔؟ اور یہی بات جبر و قدر کے علماء کے درمیان بھی بحث کا سبب بنی ہے کہ انسان کس حد تک تقدیر کا پابند و غلام ہے۔ تاہم حقیقت کیا ہے یہ صرف ذات باری تعالیٰ کو ہی معلوم ہے۔

تلاش حقیقت اور مابعد الطبیعات کے موضوع میں دلچسپی رکھنے والے قارئین کو یہ کتاب ضرور پڑھنی چاہئے۔

اس کتاب کے بارے میں تبصرہ کریں ۔

اگر آپ نے یہ کتاب پڑھی ہے تو اسے 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹ کریں۔

تشریف آوری کے لئے مشکور ہوں۔

اگلے ہفتے اناطول فرانس کے ناول “تائیس” کا تعارف و تبصرہ ملاحظہ کیجئے۔ان شاء اللہ۔

Advertisements

5 thoughts on “022۔ تلاش حقیقت از سلطان بشیر الدین محمود (ستارہء امتیاز)”

  1. Wonder full book.
    i suggest to read it at least twice for better understanding.
    and if someone has got the link for “raja gidh”, kindly send me.
    i shall be obliged.

    Like

    1. بہت شکریہ جناب۔
      یقیناً یہ معلوماتی کتاب بار بار پڑھے جانے کے قابل ہے۔
      کتابستان کی لنکس دینے کی پالیسی نہیں ہے آپ گوگل پہ تلاش کریں یقیناً لنک مل جائے گا۔

      Like

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s