021۔ جپسی از مستنصر حسین تارڑ

جپسی از مستنصر حسین تارڑ

صفحات: 243
پبلشر:سنگ میل پبلی کیشنز

مستنصر حسین تارڑ کا نام پاکستانیوں کے لئے نیا نہیں۔ آپ کی شہرت کا سب سے بڑا سبب آپ کے لکھے ہوئے سفرنامے ہیں جن کے ذریعے  آپ نے اپنے قارئین کو دنیا بھر کی سیر کرائی ہے۔ تاہم اگر کوئی کتابیں پڑھنے کا شوقین نہ ہو تو بھی وہ مستنصر حسین تارڑ کو ضرور جانتا ہوگا کیونکہ آپ ٹیلی ویژن کے لئے بھی لکھتے رہے ہیں۔ تارڑ صاحب کی شہرت کا ایک بڑا سبب پی ٹی وی کی صبح کی نشریات کی میزبانی ہے جس کے آپ ہر دل عزیز اور بچوں کے پیارے چاچا جی تھے اور آج بھی کئی لوگ انہیں چاچا جی کے نام اور حوالے سے ہی یاد کرتے ہیں۔مستنصر صاحب کے بارے میں مزید جاننے کے لئے یہاں جائیں۔

مستنصر حسین جی کی بنیادی وجہ شہرت گرچہ سفرنامے ہی ہیں اور اسی وجہ سے ان کے لکھے ہوئے ناول کسی قدر پیچھے رہ گئے ہیں، لیکن یہ وجہ کسی بھی طرح ان کے ادبی کام کی خوبصورتی کو کم نہیں کرتی۔ آج کے بلاگ میں مستنصر حسین تارڑ کے ابتدائی دنوں کے لکھے ہوئے ناول کا ہی ذکر ہو رہا ہے جسے زیادہ توجہ حاصل نہیں ہو سکی۔ ناول کا نام “جپسی”، اس ناول کے ایک یورپی کردار کے نام پہ رکھا گیا ہے، جس کا اصل نام تو کچھ اور تھا لیکن اس کی دادی جپسی یعنی خانہ بدوش تھیں۔ دادی نے گرچہ خانہ بدوشانہ زندگی ترک کر دی تھی اور شادی کے بعد اپنے شوہر کے ساتھ شہری زندگی اختیار کی لیکن اس کردار کے مطابق اس کی دادی کی طرف سے جپسی ہونے کے جراثیم اسے بھی منتقل ہوئے ہیں جس کی وجہ سے تمام تر ماڈرن ازم اور شہری زندگی گزارنے کے باوجود بھی وہ اندر سے جپسی ہے اور اپنے محبوب کے لئے اپنی زندگی وقف کر دینے والی۔

کہانی کا مرکزی کردار ایک سیاح ہے جو اپنی تعلیمات کے دوران گرمیوں کی چھٹیوں میں سوئٹزر لینڈ کی سیاحت کے لئے نکلا ہے، جس نے اپنے قیام کا بندوبست سفری خیمے کی صورت میں کیا ہے اور ہر شہر کی کیمپنگ اس کی میزبانی کا شرف حاصل کرتی ہے۔ ایک شہر سے دوسرے شہر کے سفر کے لئے اس کا بہترین ذریعہ لفٹ کے ذریعے سے سفر ہے۔ اور یوں جہاں نت نئے لوگوں سے ملنے کا موقع ملتا ہے وہیں نت نئی جگہوں سے واقفیت کے ساتھ انہیں دیکھنے کا موقع بھی ملتا ہے۔ اس طرح ان جگہوں کی سیر بھی ہو جاتی ہے جو کسی وجہ سے اس سیاح کی فہرست میں جگہ نہ بنا سکیں۔

جپسی کا کردار تقریباً آدھی کتاب گزرنے کے بعد سامنے آتا ہے۔ جپسی اور سیاح کی ملاقات ایک کیمپنگ سائٹ پہ ہوتی ہے جہاں جپسی ایک کیفے میں کام کرتی تھی۔ پاکستانی سیاح کو دیکھتے ساتھ ہی جپسی اس کی محبت میں گرفتار ہو جاتی ہے اور اس کے کھانے کے لئے خصوصی طور پہ اپنے کیفے کے باورچی سے چاول پکواتی ہے۔ دوسری طرف سیاح ایک آزاد پنچھی کی مانند تھا، جپسی کی توجہ اور محبت اسے قید کرتی ہوئی محسوس ہوتی اور وہ اس سے پیچھا چھڑانے کی تدبیر کرتا۔۔۔

اس محبت کی کہانی کا انجام کیا ہوا؟

یہ جاننے کے لئے تو ناول ہی پڑھنا پڑے گا۔ ناول کی کہانی بہت سادہ اور بنا کسی پیچ و خم کے ہے۔ اسی وجہ سے پڑھتے پڑھتے اس پہ آپ بیتی یا اس سے بھی زیادہ سفر نامہ ہونے کا گمان ہوتا ہے۔ مرکزی کردار کی مستنصر حسین تارڑ سے بہت زیادہ مماثلت محسوس ہوتی ہے اور ایسا لگتا ہے کہ وہ اپنی زندگی کے ایک باب سے پردہ اٹھا رہے ہیں۔ سوئٹرز لینڈ کی خوبصورتی، برفیلی ہواؤں اور پھولوں کی مہک کو تارڑ صاحب نے اتنی خوبصورتی اور حساسیت کے ساتھ بیان کیا ہے کہ قاری ان برفیلی ہواؤں کی ٹھنڈک اور پھولوں کی خوشبو کو اپنے بند کمرے میں بھی محسوس کرتا ہے اور خود کو اسی فضا میں گھومتا محسوس کرتا ہے۔ جپسی کے کردار کی حساسیت کو بہت عمدگی سے بیان کیا گیا ہے۔ عموماً پاکستانی لکھاری مغربی باشندوں کا ذکر کرتے ہوئے انہیں بالکل ہی اخلاق باختہ اور احساسات سے عاری جنس ذدہ مخلوق قرار دے دیتے ہیں۔ لیکن مستنصر صاحب کی نظر کی خوبصورتی یہ ہے کہ وہ انہیں بھی اپنے جیسے عام انسان کی طرح پیش کرتے ہیں جن کی خواہشات ہیں، خوف ہیں اورچھوٹی چھوٹی خوشیاں ہیں۔

اردو زبان میں لکھا ہوا ایک سادہ اور بےحد عمدہ کہانی، جو پڑھنے کے بعد قاری پہ ایک اچھا اثر چھوڑ جاتی ہے۔

اس کتاب کے بارے میں تبصرہ کریں ۔

اگر آپ نے یہ کتاب پڑھی ہے تو اسے 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹ کریں۔

تشریف آوری کے لئے مشکور ہوں۔

اگلے ہفتے سلطان بشیر الدین محمود کی کتاب “تلاش حقیقت” کا تعارف و تبصرہ ملاحظہ کیجئے۔ان شاء اللہ۔

Advertisements

2 thoughts on “021۔ جپسی از مستنصر حسین تارڑ”

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s