019۔ سراغِ زندگی (And now, and here) از اوشو (گرو رجنیش)

سراغِ زندگی (And now, and here) از اوشو (گرو رجنیش)

ترجمہ: سراغ زندگی
مترجم: وسیم الدین چودھری
صفحات: 245
قیمت: 250 روپے
پبلشر: فکشن ہاؤس، 18-مزنگ روڈ لاہور

اوشو کو گرو رجنیش بھی کہا جاتا ہے۔ دنیا میں ایک بڑا حلقہ ان کے فلسفے اور تعلیمات سے متاثر ہے اور انہیں بھگوان مانتا ہے۔ان کے ماننے والے احتراماً انہیں بھگوان شری رجنیش کے نام سے پکارتے ہیں۔ تاہم رجنیش کو بیسویں صدی کے سب سے متنازعہ مذہبی رہنما ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ ناقدین رجنیش کو ایک بےحد خطرناک شخص قرار دیتے ہیں جس کی باتیں یا تعلیمات انسان کو مکمل طور پہ بدل سکتے ہیں۔ اوشو کی ایک اور وجہ شہرت جنسی آزادی کا پرچار ہے۔ ہندوستان میں انہیں “جنسی گرو” کے طور پہ بھی جانا جاتا ہے۔ بڑی بڑی اور مہنگی گاڑیاں اور پرتعیش انداز زندگی کی بنا پہ انہیں امریکہ میں “رولز رائس گرو” کا نام بھی دیا گیا ہے۔ اوشو کے بارے میں مزید جاننے کے لئے یہاں ملاحظہ کریں۔

زیر نظر کتاب “سراغ زندگی” اوشو کے لیکچرز پہ مبنی کتاب And now and here کے ترجمے پہ مشتمل ہے۔ اس کتاب کا موضوع موت ہے اور اوشو اس موضوع کی نفی کرتا ہے۔ یعنی اس کے خیال میں موت حقیقت نہیں ہے، ایک فریب ہے اور انسان کبھی نہیں مرتا ہے۔ یہی موضوع اس کتاب کا پہلا باب بھی ہے یعنی موت سے بڑا کوئی جھوٹ نہیں۔ اس کتاب میں کل سات باب ہیں۔ جن کے عنوانات ہیں: موت سے بڑا کوئی جھوٹ نہیں، زندگی خواب ہے، کل کائنات ایک عبادت گاہ ہے، مراجعت، اپنا راستہ خود تلاش کیجئے، محبت خطرناک ہے، اور موت۔۔۔ ذریعہ حیات۔

اس کتاب میں اوشو زندگی اور موت کے مختلف مراحل کا تفصیلی جائزہ لے رہا ہے۔ آواگون کا فلسفہ، انسان اپنے آپ کو دوسرے جنم کے لئے کس طرح تیار کر سکتا ہے اور موت کا سامنا کیسے کیا جائے اور اسی طرح کے موضوعات پہ بحث کی گئی ہے۔ اوشو کے نزدیک موت کا خوف ہماری زندگی کی بنیاد ہے تاہم اس کے مطابق اس خوف پہ قابو پانے کے لئے مراقبہ اور استغراق کی مشقیں کارآمد ہو سکتی ہیں۔ انسان ایک دفعہ موت کے فریب سے نکل جائے تو زندگی کو دیکھنے کا اس کا نظریہ بدل سکتا ہے۔

کتاب کا موضوع ایسا ہے کہ یہ اسلامی مذہب کے بنیادی خیال سے مطابقت نہیں رکھتا۔ دوسرے جنم کا تصور ہندو مذہب میں پایا جاتا ہے اس لئے اوشو کی تعلیمات پہ ہندو ازم کا اثر نظر آتا ہے۔ اسی وجہ سے پاکستان میں اوشو، اس کا فلسفہ اور تعلیمات ہندوستان اور باقی دنیا کی طرح عام نہیں ہو سکیں اور نہ ہی اوشو پاکستان میں کوئی جانا پہچانا نام ہے۔ تاہم اس کے باوجود کچھ حلقوں میں یہ دلچسپی سے پڑھا جاتا ہے۔

اوشو کے بارے میں مشہور رائے یہ ہے کہ انسان کو اس کے بنیادی عقائد سے ہٹا دیتا ہے اسی لئے یہ کتاب عام قاری کے لئے نہیں ہے۔ صاحب الرائے اور پختہ ذہن کے افراد اور وہ لوگ جو حقیقت اور فسانے میں فرق کرسکیں، کو ہی یہ کتاب پڑھنی چاہئے۔

کتاب کا انداز سادہ ہے اور مترجم نے ترجمے کے ساتھ مکمل انصاف کیا ہے۔

اس کتاب کے بارے میں تبصرہ کریں ۔

اگر آپ نے یہ کتاب پڑھی ہے تو اسے 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹ کریں۔

تشریف آوری کے لئے مشکور ہوں۔

اگلے ہفتے پاولو کوئیلہو کے ناول “الکیمسٹ” کا تعارف و تبصرہ ملاحظہ کیجئے۔ان شاء اللہ۔

Advertisements

One thought on “019۔ سراغِ زندگی (And now, and here) از اوشو (گرو رجنیش)”

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s