014۔ کریترز سوناٹا از لیو ٹالسٹائی

کریترز سوناٹا از لیو ٹالسٹائی

ترجمہ: وفا کیسی کہاں کا عشق
مترجم: ظہور احمد خان
صفحات: 124
قیمت: 160 روپے
پبلشر: سید محمد شاہ پرنٹرز، لاہور

مشہور روسی ناول نگار لیو ٹالسٹائی کے ناول کریترز سوناٹا کا اردو میں ترجمہ وفا کیسی کہاں کا عشق کے نام سے ظہور احمد خان نے کیا ہے۔ وار اینڈ پیس اور آناکارینیا کے برعکس کریترز سوناٹا ایک مختصر اور چھوٹی کہانی ہے اور بہت زیادہ شہرت حاصل نہیں کر سکی۔

اس ناول میں مغربی تہذیب کی منفی اور مصنوعی اقدار کے ساتھ ساتھ جاگیردارانہ معاشرے کی اخلاقی اور ذہنی پستی کو جنس کے حوالے سے پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ تاہم اس ناول کے ذریعے ٹالسٹائی نے جن اخلاقی پہلوؤں کو دکھانے کی کوشش کی ہے وہ قابل قدر ہے۔ گرچہ جنس اور مرد و زن کے تعلقات آج کے دور کے عام ترین موضوعات ہیں لیکن اس کے باوجود جنس کو اس انداز سے نہیں دیکھا جاتا جس انداز میں ٹالسٹائی نے پیش کیا ہے۔

ناول کا آغاز ایک ریل کے سفر سے ہوتا ہے جہاں کچھ مسافروں کے درمیان محبت کے موضوع پہ بحث چھڑ جاتی ہے۔ اسی بحث کے دوران کہانی کا مرکزی کردار محبت کے موضوع پہ اپنے خیالات کا اظہار کرتا ہے جو بحث کے شرکاء کو ہتک آمیز اور غیر مناسب معلوم ہوتے ہیں۔ ناول کا بقیہ حصہ اسی مرکزی کردار کی داستان ہے جو وہ اپنے خیالات کی وضاحت پیش کرنے کے لئے سناتا ہے۔

ناول گرچہ مختصر ہے اور چند نشتوں میں بآسانی پڑھا جا سکتا ہے تاہم ٹالسٹائی کے فلسفے کو مکمل طور پہ سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ اسے ٹھہر کر اور تسلی کے ساتھ پڑھا جائے اور مرکزی خیال پہ گرفت کی جائے ورنہ یہ جنس کے موضوع پہ لکھا گیا ایک اور عام سا ناول ہی محسوس ہو گا۔

اس کتاب کے بارے میں تبصرہ کریں۔

اگر آپ نے یہ کتاب پڑھی ہے تو اسے 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹ کریں۔

لیو ٹالسٹائی کے قلم سے مزید

حاجی مراد از لیو ٹالسٹائی

تشریف آوری کے لئے مشکور ہوں۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s