009۔21 دسمبر 2012: کائنات قیامت کی دہلیز پر از صاحبزادہ محمد عبدالرشید

21 دسمبر 2012: کائنات قیامت کی دہلیز پر از صاحبزادہ محمد عبدالرشید

صفحات: 275
مصنف: صاحبزادہ محمد عبدالرشید
پبلشر: بک کارنر شو روم، جہلم

“قیامت کب آئے گی؟” یہ ایک ایسا موضوع ہے جس کے بارے میں ہمیشہ سے قیاس آرائیاں جاری ہیں۔ دنیا کے تقریباً ہر مذہب میں دنیا کے اختتام کے بارے میں اشارے موجود ہیں۔ آج سائنس بھی اس نتیجے پہ پہنچی ہے کہ جس طرح اس کائنات کا آغاز ہوا تھا اسی طرح ایک دن یہ اپنے انجام کو بھی پہنچ جائے گی۔ لیکن یہ انجام کب آئے گا اس سوال کا حتمی جواب کسی کے پاس نہیں، اور شاید یہی وجہ ہے کہ اس بارے میں آنے دن نت نئے اندازے اور قیاس آرائیاں سامنے آتی رہتی ہیں۔

مغربی معاشرہ ان قیاس آرائیوں میں کافی آگے نکل گیا ہے، وہاں اکثر ایسے دعوے نظر آتے ہیں جن میں دنیا کے ختم ہونے کی کسی تاریخ کا اعلان کیا گیا ہوتا ہے۔ لیکن اب تک دنیا قائم و دائم ہے جو ان دعوؤں کے غلط ہونے کا کھلا ثبوت ہے۔ دنیا کے اختتام کے بارے میں تازہ ترین نظریہ دسمبر 2012 میں آنے والی قیامت کا ہے۔ قیامت کے بارے میں ہونے والے دیگر قیاسات کے برعکس اس تاریخ اور دعوے نے غیر معمولی مقبولیت حاصل کی ہے۔ ہالی ووڈ نے اس موضوع پہ فلم بھی بنائی ہے اور کئی چینلز نے اس بارے میں دستاویزی فلمیں بنا کے اس تاریخ کو قیامت آنے کی وجوہات پہ روشنی ڈالی ہے۔ 21 دسمبر 2012 کو قیامت آنے کے بارے میں مسلسل بحث جاری ہے، کچھ لوگ اس تاریخ کو آسمان پہ کسی بڑے واقعے کے رونما ہونے کا آغاز کہہ رہے ہیں جو قیامت کی طرف لے جائے گا، کچھ کے خیال میں وقت ختم ہو جائے گا، کچھ لوگوں کے مطابق زمین کے مقناطیسی میدان اپنی جگہ بدل لیں گے، کچھ لوگ کاہنوں کی پیش گوئیوں میں اس تاریخ کی اہمیت ڈھونڈ رہے ہیں اور کچھ مذاہب کی مدد لے رہے ہیں۔

زیر بحث کتاب بھی اسی موضوع پہ ہے۔ دسمبر 2012 میں قیامت کے آنے کو لے کے تو بہت کچھ سننے اور پڑھنے کو ملا، تاہم اردو میں اس موضوع پہ یہ پہلی کتاب ہے جو نظروں سے گزری ہے۔ اس کتاب کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ دسمبر 2012 کے ممکنہ قیامت ہونے کو اسلامی نظر سے دیکھنے کی بھی کوشش کی گئی ہے۔ اس کتاب میں سترہ باب ہیں۔ جن میں اسلام ، مذاہب عالم اور سائنس کی نظر سے قیامت کے نظرئے کو پیش کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ دسمبر 2012 کے بارے میں ایک کمپیوٹر پروگرام ویب باٹ کی پیش گوئیاں، مایا تہذیبی کیلینڈر اور اس کے اختتام، ناسا کی تحقیق سے ملنے والے اشاروں کو بھی پیش کیا گیا ہے۔

مصنف نے کتاب لکھنے پہ کافی محنت کی ہے۔ 21 دسمبر 2012 کو قیامت آئے گی یا نہیں، اس کا فیصلہ 21 دسمبر 2012 کو ہو جائے گا۔ تاہم اس موضوع پہ جاننے کے لئے عام فہم زبان میں لکھی گئی کتاب ہے۔ اس کتاب کو پڑھنے یا نا پڑھنے کا فیصلہ قاری کا اپنا ہے اور پڑھنے کے بعد اتفاق یا اختلاف کرنا بھی قاری کا حق ہے۔ یہ کتاب بک کارنر شو روم، جہلم نے شائع کی ہے جن کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد ایسی کتب کی اشاعت ہے جو تحقیق کے لحاظ سے اعلیٰ درجے کی ہوں۔

اس کتاب کے بارے میں تبصرہ کریں۔

اگر آپ نے یہ کتاب پڑھی ہے تو اسے 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹ کریں۔

تشریف آوری کے لئے مشکور ہوں۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s