006۔یا خدا از قدرت اللہ شہاب

یا خدا از قدرت اللہ شہاب

قدرت اللہ شہاب کا نام کسی کے لئے نیا نہیں۔ لیکن شاید کم ہی لوگوں کو شہاب نامہ کے علاوہ آپ کی لکھی ہوئی کسی اور کتاب کا علم ہو۔ زیرِ گفتگو کتاب “یا خدا” ان کا لکھا ہوا ایک افسانہ ہے جو قیام پاکستان کے دوران اور بعد میں ہجرت کرکے آنے والے لوگوں کے حالات پہ لکھا گیا ہے۔

افسانہ ایک مسلمان عورت دل شاد کی کہانی ہے کہ وہ کن مصائب سے گزر کے پاکستان تک پہنچی اور پاکستان آنے کے بعد اسے کس طرح کے حالات کا سامنا کرنا پڑا۔ قیام پاکستان کے مضوع پہ لکھے جانے والے ادب میں مہاجرین کی ہندوؤں اور سکھوں کے ہاتھوں بننے والی حالت زار کے بارے میں بہت لکھا گیا ہے لیکن بہت کم لوگوں نے پاکستان آنے کے بعد مہاجرین کے ساتھ پیش آنے والے نازیبا سلوک پہ قلم اٹھایا ہے۔ “یا خدا” کا موضوع یہی مصائب ہیں جن سے مہاجرین گزرے۔ جس لاہور کو وہ مدینہ سمجھ کے ہجرت کرکے آئے تھے وہاں انہیں سر چھپانے کے لئے ٹھکانے بھی دستیاب نہیں تھے۔ جن پاکستانیوں کو وہ انصار سمجھتے تھے وہ ان کی عزت اور دولت کے لٹیرے نکلے۔

کہانی کا موضوع بےحد تلخ ہے اور یہ کتاب ایک عرصے تک پاکستان میں بین رہی۔ تاہم یہ کتاب اب عام دستیاب ہے۔ کہانی گرچہ مصنف کی مہارت کا ثبوت ہے لیکن اس کے باوجود یہ کسی کی پسندیدہ کتاب نہیں ہو سکتی۔ اس کتاب میں بیان کئے گئے حالات و واقعات اتنے تلخ ہیں اور انسانی بےحسی کو اس درجے پہ جا کے اجاگر کرتے ہیں کہ اپنے آپ سے شرمندگی ہونے لگتی ہے۔

اس کتاب کے بارے میں تبصرہ کریں۔

اگر آپ نے یہ کتاب پڑھی ہے تو اسے 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹ کریں۔

تشریف آوری کے لئے مشکور ہوں۔

Advertisements

3 thoughts on “006۔یا خدا از قدرت اللہ شہاب”

  1. سرخ فیتہ کی پی ڈی ایف فائل کیسے ڈاؤن لوڈ ہوگی، برائے مہربانی لنک بھیجیں

    Like

    1. کتا بستان میں کتابوں کے لنکس نہیں دئے جاتے اس لئے معذرت خواہ ہیں آپ انٹرنیٹ پہ دیکھیں لنک مل جائے گا۔ تشریف آوری کے لئے بہت شکریہ۔

      Like

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s