142- آخری آدمی از انتظار حسین

آخری آدمی از انتظار حسین

Aakhri aadmi-Intezar Hussainمصنف:انتظار حسین

صنف: افسانے، اردو ادب، پاکستانی ادب

صفحات: 160

قیمت: 200 روپے

ناشر: سنگ میل پبلی کیشنز

ISBN: 969-35-2049-1

انتظار حسین موجودہ دور کے مشہور مصنف ہیں۔ آپ بیک وقت افسانہ نگار، ناول نگار اور کالم نویس ہیں۔ بستی، آگے سمندر ہے، ہندوستان سے آخری خط، شہرِ افسوس آپ کی کچھ تصانیف کے عنوانات ہیں۔ آپ کے ناولوں کا انگریزی زبان میں ترجمہ بھی کیا جا چکا ہے۔ سن 2013 میں آپ کو بکر پرائز کے لئے نامزد بھی کیا گیا تھا۔ یہ آپ کے کام کی اہمیت کا بین الاقوامی سطح پہ اعتراف ہے۔ آپ کو حکومت پاکستان کی طرف سے تمغہ امتیاز سے بھی نوازا جا چکا ہے۔ اردو نثر میں انتظار حسین کا کام ان کے ہم عصروں سے مختلف اور جداگانہ ہے۔ آپ کی تحریروں کا ماحول کسی بچپن کی کہانی یا پرانے قصے جیسا ہے۔ آپ کی زبان پرانے عہد نامے اور داستانوں کی سلیس و سادہ زبان ہے جسے آپ نے اپنے مخصوص اسلوب میں پیش کیا ہے۔ آج کا ہمارا موضوع آپ کے افسانوں کی کتاب ہے جس کا عنوان ہے “آخری آدمی”۔ Continue reading 142- آخری آدمی از انتظار حسین

137-قائم دین از علی اکبر ناطق

قائم دین از علی اکبر ناطق

Qain Deen-Ali Akber Natiqمصنف: علی اکبر ناطق

صنف: افسانے، اردو ادب، پاکستانی ادب

صفحات: 106

قیمت: 325 روپے

ناشر: آکسفورڈ یونیورسٹی پریس

سن اشاعت: 2012

ISBN: 978-0-19-906288-1

علی اکبر ناطق موجودہ دور کے شاعر اور نثر نویس ہیں۔ آپ نے شاعری، افسانہ نویسی اور ناول نگاری کے شعبوں میں قلم آزمائی کی ہے۔ اپنے کام کی وجہ سے آپ ادبی دنیا کا ایک روشن ستارہ شمار کئے جاتے ہیں۔ ناطق بنیادی طور پہ ایک معمار ہیں تاہم آپ کا اردو اور عربی زبان کا مطالعہ بہت وسیع ہے۔ آپ کے لکھے افسانوں کی پہلی کتاب ہی آکسفورڈ یونیورسٹی پریس سے شائع ہوئی ہے۔ ایک بین الاقوامی ادارے سے آپ کی کتاب کا شائع ہونا بذات خود آپ کے کام کی اہمیت اور معیار کی نشاندہی ہے۔ کتابستان کا آج کا موضوع آپ کے افسانوں کی یہی کتاب ہے جس کا عنوان ہے “قائم دین”۔ اس کتاب کے علاوہ آپ کا لکھا ناول “نو لکھی کوٹھی” بھی پسندیدگی کی سند لینے میں کامیاب رہا ہے۔ Continue reading 137-قائم دین از علی اکبر ناطق

135- ایک دن کی بات از عکسی مفتی

ایک دن کی بات از عکسی مفتی

Aik din ki baat- Aksi Muftiمصنف: عکسی مفتی

صنف: جدید حکایات، اردو ادب، پاکستانی ادب، مضامین

سن اشاعت: 2013

صفحات: 200

قیمت: 500 روپے

ناشر: الفیصل ناشران، اردو بازار لاہور

عکسی مفتی، مشہور مصنف ممتاز مفتی صاحب کے صاحبزادے ہیں۔ تاہم یہ آپ کی پہچان کا واحد حوالہ نہیں۔ ایک مشہور و معروف والد کی اولاد ہونے کے باوجود عکسی صاحب نے اپنی پہچان خود بنائی ہے اور اس کی انفرادیت برقرار رکھی ہے تاہم والد سے لکھنے کے جراثیم آپ کو ضرور منتقل ہوئے ہیں۔ آپ کی ایک اہم پہچان لوک ورثہ سے آپ کی وابستگی ہے آپ لوک ورثہ کے ڈائریکٹر رہ چکے ہیں۔ اسلامی اور پاکستانی ثقافت کو دنیا بھر میں متعارف کروانے کے لئے آپ کا کردار قابل تعریف ہے۔ آپ فلسفے اور نفسیات کے ماہر ہیں۔ اپنے والد کی طرح عکسی مفتی بھی اپنی زمین سے جڑے ہوئے ہیں۔ آپ کی تحریروں میں اسلامی تہذیب و ثقافت کا حوالہ و ذکر بار بار ملتا ہے۔ آپ کے قلم سے “تلاش” جیسی کتاب نکل چکی ہے جس کا موضوع “اللہ: ماورا کا تعین” ہے۔ یہ وہی تلاش ہے جس کا ذکر ممتاز مفتی کی تحریروں میں نظر آتا ہے اور اسی تلاش کا ذکر عکسی مفتی کی تحریروں میں چھلکتا ہے۔ Continue reading 135- ایک دن کی بات از عکسی مفتی

130- Inferno by Dan Brown

Inferno by Dan Brown

inferno-dan-brownمصنف:ڈین براؤن

صنف: ناول، انگریزی ادب

صفحات: 461

سن اشاعت: 2013

ISBN: 978-1-845-95067-5

کسی بھی مصنف کی کامیابی کی نشانی یہ ہے کہ اس کی ایک کتاب پڑھنے کے بعد قاری اس کی لکھی دیگر کتب پڑھنے کی خواہش محسوس کرے۔ ایسا ہی ڈین براؤن کے ساتھ بھی ہے۔ ان کا تحریر کردہ ایک ناول پڑھنے کے بعد ان کی دوسری کتابوں کے مطالعے کی تحریک پیدا ہوتی ہے۔ کتابستان میں گاہے بہ گاہے ان کے کام کو پیش کیا جاتا رہا ہے۔ ان کی ابتدائی کتب گرچہ بہت متاثر کن نہیں رہی ہیں لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ براؤن کے لکھنے کے انداز میں بتدریج بہتری آئی ہے۔ ان کے سسپنس پیش کرنے کا طریقہ بہتر ہوا ہے۔ اینجلز اینڈ ڈیمنز، گرچہ موضوع کے اعتبار سے اک عمدہ اور منفرد ناول تھا، تاہم اس کے مطالعے کے کافی عرصے بعد تک بھی مصنف کی کوئی کتاب زیرِ مطالعہ نہ آ سکی، گرچہ نئے ناول منظر عام پہ آ چکے تھے۔ تاہم “دی لاسٹ سمبل” کا مطالعہ کرتے ہوئے احساس ہوا کہ اس ناول کو مکمل کئے بغیر ہاتھ سے رکھا نہیں جا سکتا۔ اس ناول کے اختتام پہ براؤن کے تازہ ترین ناول کی تلاش شروع ہوئی اور ہاتھ میں انفرنو آ گیا، جو ہمارا آج کا موضوع ہے اور آج کل دی ڈاونشی کوڈ ہمارے زیر مطالعہ ہے۔ امید ہے جلد ہی اس پہ لکھا گیا مضمون  کتابستان کا حصہ بنے گا۔ عمیرا احمد بابا یحییٰ خان کے بعد ڈین براؤن بھی ہماری اس فہرست میں شامل ہو گئے ہیں جن مصنفین کی آنے والی کتب کا ہم بےچینی سے انتظار کرتے ہیں۔ Continue reading 130- Inferno by Dan Brown

129-غلام باغ از مرزا اطہر بیگ

غلام باغ از مرزا اطہر بیگ

Ghulam baghمصنف: مرزا اطہر بیگ

صفحات: 878

صنف: اردو ادب، پاکستانی ادب، ناول

قیمت: 1100 روپے

ناشر: سانجھ پبلی کیشنز

سن اشاعت: 2006

ISBN: 978-969-593-061-8

مرزا اطہر بیگ کے نام سے ہمارے کئی قارئین واقف ہوں گے۔ آپ ٹیلی ویژن کے لئے لکھتے رہے ہیں اور کئی مشہور ڈراموں کے مصنف ہیں۔ غلام باغ آپ کا لکھا ہوا پہلا ناول ہے جو سن 2006 میں منظر عام پہ آیا ہے۔ اس ناول نے آتے ساتھ ہی دھوم مچا دی ہے۔ غلام باغ کی خاص بات یہ ہے کہ جہاں یہ سنجیدہ اردو ادب کے قارئین کو زبان و بیان کی چاشنی مہیا کرتا ہے وہیں یہ فکشن کے دلدادہ قارئین کو ایسی کہانی مہیا کرتا ہے جو مکمل پڑھے بنا چھوڑی نہیں جا سکتی، نہ ہی اس ناول کے صفحات پلٹ کے کہانی کا انجام جاننے کی کوشش کامیاب ہو سکتی ہے۔ یہ ایسا ناول ہے جو صفحہ بہ صفحہ، سطر بہ سطر اور لفظ بہ لفظ پڑھنے پہ ہی اپنے قاری پہ کھلتا ہے اور اسے اپنی فضا میں ایسے جکڑ لیتا ہے کہ اسے مکمل پڑھنے کے بعد بھی وہ خود کو غلام باغ کے اردگرد ہی پاتا ہے۔ Continue reading 129-غلام باغ از مرزا اطہر بیگ

128-The jewel of seven stars by Bram Stoker

The jewel of seven stars by Bram Stoker

زندہ ممی از مقبول جہانگیر

The jewel of seven stars by Bram Stokerمصنف: بریم اسٹوکر

ترجمہ: زندہ ممی

مترجم: مقبول جہانگیر

صنف: ناول، خوفناک ناول، انگریزی ادب

صفحات: 213

سن اشاعت: 1903

خوفناک کہانیوں کی جب بات کی جائے تو “ڈریکولا” سے سب ہی واقف ہوں گے۔ یہ ناول انگریزی ادب میں کلاسک کا درجہ رکھتا ہے۔ یہ مشہور ناول اور کردار آئرش مصنف “بریم اسٹوکر” کا تخلیق کردہ ہے۔ ڈریکولا کے علاوہ بھی اسٹوکر کے کریڈٹ پہ کئی ناول اور مختصر کہانیاں ہیں جن میں سے ایک پہ آج بات ہو رہی ہے۔ اس ناول کا عنوان ہے “دی جیول آف سیون اسٹارز” یعنی سات ستاروں کا زیور۔ اس ناول کا اردو زبان میں ترجمہ مقبول جہانگیر صاحب کی مہربانی سے ہم تک پہنچا ہے۔ اس ترجمے کا مطالعہ آج سے کوئی پندرہ سولہ سال قبل کیا گیا تھا، کتابستان کے لئے مضمون لکھتے ہوئے اسے دوبارہ پڑھنے کا موقع ملا اور اتنے طویل عرصے کے بعد پڑھنے کے بعد بھی اس ناول نے اتنا ہی لطف دیا جتنا کہ پہلی بار مطالعہ کے دوران محسوس ہوا تھا۔ یہ یقیناً مصنف کی مہارت اور موضوع کی دلچسپی ہے کہ یہ ناول کسی بھی زمانے میں پرانا محسوس نہی ہوتا وہیں یہ مترجم کی بھی کامیابی ہے کہ اس نے اردو زبان کے قالب ڈھالتے ہوئے ناول کی دلچسپی کم نہیں ہونے دی۔ Continue reading 128-The jewel of seven stars by Bram Stoker

127- The history of the devil and the idea of evil by Paul Carus

The history of the devil and the idea of evil by Paul Carus

شیطان کی تاریخ: مختلف تہزیبوں اور مذاہب میں تصور شیطان کا تحقیقی جائزہ از پال کیرس اور یاسر جوادThe history of the devil

مصنف: پال کیرس

ترجمہ و تالیف: یاسر جواد

صنف: تحقیقی کتاب، فلسفہ، نان فکشن

صفحات: 208

قیمت: 300 روپے

سن اشاعت: 1900ء

اشاعت ترجمہ: ء 2014

ناشر: نگارشات پبلشرز

خدا کا تصور، ابتدائے آفرینش سے ہی انسان کے ہمراہ ہے۔ اس تصور کے ساتھ ہی اچھائی کی بنیاد وابستہ ہے۔ خیر اور شر کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ شر کو شیطان کی پشت پناہی حاصل ہے۔ کتابستان کی آج کی منتخب کردہ کتاب اسی منفرد موضوع کے بارے میں ہے۔ اس کتاب میں شیطان کو موضوع بنایا گیا ہے۔ یہ کتاب پال کیرس نے سن 1900 میں تحریر کی تھی۔ کیرس ایک جرمن امریکی مصنف تھے جن کی مہارت فلسفے اور مذاہب عالم کے تقابلی مطالعے میں تھی۔ دنیا بھر کے مذاہب میں جہاں خدا کا تصور پیش کیا گیا ہے وہیں ایک شر کی قوت کا بیان بھی موجود ہے۔ کیرس نے اسی شر کی قوت کے بارے میں پیش کردہ معلومات، تصورات اور وضاحتوں کو علیحدہ کرکے ایک کتاب کی شکل دے دی ہے۔ کتاب کا ترجمہ یاسر جواد نے کیا ہے جنہوں نے ترجمے کے ساتھ ساتھ اس کتاب میں ایک باب کا اضافہ بھی کیا ہے۔ کتاب میں شیطان کے اسلامی تصور پہ مبنی باب یاسر صاحب کا تحریر کردہ ہے۔ اور آخری باب کارل ساگان کی کتاب “توہمات کی دنیا” کے اقتباسات کی مدد سےترتیب دیا گیا ہے۔ کتاب کا دیباچہ یاسر جواد صاحب کا تحریر کردہ ہے اور وہ رقم طراز ہیں؛ Continue reading 127- The history of the devil and the idea of evil by Paul Carus

126- نکلے تیری تلاش میں از مستنصر حسین تارڑ

نکلے تیری تلاش میں از مستنصر حسین تارڑ

Nikle Teri Talash Meinمصنف: مستنصر حسین تارڑ

صنف: سفر نامہ، اردو ادب

صفحات: 368

قیمت: 450 روپے

ناشر: سنگ میل پبلی کیشنز

ISBN-10: 969-35-0016-4

ISBN-13: 978-969-35-0016-5

مستنصر حسین تارڑ کا نام اردو ادب میں ایک الگ اور اہم مقام رکھتا ہے۔ آپ مشہور سفرنامہ نگار، ناول نگار، ڈرامہ رائٹر اور ٹی وی میزبان ہیں۔ ادب کی اتنی صنفوں سے تعلق اور ٹیلی ویژن سے وابستگی کی وجہ سے شائد ہی کوئی ایسا قاری ہو جو آپ کے نام سے واقف نہ ہو۔ کتابستان میں مصنف کے ناولوں پہ تفصیلی بات ہو چکی ہے آج ہم آپ کے سفرنامے “نکلے تیری تلاش میں” کو موضوع بنائیں گے۔ یہ مستنصر صاحب کا پہلا سفر نامہ ہے۔ اردو سفرنامہ نگاری میں آپ کے لکھے ہوئے سفرناموں کو ایک ممتاز حیثیت حاصل ہے۔ آپ کے سفرناموں میں ایک مخصوص رومانوی اور افسانوی فضا موجود ہوتی ہے جو انہیں نا صرف رپورتاژ بننے سے بچاتی ہے بلکہ قاری پوری توجہ کے ساتھ سفرنامے میں محو ہو جاتا ہے۔ سفرنامہ حال کے ساتھ ساتھ ماضی میں بھی سفر کرتا جاتا ہے اور قاری کو مقام کی صرف ظاہری سیاحت نہیں کراتا بلکہ اس مقام کی تاریخی اہمیت سے بھی روشناس کراتا ہے۔ ایسے میں مستنصر صاحب کا قلم سفرنامے پہ ایک ایسا فسوں بکھیر دیتا ہے جو قاری کو اپنے سحر میں جکڑ لیتا ہے اور وہ ایک ان دیکھی جگہ کے رومان میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ مستنصر کے کم و بیش تمام سفرنامے ان تمام خصوصیات کے حامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ قارئین میں عام مقبول ہیں اور ایک طویل عرصے کے بعد بھی پڑھے جا رہے ہیں۔

“نکلے تیری تلاش میں” مستنصر صاحب کے یورپ کے دورے کا احوال ہے۔ اس سفر کی خاص بات یہ ہے کہ یہ سفر انہوں نے ہوائی جہاز کے ذریعے سے طے نہیں کیا بلکہ زمینی رستہ اختیار کیا۔ بقول مصنف: Continue reading 126- نکلے تیری تلاش میں از مستنصر حسین تارڑ

125-Regency Buck by Georgette Heyer

Regency Buck by Georgette Heyer

Regency Buck by Georgette Heyer

مصنفہ: جیورجٹ ہئر

صنف: ناول، انگریزی ادب

صفحات: 333

سن اشاعت: 1935

ISBN: 0-09-944685-5

انگریز مصنفہ جیورجٹ ہئر کا کتابستان میں ہم پہلے بھی تذکرہ کر چکے ہیں۔ آپ گزشتہ صدی کی مشہور مصنفہ ہیں جو اپنے ناولوں کی وجہ سے مشہور ہوئیں۔ آپ کے ناولوں میں عموماً سو سال قبل کے انگلستان کی عکاسی کی گئی ہے۔ ایک صدی قبل کے انگلستان کے حالات، رسوم و رواج، فیشن اور طور طریقوں کی عمدہ منظر کشی آپ کے ناولوں میں ملتی ہے۔ ان ناولوں کی رومانوی فضا، دلچسپ کہانی اور ایک صدی پرانی تفصیلات ان ناولوں کو وہ مخصوص پہچان دیتے ہیں  جو جورجئیٹ ہئر صاحبہ سے منسوب ہے۔ آج جس ناول پہ بات ہو رہی ہے وہ بھی ان تمام خصوصیات کا حامل ہے۔ Continue reading 125-Regency Buck by Georgette Heyer

124-رقصِ جنوں (جزام) از بشریٰ سعید

رقصِ جنوں (جزام) از بشریٰ سعید

Raqs-e-junoon-by-bushra-saeedمصنفہ: بشریٰ سعید

صنف: ناول، پاکستانی ادب

صفحات: 182

ناشر: القریش پبلی کیشنز، لاہور

بشریٰ سعید صاحبہ کی تحاریر کی خاص بات ان کی منفرد اور گہری سوچ ہے۔ آپ معاملات کو ظاہری انداز سے نہیں دیکھتیں بلکہ ان کے اندر اتر کے ان کی اصلیت ڈھونڈ کے لاتی ہیں اور اس کے لئے چاہے پاتال میں ہی کیوں نہ جانا پڑے۔ یہی گہرا پن آپ کی تحریروں کو ان کا منفرد روپ دیتا ہے۔ آپ کے ناول ڈائجسٹ میں چھپنے کے باوجود معنویت کا پہلو لئے ہوتے ہیں۔ آپ کی سوچ کا انداز کہیں کہیں عمیرا احمد صاحبہ کی سوچ سے جا ٹکراتا ہے ایسا شاید مذہب کو موضوع بنانے کی وجہ سے محسوس ہوتا ہے۔

رقصِ جنوں، جاثیہ کی کہانی ہے۔ ناول کا آغاز ایک پجارن کے قصے سے ہوتا ہے جو اپنے دیوتا کو منانے کے لئے دیوانہ وار رقص کر رہی تھی۔ اسی رقص کی بنیاد پہ ناول کا عنوان رکھا گیا ہے۔ پجارن کے رقص کی وجہ سے دیوتا اپنے سنگھاسن سے اتر آیا، اور جب وہ نیچے اترا تو پجارن کو معلوم ہوا کہ وہ ایک عام انسان ہے اور انسانوں سے تو خوف کھاتے ہیں۔ ناول میں مصنفہ نے جاثیہ کی مماثلت اسی پجارن سے کی ہے۔ جاثیہ ایک بیوہ استانی کی بیٹی ہے۔ اس کی ماں نے اس کی تربیت نیک خطوط پہ کی تھی۔ لیکن جب اونیل، جاثیہ کے سامنے آٰیا تو وہ سب کچھ بھول گئی یہاں تک کہ یہ بھی کہ اس کے مذہب میں غیر مسلم مرد سے شادی کرنا ممنوع ہے۔ اونیل ایک یہودی شخص تھا جو پاکستان کے شہر اوکاڑہ میں ایک ہوٹل کی تعمیر کروا رہا تھا۔ اونیل کا خاندان جرمنی میں آباد تھا۔ اونیل نے جاثیہ سے کہا کہ وہ اس کی محبت پانے کی خاطر اپنا مذہب تبدیل کر لے گا۔ جاثیہ کی والدہ نے اپنی بیٹی کو اس بات کی اجازت نہیں دی اور نتیجتاً جاثیہ اپنا گھر چھوڑ کے بھاگ گئی۔ Continue reading 124-رقصِ جنوں (جزام) از بشریٰ سعید

123-The Man-eaters of Tsavo by John Henry Patterson

The Man-eaters of Tsavo by John Henry Patterson

تساوو کے آدم خور از جے۔ ایچ پیٹر سن

The man eaters of tsavoمصنف: جے۔ ایچ۔ پیٹر سن (جان ہنری پیٹر سن)

ترجم: تساوو کے آدم خور

مترجم: سید علاؤ الدین

صنف: نان فکشن، شکاریات

سن اشاعت: 1907

صفحات: 119

کتابستان میں شکاریات کے موضوع پہ آج سے پہلے ایک ہی کتاب پیش کی گئی ہے۔ یہ تبصرہ کتابستان کے ابتدائی دنوں میں پیش کیا گیا تھا اور یہ اس بلاگ پہ سب سے زیادہ پڑھی اور تلاش کی جانے والی کتابوں میں شامل ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ قارئین شکاریات کے موضوع پہ کتابیں پڑھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ ہمارے لئے خوشی کا موقع ہے کہ ہم آج ایسے ہی قارئین کے لئے شکاریات کے موضوع پہ لکھی گئی کتاب پیش کر رہے ہیں۔ یہ کتاب انگریز مصنف جے ایچ پیٹر سن کے قلم سے نکلی ہوئی ہے اور سن 1907 میں پہلی بار شائع کی گئی۔ اس کتاب نے اپنے وقت میں ناصرف عوامی پسندیدگی حاصل کی بلکہ امریکی صدر روز ویلٹ اور برطانوی وزیراعظم سالسبری کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔ اردو زبان کے قارئین کے لئے اس کتاب کا ترجمہ سید علاؤالدین صاحب نے تساوو کے آدم خور کے عنوان سے کیا ہے۔ Continue reading 123-The Man-eaters of Tsavo by John Henry Patterson

122-انسانی قیامت از علیم الحق حقی

انسانی قیامت از علیم الحق حقی

insani-qayamat_Aleem-ul-Haq_Haqqiمصنف: علیم الحق حقی

صنف: ناول، پاکستانی ادب

صفحات: 188

ناشر: علی میاں پبلی کیشنز، لاہور

سن اشاعت: 1998

پاکستان میں پاپولر فکشن لکھنے والے مصنفین میں غیر ملکی ناولوں کے تراجم کرنے کا رجحان کافی رہا ہے۔ عموماً یہ ترجمے لفظی یا بامحاورہ نہیں ہوتے بلکہ مصنفین کہانی کی فضا اور کرداروں کو مقامی یعنی پاکستانی ماحول کے مطابق ڈھال کے پیش کرتے ہیں تاہم کہانی کا اصلی متن وہی رہتا ہے۔ یہاں تک بات ٹھیک رہتی ہے لیکن ہمارے زیادہ تر مصنفین ان ناولوں کو اپنے ناموں سے پیش کرتے ہیں۔ ان ناولوں کو کہاں سے اخذ کیا گیا، ان کی انسپیریشن کس ناول سے لی گئی، اس بارے میں مصنف خاموش رہتے ہیں۔ ایسے ناول عوام میں انہی مصنفین (مترجمین) کے ناموں سے مشہور ہو جاتے ہیں اور ان کے اصل مصنف اور اصلی کتاب کا نام کم ہی سامنے آ پاتا ہے۔ ہمارے نزدیک یہ فعل مناسب نہیں، اس ضمن میں جتنی غلطی مصنف کی ہے اتنی ہی ناشر کی بھی ہے۔ ایک ناشر کو چاہئے کہ وہ مترجم کو اس بات کی تحریک دے کہ وہ ناول کے اصل مصنف کا بھی ذکر کرے اور اس ناول کا بھی ذکر کرے جس سے کہانی اٹھائی گئی ہے۔ کتابستان میں ہماری کوشش رہتی ہے کہ ہم تراجم کے ساتھ اصل ناول اور مصنف کا حوالہ بھی دیں تاکہ حقائق درست رہیں، تاہم چند موقعے ایسے بھی رہے ہیں جب ہم اپنی کم علمی کے باعث اصل کتاب نہیں ڈھونڈ سکے۔ حقی صاحب کا موجودہ ناول بھی ایک ایسا ہی ناول ہے جس کے اصل مصنف کا انہوں نے ذکر نہیں کیا۔ تاہم اپنے قارئین کے لئے ہم یہ بتاتے چلیں کہ یہ امریکی مصنف گورے وڈال کے ناول “کالکی” سے ماخوذ ہے۔ انسانی قیامت، علیم الحق حقی صاحب کی تصنیف ہے۔ حقی صاحب کی تصنیفات پہ پہلے بھی بات ہو چکی ہے۔ اس ناول کی بنیاد ہندو مذہب کے ایک عقیدے کے گرد گھومتی ہے جس کے مطابق دنیا کے اختتام پہ سفید گھوڑے پہ کالکی اوتار کی آمد ہوگی جو بھگوان وشنو کا آخری اوتار ہوگا۔ اس اوتار کی آمد کے بعد دنیا کا خاتمہ ہو جائے گا۔

موجودہ ناول انسانی قیامت، کالکی اوتار ہونے کے دعوے دار ایک شخص کی کہانی ہے جو ایک امریکی پائلٹ خاتون تھیوڈور اوٹنگز کی زبانی پیش کی گئی ہے۔ تھیوڈور اوٹنگز کو ایک ایسے شخص کے انٹرویو کی ذمہ داری دی جاتی ہے جس نے کالکی ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔ کالکی ہندوستان میں ایک آشرم چلا رہا تھا۔ اس کے چیلے مختلف لوگوں میں کنول کے پھول تقسیم کیا کرتے تھے اور وہ کسی سے کسی قسم کی مالی امداد نہیں لیا کرتے تھے اسی وجہ سے کالکی کئی لوگوں کی نظروں میں آ رہا تھا، لوگوں کا خیال تھا کہ اس کی مالی امداد منشیات سے وابستہ گروہ کر رہے ہیں۔ کچھ لوگ کالکی کے بارے میں مشکوک تھے اور ان کا خیال تھا کہ “کوئی طاقت مغربی دنیا کو سرنگوں کرنا چاہتی ہے۔ اس کی سب سے سادہ اور آسان ترکیب یہ ہے کہ مغرب کی نئی نسل کو نشے کی لت ڈال دی جائے۔ انہیں ایک ایسے مذہب سے روشناس کرایا جائے جو یہ بتائے کہ دنیا کا خاتمہ قریب ہے۔ ایسے مایوس اور نشے کے عادی لوگ لڑ سکتے ہیں کبھی، وہ تو جنگ شروع ہونے سے پہلے ہی ہار جائیں گے۔” Continue reading 122-انسانی قیامت از علیم الحق حقی

120-اداس نسلیں از عبداللہ حسین

اداس نسلیں از عبداللہ حسین

Uddas Naslainمصنف: عبداللہ حسین

صنف: ناول، پاکستانی ادب

صفحات: 512

سن اشاعت:

قیمت: 750 روپے

ناشر: سنگ میل پبلی کیشنز

ISBN-10: 969-35-0073-3
ISBN-13: 978-969-35-0073-8

عبداللہ حسین صاحب اردو ادب کے جانے مانے اور مشہور مصنف ہیں۔ آپ کی تصنیف “اداس نسلیں” اردو زبان کے شاہکار ناول کا درجہ رکھتی ہے۔ اداس نسلیں، آگ کا دریا کے بعد اردو زبان کا دوسرا بڑا شاہکار ناول تصور کیا جاتا ہے۔ اس ناول کا اسلوب، بیان، کردار سازی، منظر نگاری، غرض ہر پہلو پہ نقاد بحث کر چکے ہیں اور یہ ناول متفقہ طور پہ پسندیدگی کی سند حاصل کر چکا ہے۔ اس لئے اس ناول کے محاسن پہ بات کرنے کی یہاں ضرورت نہیں ہے۔ تاہم ہم مناسب سمجھتے ہیں کہ اپنے قارئین کو اس ناول سے متعارف کروائیں جس نے اردو دنیا میں بےپناہ مقبولیت حاصل کی ہے۔

ناول کی کہانی کا آغاز اس وقت سے ہوتا ہے جب برصغیر پہ انگریز راج تھا اور برٹش انڈیا کہلاتا تھا۔ ناول کے ابتدا میں روشن پور نامی ایک گاؤں کی کہانی بیان کی گئی ہے۔ اس گاؤں کا نام نواب روشن علی خان کے نام پہ رکھا گیا تھا۔ روشن علی خان صاحب خاندانی نواب نہیں تھے۔ ایک انگریز کو بلوائیوں سے بچانے کے انعام کے طور پہ انہیں روشن خان کی جاگیر دی گئی تھی۔ اس طرح اس گاؤں کا نام روشن پور پڑ گیا۔ اس گاؤں کا کہانی سے گہرا تعلق ہے۔ ناول کے مرکزی کردار نعیم کا تعلق اسی گاؤں سے تھا۔ Continue reading 120-اداس نسلیں از عبداللہ حسین

119-The old man and the sea by Ernest Hemingway

The old man and the sea by Ernest Hemingway

بوڑھا اور سمندر از ارنسٹ ہمنگ وے

The old man and the seaمصنف: ارنسٹ ہمنگ وے

ترجمہ: بوڑھا اور سمندر

مترجم: ابن سلیم

صنف: ناول، امریکی ادب

سن اشاعت: 1952

ارنسٹ ہمنگ وے ایک نوبل انعام یافتہ امریکی مصنف اور صحافی تھے۔ آپ نے کئی ناول اور مختصر کہانیاں لکھی ہیں۔ “دی اولڈ مین اینڈ دی سی” جس کا اردو ترجمہ بوڑھا اور سمندر کے عنوان سے کیا گیا ہے، آپ کی لکھی ہوئی وہ تحریر ہے جس نے آپ کو نوبل انعام کا حقدار قرار دلوانے میں اہم کردار ادا کیا۔ یہ آپ کا بہترین ناول شمار کیا جاتا ہے۔ اس ناول کو ادب کا پلٹزر انعام بھی دیا گیا ہے۔

بوڑھا اور سمندر ایک عمر رسیدہ مچھیرے کی داستان ہے۔ اس مچھیرے کا نام سان تیاگو تھا۔ ناول کی کہانی اس وقت شروع ہوتی ہے جب سان تیاگو سمندر میں مسلسل چوراسی دن تک ماہی گیری کرنے کے باوجود ایک بھی مچھلی پکڑنے میں کامیاب نہ ہو سکا۔ یہ انتہا درجے کی بدقسمتی تھی۔ اسی بدقسمتی کی وجہ سے اس کے شاگرد مینولن کے والدین نے اسے سان تیاگو کے ساتھ کام کرنے سے منع کر دیا تھا۔ Continue reading 119-The old man and the sea by Ernest Hemingway

118- عالم اسلام کی روحانی صورتحال از اسرار عالم

عالم اسلام کی روحانی صورتحال از اسرار عالم

مصنف: اسرار عالمAalm-e-Islam ki roohani soorat-e-haal

صنف: نان فکشن، اسلامی کتب

صفحات:131

ناشر:ادارہ معارف اسلامی، کراچی

نئے سال کے موقع پہ ہم اپنے قارئین کو مبارکباد پیش کرتے ہیں اور دعا گو ہیں کہ یہ نیا سال ہر ایک کے لئے خوشیوں، مسرتوں اور آسانیوں سے بھرپور ہو۔ اس نئے سال کے موقع پہ ہم ایک نئے مصنف کی کتاب آپ کے لئے لائے ہیں جن کا نام ہے اسرار عالم۔ اسرار عالم صاحب کوئی نئے مصنف نہیں ہیں، آپ ایک معروف مفکر ہیں جنہوں نے موجودہ دور میں عالم اسلام کو درپیش مسائل کے بارے میں قلم اٹھایا ہے۔ آپ کے قلم سے کئی کتب نکل چکی ہیں اور مذہبی حلقوں کے ساتھ ساتھ عام قارئین میں بھی پسند کی جا رہی ہیں۔ آپ کی کتب میں اسلام اور اکیسویں صدی کا چیلنج، امت کا بحران، معرکہ دجال اکبر، عالم اسلام کی سیاسی صورتحال وغیرہ شامل ہیں۔

کتاب کے پیش لفظ میں مصنف تحریر کرتے ہیں،

“اندوہناک صورتحال سے زیادہ کرب کی بات یہ ہے کہ امت مسلمہ، جو دنیا کی وہ واحد گروہ ہے جسے ماضی، حال اور مستقبل کا کافی علم دیا گیا، آج حیران اور ناواقف راہ بھٹک رہی ہے اور دنیا کی تاریکیوں سے روشنی کی بھیک مانگ رہی ہے۔ چودہ صدیوں بعد اب آثار قیامت کے ظاہر ہونے کی رفتار تیر تر ہوئی ہوئی محسوس ہوتی ہے گویا کوئی ہار ٹوٹ جائے اور یکے بعد دیگرے دانے گرنے لگیں۔
Continue reading 118- عالم اسلام کی روحانی صورتحال از اسرار عالم

117-The lost symbol by Dan Brown

The lost symbol by Dan Brown

The Lost Symbolمصنف: ڈین براؤن
صنف: ناول، امریکی ادب
زبان: انگریزی
صفحات:۴۶۲
سن اشاعت: ۲۰۰۹
مشہور امریکی مصنف ڈین براؤن کا ناول، دی لوسٹ سمبل جس کا اردو ترجمہ ’گمشدہ نشان‘ ہو سکتا ہے ان کی مشہور رابرٹ لینگڈن سیریز کا حصہ ہے۔ را برٹ لینگڈن ، ڈین براؤن کا تخلیق کردہ کردار کا نام ہے۔ یہ کردار ہاورڈ یونیورسٹی کا ایک درمیانی عمر کا پروفیسر ہے جس کی مہارت قدیم تہذیبوں کی تصویری زبانیں ہیں۔ دی لاسٹ سمبل، رابرٹ لینگڈن سیریز کا تیسرا ناول ہے۔ اس سے پہلے دو ناول دی ڈاونشی کوڈ اور دی اینجلنز اینڈ ڈیمنز نے بہت مقبولیت حاصل کی اور بیسٹ سیلرز کی لسٹ میں شامل ہوئے۔ موجودہ ناول  بھی بیسٹ سیلر کی لسٹ میں شامل ہے۔
Continue reading 117-The lost symbol by Dan Brown

116- امر بیل از عمیرا احمد

امر بیل از عمیرا احمد

Amar bail- Umaira Ahmedمصنفہ: عمیرا احمد

صنف: ناول، پاکستانی ادب

صفحات: 760

امر بیل، عمیرا احمد صاحبہ کے قلم سے نکلا ہوا ایک شاہکار ناول ہے۔ یہ ایک رومانوی ناول ہے جس کے تانے بانے پاکستان کی سول سوسائٹی کی زندگی اور اطوار کے گرد بنے گئے ہیں۔ عمیرا صاحبہ کے زیادہ تر ناولوں کا موضوع مذہب یا عورت ذات رہی ہے تاہم امر بیل عمیرا احمد کے ان چند ناولوں میں ہے جس کا مرکزی خیال مذہب سے نہیں اٹھایا گیا۔ یہ ناول کئی ماہ تک ڈائجسٹ میں شائع ہوتا رہا ہے اور اس نے بہت مقبولیت حاصل کی۔ بعد ازاں اس کو کتابی شکل میں بھی پیش کر دیا گیا ہے۔ اس ناول پہ مبنی ڈرامہ بھی ٹیلی ویژن پہ آ چکا ہے۔ Continue reading 116- امر بیل از عمیرا احمد

115- بہاؤ از مستنصر حسین تارڑ

بہاؤ از مستنصر حسین تارڑ

Bahaoمصنف: مستنصر حسین تارڑ

صنف: ناول، پاکستانی ادب

صفحات:229

قیمت: 250 روپے

ناشر: سنگ میل پبلی کیشنز، لاہور

ISBN: 969-35-0150-8

اردو ادب میں وادی سندھ کی گم گشتہ تہذیب کو کسی مصنف نے اپنے تخیل کا موضوع نہیں بنایا، یہی بات ہے جو بہاؤ کو موضوع کے حساب سے انتہائی منفرد ناول بنا دیتی ہے۔ مستنصر حسین تارڑ صاحب کی وجہ شہرت ان کے تحریر کردہ سفر نامے ہیں۔ ان کے لکھے سفر نامے گھر بیٹھے ہی قاری کو دور کے دیس میں لے جاتے ہیں جہاں چلتی برفیلی ہواؤں اور برف پوش چوٹیوں کی ٹھنڈک کو وہ اپنے گھر کے اندر ہی محسوس کر لیتے ہیں۔ تاہم بہاؤ میں تارڑ صاحب اپنے قاری کو کسی دور کے دیس میں نہیں لے جا رہے بلکہ بہاؤ قاری کو آج سے پانچ ہزار سال پرانی ایک ایسی بستی میں لے جاتا ہے جو دریائے سندھ کے کنارے آباد تھی اور اس کا زمانہ موہنجودڑو کی تہذیب کا ہم عصر زمانہ تھا۔ موہنجودڑو کے متعلق انسانی معلومات وہاں کھدائی کے دوران نکلنے والے کھنڈرات اور چند قدیم باقیات تک محدود ہے۔ یہ تارڑ صاحب کے مضبوط تخیل کا کمال ہے کہ انہوں نے اتنی کم معلومات کی بنیاد پہ موہنجودڑو کے نواح میں واقع ایک بستی پہ ایک بھر پور ناول لکھ دیا ہے۔ Continue reading 115- بہاؤ از مستنصر حسین تارڑ

114-Doomsday and life after death by Sultan Bashir Mehmood

Doomsday and life after death by Sultan Bashir Mehmood

قیامت اور حیات بعد الموت از سلطان بشیر محمود

Doomsday and life after deathمصنف: سلطان بشیر محمود

نام ترجمہ: قیامت اور حیات بعد الموت

مترجم: میجر (ر) امیر افضل خان

صنف: نان فکشن، اسلام اور سائنس، تحقیق

صفحات: 570

سن اشاعت: 1987

ناشر: القرآن الحکیم ریسرچ فاؤنڈیشن، اسلام آباد

ڈومز ڈے اینڈ لائف آفٹر ڈیتھ، جس کا اردو ترجمہ “قیامت اور حیات بعد الموت” کے عنوان سے کیا گیا ہے، سلطان بشیر محمود صاحب کی تصنیف ہے۔ بشیر صاحب کا تعارف ہم کتابستان میں پیش کی گئی ان کی ایک اور کتاب کے تعارف کے دوران کروا چکے ہیں۔ اس بلاگ کے آخر میں اس کتاب کا ربط موجود ہے جہاں سے قارئین اس تعارف تک پہنچ سکتے ہیں۔ اس کتاب کے آغاز میں کتاب کے تعارف کے طور پہ درج ہے،

“قرآن حکیم، فرمودات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور جدید سائنسی دریافتوں کی روشنی میں تخلیق کائنات، مومن کا فلسفہ حیات، کائنات میں انسان کا مقام اور مقاصد تخلیق، زندگی، موت، جسم، نفس، روح، ملائکہ اور جنات کے حقائق، قیامت عالم قبور،عالم برزخ، آخرت، روز محشر، جزا و سزا، جنت و دوزخ کے حالات یعنی یہ کتاب زمان و مکان میں ابتدا سے انتہا تک انسانی سفر کی داستان پہ ایک حقیقی مدلل اور سائنٹیفک تجزیہ ہے”۔ Continue reading 114-Doomsday and life after death by Sultan Bashir Mehmood

113-Happy things in sorrow times by Tehmina Durrani

Happy things in sorrow times by Tehmina Durrani

Happy-Things-in-Sorrow-Timesمصنفہ: تہمینہ درانی

صنف: ناول، پاکستانی ادب

زبان: انگریزی

صفحات: ۲۰۴

سن اشاعت: ۲۰۱۳

قیمت: ۸۹۵ روپے

ناشر: فیروز سنز پرائیویٹ لمیٹڈ، لاہور ، راولپنڈی، کراچی

ISBN: 9789690024763

ہیپی تھنگز ان سورو ٹائمز، محترمہ تہمینہ درانی صاحبہ کا تحریر کردہ تازہ ترین ناول ہے، جو گزشتہ سال منظر عام پہ آیا ہے۔ یہ تہمینہ صاحبہ کی چوتھی تحریر ہے۔ اس سے قبل آپ اپنی سوانح عمری، جناب عبدالستار ایدھی صاحب کی سوانح حیات، اور ایک انگریزی ناول تحریر کر چکی ہیں۔ آپ کی سوانح حیات مائی فیوڈل لارڈ کے عنوان سے شائع ہوئی تھی۔ یہ اپنے وقت کی مشہور ترین کتاب تھی جس نے آپ کو شہرت کی بلندیوں پہ پہنچا دیا۔ Continue reading 113-Happy things in sorrow times by Tehmina Durrani

112-میرے ہمدم میرے دوست از فرحت اشتیاق

میرے ہمدم میرے دوست از فرحت اشتیاق

Merey hamdam merey dostمصنفہ: فرحت اشتیاق

صنف: ناول، پاکستانی ادب

میرے ہمدم میرے دوست، محترمہ فرحت اشتیاق صاحبہ کی تخلیق ہے۔ فرحت اشتیاق وہی مصنفہ ہیں جن کے لکھے ہوئے ناول ہم سفر پہ مبنی ڈرامے نے ناصرف ملک گیر شہرت حاصل کی بلکہ ہمسایہ ملک میں بھی اپنی پسندیدگی کے جھنڈے گاڑنے میں کامیاب ہوا۔ میرے ہمدم میرے دوست کی بھی ڈرامائی تشکیل کی گئی ہے اور اس کو بھی ڈرامے کی شکل میں حال ہی میں پیش کیا گیا ہے۔ فرحت اشتیاق صاحبہ خواتین کے لئے شائع ہونے والے ڈائجسٹس کی مشہور لکھاری ہیں۔ آپ ہلکے پھلکے رومانوی موضوعات پہ لکھتی ہیں۔ آپ کے ناولوں کا مرکزی کردار ناول کی ہیروئن ہوتی ہے اور ناولوں میں اس کی زندگی اور اس میں آنے والی تبدیلیاں اور حالات پیش کئے جاتے ہیں۔ زیادہ تر آپ کی ہیروئن ایک تعلیم یافتہ، خوددار اور باہمت لڑکی ہوتی ہے جو زندگی میں مشکلات پیش آنے پہ آنسو بہانے کے ساتھ ساتھ ہمت کا مظاہرہ کرتی ہے اور اپنے حالات کی بہتری کے لئے کوشش کرتی ہے۔ تاہم کہانی میں ایک زبردست سا ہیرو بھی ہمیشہ موجود ہوتا ہے۔ Continue reading 112-میرے ہمدم میرے دوست از فرحت اشتیاق

111- Humiliated and insulted by Fyodor Dostoyevsky

Humiliated and insulted by Fyodor Dostoyevsky

ذلتوں کے مارے لوگ از فیودور دوستو فیسکی

The insulted and injuredمصنف: فیودور دوستو فیسکی

ترجمہ: ذلتوں کے مارے لوگ

مترجم: ض ۔ انصاری

صنف: ناول، روسی ادب

زبان: روسی

روسی ادب دنیا کے بہترین ادب میں شمار ہوتا ہے۔ روس نے دنیا کو بڑے ادیب دیئے ہیں جن میں لیو ٹالسٹائی، الیگزینڈر پشکن، فیودور دوستوفیسکی وغیرہ جیسے بڑے نام شامل ہیں۔ نثر ہو یا نظم، دونوں میدانوں میں ہی روسی ادباء اور شعراء نے کمالات دکھائے ہیں۔ کتابستان میں مشہور روسی مصنف لیوٹالسٹائی کےکچھ کام کو پیش کیا جا چکا ہے ۔آج ایک اور عظیم مصنف کے تعارف کا ہم اعزاز حاصل کر رہے ہیں جن کا نام ہے ’فیودور دستوفیسکی‘ ۔ دستو فیسکی کا زمانہ ۱۸۲۱ سے ۱۸۸۱ کا ہے۔ آپ ایک مشہور ناول نگار، فلسفی، جرنلسٹ اور مضمون نگار تھے۔ دتسو فیسکی نے انسانوں کی نفسیات کو روسی لوگوں کی حالت زار کے حوالے سے پیش کیا ہے۔ دستو فیسکی کے بارے میں مزید جاننے کے لئے یہاں جائیں۔ Continue reading 111- Humiliated and insulted by Fyodor Dostoyevsky

110-زاویہ سوم از اشفاق احمد

زاویہ سوم از اشفاق احمد

Zavia-3مصنف: اشفاق احمد

صنف: پاکستانی ادب، نان فکشن

صفحات: ۳۲۰

ناشر: سنگ میل پبلی کیشنز، لاہور

ISBN: 969-35-1885-3

زاویہ اول اور زاویہ دوم کے بعد اب پیش خدمت ہے زاویہ سوم کا تعارف ۔ زاویہ سوم، زاویہ سیریز کی آخری کتاب ہے۔ حصہ اول اور حصہ دوم کی طرح یہ بھی اشفاق احمد صاحب کے ٹیلی ویژن پروگرام زاویہ کی اقساط کے متن پہ مشتمل ہے۔ اس پروگرام کا نام زاویہ کیوں رکھا گیا، اس بارے میں اشفاق احمد صاحب فرماتے ہیں،

’فرض کریں ماڈرن دنیا میں کسی قسم کا ایک ڈیرہ ہو، جس میں سائیکاٹرسٹ بیٹھا ہو، یا سائیکالوجسٹ ہو لیکن وہ فیس نہ لے، اس کے پاس وہ بنچ نہ ہو جس پہ لٹا کر انالسس کرتے ہیں بلکہ بچھانے کے لئے صف ہو۔ ایسا سامان ہو کہ آمنے سامنے بیٹھ کر بات کر سکیں تو ان ڈیروں کو، ان تکیوں کو شمالی افریقہ میں، الجزائر میں، تیونس میں ’زاویے‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ ان کو ’زاویہ‘ کہتے ہیں۔ کچھ رباط بھی کہتے ہیں لیکن زاویہ زیادہ مستعل ہے۔ حیران کن بات ہے ، باوجود اس کے کہ زاویہ ایک خاص اسم طرف مکان ہے شمالی افریقہ کا، لیکن اندلس کے زمانے میں اندلس کی سرزمین پر زاویے نہیں تھے۔ تیونس، الجزائر میں رباط تھے۔ یہاں صوفی لوگ بیٹھ کر لوگوں کو، آنے جانے والوں کو ایک چھت فراہم کرتے تھے۔ وہنے کے لئے جگہ دیتے تھے۔ کھانے کے لئے روٹی پانی دیتے تھے۔ کچھ دیر لوگ بیٹھتے تھے، دکھی لوگ آتے تھے، اپنا دکھ بیان کرتےتھے اور ان سے شفا حاصل کرکے ڈائیلاگ کرتے تھے۔ سچ مچ! سائیکالوجسٹ جوکہا کرتے ہیں، وہ مہیا کرتے تھے، ہم نے بھی اسی تقلید میں پروگرام کا نام زاویہ رکھا ہے۔ اس لحاظ سے تو مجھے تھوڑی سی شرمندگی ہے کہ یہ اصل زاویہ نہیں ہے ۔ نقل بمطابق اصل ہے لیکن روح اس کی وہی ہے۔ کوشش اس کی یہی ہے کہ اس طرح کی باتیں یہاں ہوتی رہیں اور طبیعیت کا بوجھ جو پروگراموں میں کالموں اور کتابوں سے دور نہیں ہوتا وہ کسی طور یہاں دور ہو سکے۔‘ Continue reading 110-زاویہ سوم از اشفاق احمد

109-یتی از کاشف زبیر

یتی از کاشف زبیر

Yatti by Kashif Zubairمصنف: کاشف زبیر

صنف: ناول، پاکستانی ادب

صفحات: ۱۳۲

ناشر: جاسوسی پبلی کیشنز لاہور، کتاب گھر ڈاٹ کام

یتی، بگ فٹ، آئس مین، برفانی آدمی یہ تمام نام ایک ہی مخلوق کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ انسانی نسل عرصے سے ایک ایسی مخلوق کی کہانیاں سنتی آئی ہے جو برفانی پہاڑوں پہ بستی ہے۔ بلند و بالا پہاڑوں کے نزدیک علاقوں میں رہنے والے کئی لوگوں نے برفانی آدمی کو دیکھنے کے واقعات کا ذکر کیا ہے خصوصاً کوہ ہمالیہ کے گرد و نواح میں رہنے والے لوگوں میں اس مخلوق کی کہانیاں بہت مشہور ہیں۔ برفانی انسان یا برفانی آدمی بین الاقوامی ادب میں ایک جانا مانا کردار ہے۔ بگ فٹ، یتی، آئس مین نامی کرداروں پہ مشتمل ایڈونچر، سسپنس تھرلرز وغیرہ اکثر منظر عام پہ آتے رہتے ہیں۔ پاپولر فکشن میں اس قدر مقبول ہونے کی وجہ سے سائنس دانوں اور ماہرین حیاتیات نے اس مخلوق کے سراغ کی بہت کوشش کی ہے لیکن تمام تر کوششوں کے باوجود ابھی تک برفانی انسان کی موجودگی کا کوئی حتمی ثبوت نہیں مل سکا۔ بہت سارے تحقیق کاروں کا خیال ہے کہ برفانی ریچھوں یا بھالوؤں کو ہی برفانی انسان سمجھنے کی غلطی کر لی جاتی ہے۔ یعنی برفانی انسان انسانی ذہن کی ایسی اختراع ہے جس کی ابھی تک تصدیق نہیں ہو سکی، اس کے باوجود بھی یتی کا کردار کہانیوں میں زندہ سلامت موجود ہے۔ جب برفانی انسان کے بارے میں دنیا بھر میں اتنی بحث جاری ہے تو ایسے میں پاکستانی مصنفین بھی کسی سے پیچھے نہیں ہیں۔ کاشف زبیر ، جو ایک مشہور کہانی نویس ہیں، نے اسی موضوع پہ قلم اٹھایا ہے۔ انہوں نے اپنے ناول کا عنوان اسی مخلوق کے نام پہ رکھا ہے یعنی ’یتی‘۔ Continue reading 109-یتی از کاشف زبیر

108- جو چلے تو جان سے گزر گئے از ماہا ملک

جو چلے تو جان سے گزر گئے از ماہا ملک

Jo chaley tou jaan sey guzer gayeمصنفہ : ماہا ملک

صنف: ناول، پاکستانی ادب

صفحات: ۱۶۳

ماہا ملک صاحبہ خواتین کے لئے چھپنے والے ڈائجسٹس کی ممتاز مصنفہ ہیں۔ آپ کے قلم سے کئی ناول نکل چکے ہیں اور ملک گیر شہرت حاصل کر چکے ہیں۔ آپ کے کئی ناولوں پہ ڈرامے بھی بنائے جا چکے ہیں۔’ جو چلے تو جان سے گزر گئے ‘ کی بھی ڈراماٹائزیشن ہو چکی ہے۔ یہ ماہا کے قلم سے نکلا ہوا کافی پرانا ناول ہے جس نےاس وقت مقبولیت کے بےپناہ ریکارڈ قائم کئے ۔ Continue reading 108- جو چلے تو جان سے گزر گئے از ماہا ملک