Book Review, Fiction, Horror, Pakistani, Supernatural

156-مسکن از انوار علیگی

نام کتاب: مسکن

مصنف: انوار علیگی

صنف: ناول، خوفناک، ماورائی، پاپولر فکشن

صفحات: 288

قیمت:  350 روپے

ناشر: مکتبہ قریش

Maskan by Anwar Alaigi

پاپولر فکشن کا ایک اہم حصہ ماورائی اور غیر فطری مخلوقات کے متعلق لکھا گیا ہے۔ لوگوں کی ایک بڑی تعداد اس قسم کی کہانیوں اور قصوں میں دلچسپی رکھتی ہے۔ ایسی کہانیاں باقاعدہ لکھی جاتی ہیں، چھپتی ہیں اور قاری انہیں پڑھتے ہیں۔ آج بھی ہم ایک ایسی ہی کہانی لے کے آئے ہیں جسے اسی کیٹیگری میں رکھا جا سکتا ہے۔ یہ کہانی انوار علیگی کی لکھی ہوئی ہے اور اس کا عنوان ہے مسکن۔ مسکن ابتدائی طور پہ ہفتہ وار رسالے اخبارِ جہاں میں قسط وار شائع ہوا تھا اور بعد ازاں اس کو کتابی شکل میں شائع کیا گیا۔ Continue reading “156-مسکن از انوار علیگی”

Adventure, Book Review, Fiction, Inspirational, Pakistani literature, Romance, Suspence, Thriller

155- حالم ازنمرا احمد

حالم ازنمرا احمد

نام کتاب: حالم
مصنفہ: نمرا احمد
صنف: ناول، فکشن، رومان، ایڈونچر
سن اشاعت: 2019
قیمت حصہ اول:  1350 روپے
قیمت حصہ دوم:  1500 روپے
ناشر: علم و عرفان پبلشرز

Haalim by Nimra Ahmed

حالم، نمرا احمد کا لکھا تازہ ترین ناول ہے۔ کئی ماہ تک ڈائجسٹ میں قسط وار شائع ہونے کے بعد گزشتہ سال اس کو کتابی شکل میں بھی پیش کر دیا گیا ہے۔ حالم ایک طویل ناول ہے اس کے دو حصے ہیں، حالم حصہ اول اور حالم حصہ دوم۔ لفظ حالم کا مطلب ہے خواب دیکھنے والی۔ نمرا احمد کے ناولوں میں ایک کردار ہمیشہ چلبلی، نٹ کھٹ اور بہت کچھ کرنے کا عزم رکھنے والی لڑکی کا ہوتا ہے پھر چاہے وہ نمل کی حنین ہو یا قراقرم کا تاج محل کی پریشے، حالم کی تالیہ بھی مختلف نہیں ہے۔ ناول کا مرکزی کردار تالیہ مراد نامی ایک کان وومین* کا ہے یعنی پیشہ ور دھوکے باز۔ تالیہ اپنی ایک ساتھی کے ساتھ مل کے کان** کرتی ہے۔ اس پیشے میں ان کا موٹو یہ ہے کہ دوسرے کو دھوکہ اس طرح دو کہ اسے لگے کہ وہ اس کا اپنا خیال ہے نہ کہ کسی کا دھوکہ۔ تالیہ اپنے کان میں بہت کامیاب ہے اور اس نے اس دھوکہ دہی سے بہت زیادہ دولت بٹوری ہے۔ ناول کے ابتدائی حصے کو پڑھتے ساتھ ہی اس کی انسپیریشن سڈنی شیلڈن کے لکھے ناول اف ٹومارو کمز*** سے ملتی ہوئی محسوس ہوتی ہے جس کا مرکزی کردار بھی ایک کان وومین تھی جس نے اپنے کان سے بہت زیادہ کامیابی اور دولت حاصل کی تھی۔ سڈنی شیلڈن سے انسپیریشن ہمیں نمرا جی کے دوسرے ناولوں میں بھی ملتی ہے جیسا کہ ان کا لکھا ناول میرے خواب میرے جگنو۔ اس کی کہانی کا پلاٹ بھی سڈنی شیلڈن کے ایک ناول سے اٹھایا گیا ہے۔ Continue reading “155- حالم ازنمرا احمد”

Islam, Non-Fiction, Pakistani, Research

154-تعارف حضرت جبرائیل علیہ السلام از مولانا محمد صدیق ملتانی

 نام کتاب: تعارف حضرت جبرائیل علیہ السلام

مصنف: مولانا محمد صدیق ملتانی

صنف: اسلامی، معلوماتی، نان فکشن

صفحات: 352

اشاعت اول: 2011

ناشر: البغداد پرنٹرز فیصل آبادTaaruf Hazrat Jibraeel by Allama Siddique Multani

 بحیثیت مسلمان ملائکہ پہ یقین رکھنا ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔ ہر مسلمان اقرار کرتا ہے کہ وہ ایمان لایا ہے اللہ پہ، اس کے فرشتوں پہ اور اس کی کتابوں پہ اور اس کے رسولوں پہ اور قیامت کے دن اور مرنے کے بعد پھر زندہ ہونے پہ اور تقدیر پہ کہ اس کی بھلائی اور برائی سب اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہے۔ اسلام میں فرشتے آسمانوں پہ رہنے والی برگزیدہ اور بابرکت ایسی مخلوق ہے جو خطا سے پاک اور معصوم ہے۔ ان کی پیدائش انسانوں سے پہلے ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی تخلیق نور سے کی ہے۔ وہ اللہ کی حمد و ثنا بیان کرتے ہیں اور اسکی طرف سے عائد مختلف ذمہ داریوں پہ معمور ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا پیغام انسانوں تک پہنچانا انہی کے ذمے ہے۔ فرشتوں کی تعداد انسانوں سے بہت زیادہ ہے۔ اکثر روایات کے مطابق ان کی اصل تعداد کا علم صرف اللہ پاک کی ذات کو ہے۔ ان فرشتوں میں مشہور فرشتے چار ہیں جن کے اسمائے گرامی ہیں، جبرائیل، میکائیل، اسرافیل اور عزرائیل۔ حضرت جبرائل علیہ السلام تمام فرشتوں سے مقدم اور اہم ہیں۔ آج ہم انہی کے بارے میں لکھی گئی کتاب کا ذکر پیش کر رہے ہیں جس کا عنوان ہے تعارف حضرت جبرائیل علیہ السلام اور یہ مولانا محمد صدیق ملتانی صاحب نے تحریر کی ہے۔ مولانا صاحب نے اس کے علاوہ بھی کئی کتب لکھی ہیں جن میں چند کے عنوانات ہیں؛ خدا کی ہستی کے دلائل، کتاب التنویر، ستر ہزار فرشتے، حیات یوسف علیہ السلام اور دیگر۔ Continue reading “154-تعارف حضرت جبرائیل علیہ السلام از مولانا محمد صدیق ملتانی”

Book Review, Brazilian Literature, English, Fiction, Inspirational, international literature, Romance, Translation

153- The Zahir by Paulo Coelho

دی ظاہر از پاؤلو کوئیلہو

الظاہر مترجم نور الدین نور

نام کتاب: دی ظاہر

مصنف: پاؤلو کوئیلہو

نام ترجمہ: الظاہر

مترجم: نور الدین نور

صنف: ناول، فکشن، برازیلین ادب

سن اشاعت: 2005

اشاعت ترجمہ:2012

صفحات: 223

ناشر ترجمہ: سٹی بک پوائنٹ

The Zahir by Paulo Coelho

پاؤلو کوئیلہو موجودہ دور کے مشہور مصنف ہیں جنہیں اپنی لکھی کتاب الکیمسٹ سے دنیا بھر  میں شہرت حاصل ہوئی۔ آپ کا تعلق برازیل سے ہے۔ آپ کے قلم سے کئی ناول نکل چکے ہیں اور ان ناولوں کا  کئی زبانوں میں ترجمہ کیا جا چکا ہے جس کی وجہ سے قارئین کی ایک بڑی تعداد تک آپ کا کام پہنچ سکا ہے۔ کتابستان میں ہم آپ کی کچھ کتب کا پہلے ذکر کر چکے ہیں اور ان شاء اللہ آگے بھی پیش کریں گے۔ آج ہم جس کتاب پہ بات کر رہے ہیں اس کا نام ہے ” دی ظاہر“ اور اس کا اردو ترجمہ الظاہر کے عنوان کے تحت کیا گیا ہے۔ یہ ایک ناول ہے کوئیلہو کے دیگر ناولوں کی طرح یہ ناول بھی بیسٹ سیلر رہا ہے۔ عنوان کے متعلق تعارف میں مترجم نور صاحب لکھتے ہیں؛

”ناول کے انگریزی نام کو برقرار رکھا گیا ہے۔ عربی زبان میں لفظ ”الظاہر“ کے معنی نمایاں، موجود اور مستقل توجہ حاصل کرنے والی شے یا شخص ہوتا ہے جو ایک بار نظر یا رابطے میں آ جائے تو وہ دھیرے دھیرے انسانی خیالات و حواس پہ اس طرح چھا جاتا ہے کہ کچھ اور یاد نہیں رہتا۔ اسی حالت کو جذب کی انتہا یا جنون کہا جا سکتا ہے“۔ Continue reading “153- The Zahir by Paulo Coelho”

Book Review, Fiction, Inspirational, Pakistani, Pakistani literature, Romance, Urdu

152-الف از عمیرا احمد

گزشتہ صدی میں دنیا نے دو عالمی جنگیں دیکھیں جب انسانوں نے انسانوں کو اپنا دشمن سمجھ کے اسلحہ بارود کا بےدریغ استعمال کیا۔ جنگوں کے خاتمے کے بعد ہتھیاروں کی ایک ناختم ہونے والی دوڑ شروع ہو گئی۔ حکومتیں نئے سے نیا اور خطرناک سے خطرناک ہتھیار بنانے میں جٹ گئیں۔ صورتحال یہاں تک پہنچ گئی کہ ماہرین خبردار کرنے لگے کہ یہ ہتھیار دنیا کی مکمل تباہی کا باعث بن سکتے ہیں، انسانیت خود کو تباہ کر سکتی ہے۔ اس کے باوجود جنگی جنون ختم نہ ہوسکا۔ موجودہ صدی میں حالیہ چند مہینوں سے انسانیت کو ایک نئے دشمن کا سامنا ہے۔ یہ دشمن کسی ہتھیار سے ہلاک نہیں ہو سکتا۔ وہ تمام ہتھیار جو حکومتوں نے انسانوں کو مارنے کے لئے بنائے تھے اس نئے دشمن کے سامنے بےکار ہیں۔ اس وقت انسانیت ایک ایسی صورتحال سے گزر رہی ہے جس نے اس کے سامنے ایک مشترکہ دشمن لا کھڑا کیا ہے۔ اس مشترکہ دشمن نے انسانیت کو متحد کر دیا ہے اور اس کا نام کرونا وائرس ہے۔ اس نا نظر آنے والے وائرس کے خلاف جنگ میں دنیا کا ہر انسان شامل ہے۔ ہم سب اس ایک کشتی میں سوار ہیں جو کرونا وائرس کے خلاف برسرِ پیکار ہے۔ اس کے علاوہ اور کوئی کشتی نہیں۔ انسانیت متحد ہے۔ ہم سب متحد ہیں۔ اس وائرس کے خلاف جنگ نے بتایا ہے کہ ہمیں ہتھیاروں کی ضرورت نہیں بلکہ انسانیت کی بقا انسانوں کے اتحاد میں ہے۔ اس بات کی ضرورت ہے کہ ہتھیاروں کی دوڑ اور جنگی جنون سے نکل کے انسانیت کی فلاح و بہبود کی دوڑ میں شریک ہوا جائے۔ ایک ایسی دنیا کی تشکیل دی جائے جہاں انسانیت اول ترجیح ہو اور انسان کو انسان کا دشمن نہ سمجھا جائے۔ اس کائنات میں اور بھی کئی مخلوقات ہیں جو ہمیں نقصان پہنچا سکتی ہیں جن میں سے یہ ایک نا نظر آنے والا کرونا وائرس بھی ہے۔

الف از عمیرا احمد

نام کتاب: الف
مصنفہ: عمیرا احمد
صنف: ناول
صفحات: 470
سن اشاعت: 2019
قیمت: 1200 روپے

Alif by Umera Ahmedعمیرا احمد موجودہ دور کی صف اول کی مصنفہ ہیں جن کی ایک بڑی فین فالوئنگ ہے۔آپ کے نام اور کام سے قارئین کی اکثریت واقف ہے۔ اگر کسی کو آپ کے لکھے ناول پڑھنے کا اتفاق نہ ہوا ہو تو بھی امکان ہے کہ اس نے آپ کے لکھے کسی ڈرامے کو ضرور دیکھا ہو گا۔ عمیرا احمد نےقلمی سفر کی ابتدا ڈائجسٹ میں قسط وار ناول لکھنے سے کی تھی جس کو لکھے بیس سال سے بھی زیادہ کا عرصہ بیت چکا ہے۔ اس دوران عمیرا کا قلم رکا نہیں ہے انہوں نے کئی ضخیم ناول لکھے ہیں اور ہر ناول ہاتھوں ہاتھ لیا گیا ہے۔  آپ کے مشہور ناولوں میں پیرِ کامل،من و سلویٰ،امر بیل، لا حاصل وغیرہ شامل ہیں۔ تاہم عمیرا احمد کئی مرتبہ تنقید کی زد میں بھی آئی ہیں۔ ان کے ناول پیرِ کامل نے جہاں ایک طرف کامیابی کے جھنڈے گاڑے وہیں کچھ قارئین کو براہ راست اس میں ایک مذہبی فرقے کو ملوث کرنا مناسب نہیں لگا۔ انہیں عمیرا کے خیالات میں شدت پسندی نظر آئی۔ شدت پسندی کی شکایت ان کے دیگر ناولوں کے متعلق بھی کی گئی ہے۔ عمیرا کی بُنی ہوئی کہانیوں کی خاص بات یہ ہے کہ وہ ایکسٹریمز کی باتیں کرتی ہیں۔ ان کے کردار اپنی زندگیوں میں ایک طرف انتہا کی پستیوں کو چھوتے ہیں اور دوسری طرف بلندی کی آخری حدوں کو۔ اس نیچائی سے اونچائی کے سفر کے دوران وہ انتہائی سخت تکلیفوں سے گزرتے ہیں جیسےامر بیل کا عمر جو ایک طرف انتہائی کرپٹ پولیس آفیسر تھا اور دوسری طرف علیزے کے لئے انتہائی مشفق اور مہربان۔ علیزے سے بےحد محبت کرنے کے باوجود وہ کبھی اس سے اپنی محبت کا اظہار نہیں کر سکا کیونکہ وہ اپنے کردار کی برائی اور کمزوریوں سے واقف تھا۔ عمیرا احمد کرداروں کی نفسیات اور الجھنیں بہت عمدگی سے پیش کرتی ہیں۔ وہ درمیانی رستہ اختیار نہیں کرتیں جہاں کردار انتہاؤں کے درمیان ڈولنے کی بجائے ایک کم الجھے اور نسبتاً کم تکلیف دہ رستوں سے گزریں۔ ان کے ہاں گرے شیڈ کیریکٹرز نہیں ہیں جو کسی کے لئے بیک وقت اچھے بھی ہوں اور برے بھی ہوں۔ ان کے کردار یا تو صفر ہیں یا پھر ایک۔ ایسا ان کے ہر ناول میں ہے۔ مطالعے کے دوران قارئین ان کرداروں کے ساتھ اونچائی اور پستی کا سفر طے کرتے ہیں، ان کے دکھ، درد اور کرب کو اتنی شدت سے محسوس کرتے ہیں کہ آب دیدہ ہو جاتے ہیں۔ آپ کے  کئی کرداروں نے مقبولیت کے ریکارڈ قائم کئے ہیں جیسے امامہ، سالار، خدیجہ نور وغیرہ جو لوگوں کو انسپائر کرتے ہیں۔ آپ کی تحریروں میں مذہبی رجحان واضح ہے۔ کئی لوگ آپ کو استاد کا درجہ دیتے ہیں جو اپنی تحریروں سے لوگوں کی رہنمائی کر رہی ہیں۔ عمیرا احمد ہمارے پسندیدہ مصنفین میں شامل ہیں۔ کتابستان میں ہم ان کے کئی ناولوں پہ مضامین پیش کر چکے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔ Continue reading “152-الف از عمیرا احمد”

Book Review, English, English literature, Fiction, international literature, Pakistani, Romance, Socio-reformal, Uncategorized

151- Home Fire by Kamila Shamsie

دنیا اس وقت ری سیٹ پوائنٹ پہ ہے۔ چند ہفتے پہلے دنیا بھر کی سرگرمیاں اور ترقی کی رفتار اپنی فل سپیڈ کے ساتھ جاری تھیں اور ہر دن ان میں اضافہ ہو رہا تھا۔ پھر اچانک اس تیز رفتار اور ترقی کے گھوڑے کی لگامیں کھچ گئیں۔ ایک وائرس نے ہر طرف خوف کا راج پھیلا دیا۔ ترقی کی رفتار رک گئی اور انسانوں کو اس وبا سے بچانا پہلی ترجیح ٹھہر گیا۔ ایسے خوف اور پریشانی کے لمحے انسانوں کو قریب لانے کا سبب بنتے ہیں۔ انہیں اپنی دشمنی، نفرت، مقابلے جیسے جذبات کو چھوڑ کر ایک بلند مقصد کی سمت یکجا کرتے ہیں۔ دنیا اس وقت ایسے ہی ایک لمحے سے گزر رہی ہے جب وہ اپنے تمام اختلافات بھلا کے ایک مشترکہ دشمن کے ساتھ برسرپیکار ہے۔ معاشی ترقی، منافع جات، ہتھیاروں کی دوڑ سب اس وقت بےمعنی ہو کے رہ گئے ہیں۔ اگر کچھ معنی رکھتا ہے تو وہ انسانیت کو اس وبا سے بچانا ہے۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ پاک ہمیں اس وبا پہ فتح دے اور انسانیت کا کم سے کم نقصان ہو۔ لوگ کہہ رہے ہیں کہ کرونا وائرس کے بعد کی دنیا موجودہ دنیا سے بہت مختلف ہو گی۔ ہمارا بھی یہی خیال ہے کہ پوسٹ کرونا وائرس کی دنیا بہت محبت کرنے والی ہوگی اور انسانیت کے اجتماعی مفاد کی سمت میں کام کرے گی۔ آمین

Home Fire by Kamila Shamsie

نام کتاب: ہوم فائر
مصنفہ: کمیلا شمسی
زبان: انگریزی
صنف: ناول، فکشن
سن اشاعت: 2017
صفحات: 264

Home fire by Kamila Shamsieکمیلا شمسی برطانوی پاکستانی مصنفہ ہیں۔ آپ ایک پڑھے لکھے گھرانے سے تعلق رکھتی ہیں۔ آپ کی والدہ صحافت کے شعبے سے تعلق رکھتی تھیں۔ آپ کی خالہ اور نانی بھی لکھنے کے شعبے سے وابستہ تھیں۔ کمیلا اب تک سات ناول لکھ چکی ہیں جن کے لئے انہیں کئی ملکی اور غیر ملکی ایوارڈز مل چکے ہیں۔ انہیں کئی مشہور ایوارڈز کے لئے شارٹ لسٹ بھی کیا گیا۔ ہوم فائر آپ کا ساتواں ناول ہے۔ اس ناول کے لئے آپ کو وومینز پرائز فار فکشن کا ایوارڈ دیا گیا۔ اس ناول کو مین بکر پرائز کے لئے بھی نامینیٹ کیا گیا۔ دنیا بھر کے ناقدین اور شائقین نے اس ناول کے لئے مثبت ریویوز دئے ہیں۔ ہمیں خوشی ہے کہ کتابستان میں ہمارا آج کا موضوع کمیلا شمسی کا لکھا ہوا یہی ناول ہے، ہوم فائر۔ Continue reading “151- Home Fire by Kamila Shamsie”

Book Review, Non-Fiction, Pakistani, Urdu

150-شہاب نامہ از قدرت اللہ شہاب

کورونا وائرس ایک عالمی وبا کے طور پہ دنیا بھر میں پھیلا ہوا ہے۔ آئیے مل کے دعا کریں کہ اللہ پاک تمام انسانوں بلا تخصیص مذہب، بلا تخصیص قومیت ، بلا تخصیص رنگ و نسل اس وبائی مرض سے محفوظ رکھے۔ جو لوگ اس مرض کا شکار ہو گئے ہیں ان کو اس مرض سے مکمل شفا عطا فرمائے۔ آمین۔ اس مشکل وقت میں تمام انسانیت کو ایک ساتھ کھڑے ہونے کی ضرورت ہے۔ ہم ان ڈاکٹروں، نرسوں اور میڈیکل اسٹاف کے شکر گزار ہیں جو اس مشکل وقت میں اپنی پروا کئے بغیر مریضوں کی دیکھ بھال میں مصروف ہیں۔ اللہ پاک انہیں ہمت اور حوصلہ عطا فرمائے اور ان کی کاوشوں کو کامیابی سے دوچار کرے۔

آمین۔

شہاب نامہ از قدرت اللہ شہاب

نام کتاب: شہاب نامہ

مصنف: قدرت اللہ شہاب

صنف: سونح حیات، آپ بیتی

صفحات:893

ناشر: سروسز بک کلب سنگ میل پبلی کیشنز

ISBN: 969-35-0025-3

Shahab Nama by Qudrat Ullah Shahabکتابستان میں آج  بہت خوشی کا دن ہے آج اس بلاگ پہ ہم 150 ویں کتاب پہ مضمون پیش کر رہے ہیں۔ کتابستان کا یہ ایک طویل سفر  ہے جو سالوں پہ محیط ہےاور اب بھی جاری و ساری ہے۔ اس سفر کے دوران ہم نے مختلف النوع موضوعات کی کتابوں پہ مضامین پیش کئے ہیں۔ جن میں اسلامی کتب، تحقیقی کتب، معلوماتی کتب، فکشن، نان فکشن سمیت پاکستانی اور بین الاقوامی ادب سے انتخاب شامل رہا ہے۔ ہماری کاوش رہی ہے کہ یہ  مضامین عام فہم ہوں اور قاری کی کتاب میں دلچسپی پیدا کریں۔ اس دوران ہمیں اس بات کا ادراک ہوا ہے کہ عمومی تاثر کے برعکس پاکستان میں کتابوں پہ کام ہو رہا ہے۔ نئی کتابیں لکھی جا رہی ہیں، ناشر کتب شائع کر رہے ہیں، غیر ملکی ذبان میں لکھے گئے ادب کے تراجم ہو رہے ہیں، کتابوں کے موضوعات میں تنوع ہے اور لوگ کتابیں پڑھ رہے ہیں۔ موجودہ دور میں کتابوں کی قیمت سینکڑوں روپے سے لے کر ہزاروں میں ہو سکتی ہے۔ ایسا کتاب کے معیار اور ضخامت کے مطابق ہو سکتا ہے۔ گرچہ کتابوں کے کاروبار میں  اتنا منافع نہیں جتنا کہ کپڑوں، جوتوں یا جیولری کے کاروبار میں ہو سکتا ہےلیکن یہ سمجھنا بھی درست نہیں کہ اس سمت میں کام بالکل ہی نہیں ہو رہا۔ صورتحال اتنی مایوس کن نہیں جتنی سمجھ لی جاتی ہے۔ اس بات کا ایک ثبوت کتابستان بھی ہے جہاں نہ صرف مشہور ترین کتب کو پیش کیا گیا ہے بلکہ نئی شائع ہونے والی کتب کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ اس ضمن میں کتابستان کے قارئین کا کردار بھی اہم ہے۔ ہمارے قارئین کی موجودگی ہماری ہمت بڑھانے کا سبب بنتی ہے۔ وہ تمام افراد جو اس بلاگ پہ باقاعدگی سے آتے ہیں یا کسی تلاش کے نتیجے میں یہاں تک پہنچتے ہیں ہمارے لئے اہم ہیں۔ ہم سب کی خوشیوں کے لئے دعاگو ہیں اور امید کرتے ہیں کہ کتابستان کا یہ سفر جاری و ساری رہے گا اور آپ ہمارے ہم سفر رہیں گے۔ Continue reading “150-شہاب نامہ از قدرت اللہ شہاب”