Book Review, Islam, Non-Fiction, Religion, Research, Translation

157-فرشتوں کی تاریخ از یاسر جواد

نام کتاب: فرشتوں کی تاریخ
تحقیق و ترجمہ: یاسر جواد
صنف: نان فکشن، تحقیقی، مذہبی
سن اشاعت: 2013
ناشر: نگارشات پبلشرز
صفحات:175

Farishton ki tareekh by Yasir Jawad

کتابستان کی طرف سے نئے سال کی مبارکباد پیشِ خدمت ہے۔ ہر آنے والا سال اپنے ساتھ ڈھیروں امیدیں لے کے آتا ہے۔ ہماری دعا ہے کہ یہ سال خوشیوں، آسانیوں اور محبتوں کا سال ہو۔ ہماری امیدیں پوری ہوں اور دنیا میں امن و سلامتی کا راج ہو۔ ہماری یہ بھی دعا ہے کہ یہ سال اور آئندہ آنے والے کئی سال دنیا کے لئے صحت یابی اور فراوانی کے سال ہوں اور مجموعی طور پہ انسانیت پھلے اور پھولے۔ آمین۔ اس نئے سال کو ہم کتابستان میں بھی خوش آمدید کہتے ہیں۔ اس موقع پہ کتابستان ایک اور کتاب کے تعارف کے ساتھ حاضر ہے جس کا عنوان ہے : فرشتوں کی تاریخ۔ اس کتاب کی تحقیق اور ترجمہ جناب یاسر جواد صاحب کا ہے جن کا نام تراجم کی دنیا میں جانا پہچانا ہے۔ یہ کتاب نگارشات پبلشرز کی مابعد الطبیعاتی سیریز کا حصہ ہے۔ اس سیریز کے تحت اب تک کئی کتابیں پیش کی جا چکی ہیں جن کے عنوانات میں خدا کی تاریخ، فرشتوں کی تاریخ، جادو کی تاریخ، روح کی تاریخ، شیطان کی تاریخ وغیرہ شامل ہیں۔ ان میں سے ایک کتاب شیطان کی تاریخ کا ہم کتابستان میں پہلے ذکر کر چکے ہیں ۔ کتابستان کے سالوں کے تجربے کے بعد ہمیں یہ علم ہوا ہے کہ قارئین کی ایک بڑی تعداد ماورائی، مابعد الطبیعاتی، مافوق الفطرت اور جادوئی موضوعات میں دلچسپی رکھتی ہے۔ ہماری سائٹ پہ تلاش کے دوران آنے والے افراد کی ایک کثیر تعداد ان موضوعات کی کتب ڈھونڈتے ہوئے یہاں تک پہنچتی ہے۔ اس لئے ان موضوعات پہ پیش کردہ کتب چاہے وہ فکشن ہوں یا نان فکشن، قارئین کا ایک حلقہ رکھتی ہیں اور پڑھی جاتی ہیں۔ Continue reading “157-فرشتوں کی تاریخ از یاسر جواد”

Promoted Post

Sponsored Post Learn from the experts: Create a successful blog with our brand new courseThe WordPress.com Blog

WordPress.com is excited to announce our newest offering: a course just for beginning bloggers where you’ll learn everything you need to know about blogging from the most trusted experts in the industry. We have helped millions of blogs get up and running, we know what works, and we want you to to know everything we know. This course provides all the fundamental skills and inspiration you need to get your blog started, an interactive community forum, and content updated annually.

Book Review, Fiction, Horror, Pakistani, Supernatural

156-مسکن از انوار علیگی

نام کتاب: مسکن

مصنف: انوار علیگی

صنف: ناول، خوفناک، ماورائی، پاپولر فکشن

صفحات: 288

قیمت:  350 روپے

ناشر: مکتبہ قریش

Maskan by Anwar Alaigi

پاپولر فکشن کا ایک اہم حصہ ماورائی اور غیر فطری مخلوقات کے متعلق لکھا گیا ہے۔ لوگوں کی ایک بڑی تعداد اس قسم کی کہانیوں اور قصوں میں دلچسپی رکھتی ہے۔ ایسی کہانیاں باقاعدہ لکھی جاتی ہیں، چھپتی ہیں اور قاری انہیں پڑھتے ہیں۔ آج بھی ہم ایک ایسی ہی کہانی لے کے آئے ہیں جسے اسی کیٹیگری میں رکھا جا سکتا ہے۔ یہ کہانی انوار علیگی کی لکھی ہوئی ہے اور اس کا عنوان ہے مسکن۔ مسکن ابتدائی طور پہ ہفتہ وار رسالے اخبارِ جہاں میں قسط وار شائع ہوا تھا اور بعد ازاں اس کو کتابی شکل میں شائع کیا گیا۔ Continue reading “156-مسکن از انوار علیگی”

Adventure, Book Review, Fiction, Inspirational, Pakistani literature, Romance, Suspence, Thriller

155- حالم ازنمرا احمد

حالم ازنمرا احمد

نام کتاب: حالم
مصنفہ: نمرا احمد
صنف: ناول، فکشن، رومان، ایڈونچر
سن اشاعت: 2019
قیمت حصہ اول:  1350 روپے
قیمت حصہ دوم:  1500 روپے
ناشر: علم و عرفان پبلشرز

Haalim by Nimra Ahmed

حالم، نمرا احمد کا لکھا تازہ ترین ناول ہے۔ کئی ماہ تک ڈائجسٹ میں قسط وار شائع ہونے کے بعد گزشتہ سال اس کو کتابی شکل میں بھی پیش کر دیا گیا ہے۔ حالم ایک طویل ناول ہے اس کے دو حصے ہیں، حالم حصہ اول اور حالم حصہ دوم۔ لفظ حالم کا مطلب ہے خواب دیکھنے والی۔ نمرا احمد کے ناولوں میں ایک کردار ہمیشہ چلبلی، نٹ کھٹ اور بہت کچھ کرنے کا عزم رکھنے والی لڑکی کا ہوتا ہے پھر چاہے وہ نمل کی حنین ہو یا قراقرم کا تاج محل کی پریشے، حالم کی تالیہ بھی مختلف نہیں ہے۔ ناول کا مرکزی کردار تالیہ مراد نامی ایک کان وومین* کا ہے یعنی پیشہ ور دھوکے باز۔ تالیہ اپنی ایک ساتھی کے ساتھ مل کے کان** کرتی ہے۔ اس پیشے میں ان کا موٹو یہ ہے کہ دوسرے کو دھوکہ اس طرح دو کہ اسے لگے کہ وہ اس کا اپنا خیال ہے نہ کہ کسی کا دھوکہ۔ تالیہ اپنے کان میں بہت کامیاب ہے اور اس نے اس دھوکہ دہی سے بہت زیادہ دولت بٹوری ہے۔ ناول کے ابتدائی حصے کو پڑھتے ساتھ ہی اس کی انسپیریشن سڈنی شیلڈن کے لکھے ناول اف ٹومارو کمز*** سے ملتی ہوئی محسوس ہوتی ہے جس کا مرکزی کردار بھی ایک کان وومین تھی جس نے اپنے کان سے بہت زیادہ کامیابی اور دولت حاصل کی تھی۔ سڈنی شیلڈن سے انسپیریشن ہمیں نمرا جی کے دوسرے ناولوں میں بھی ملتی ہے جیسا کہ ان کا لکھا ناول میرے خواب میرے جگنو۔ اس کی کہانی کا پلاٹ بھی سڈنی شیلڈن کے ایک ناول سے اٹھایا گیا ہے۔ Continue reading “155- حالم ازنمرا احمد”

Islam, Non-Fiction, Pakistani, Research

154-تعارف حضرت جبرائیل علیہ السلام از مولانا محمد صدیق ملتانی

 نام کتاب: تعارف حضرت جبرائیل علیہ السلام

مصنف: مولانا محمد صدیق ملتانی

صنف: اسلامی، معلوماتی، نان فکشن

صفحات: 352

اشاعت اول: 2011

ناشر: البغداد پرنٹرز فیصل آبادTaaruf Hazrat Jibraeel by Allama Siddique Multani

 بحیثیت مسلمان ملائکہ پہ یقین رکھنا ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔ ہر مسلمان اقرار کرتا ہے کہ وہ ایمان لایا ہے اللہ پہ، اس کے فرشتوں پہ اور اس کی کتابوں پہ اور اس کے رسولوں پہ اور قیامت کے دن اور مرنے کے بعد پھر زندہ ہونے پہ اور تقدیر پہ کہ اس کی بھلائی اور برائی سب اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہے۔ اسلام میں فرشتے آسمانوں پہ رہنے والی برگزیدہ اور بابرکت ایسی مخلوق ہے جو خطا سے پاک اور معصوم ہے۔ ان کی پیدائش انسانوں سے پہلے ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی تخلیق نور سے کی ہے۔ وہ اللہ کی حمد و ثنا بیان کرتے ہیں اور اسکی طرف سے عائد مختلف ذمہ داریوں پہ معمور ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا پیغام انسانوں تک پہنچانا انہی کے ذمے ہے۔ فرشتوں کی تعداد انسانوں سے بہت زیادہ ہے۔ اکثر روایات کے مطابق ان کی اصل تعداد کا علم صرف اللہ پاک کی ذات کو ہے۔ ان فرشتوں میں مشہور فرشتے چار ہیں جن کے اسمائے گرامی ہیں، جبرائیل، میکائیل، اسرافیل اور عزرائیل۔ حضرت جبرائل علیہ السلام تمام فرشتوں سے مقدم اور اہم ہیں۔ آج ہم انہی کے بارے میں لکھی گئی کتاب کا ذکر پیش کر رہے ہیں جس کا عنوان ہے تعارف حضرت جبرائیل علیہ السلام اور یہ مولانا محمد صدیق ملتانی صاحب نے تحریر کی ہے۔ مولانا صاحب نے اس کے علاوہ بھی کئی کتب لکھی ہیں جن میں چند کے عنوانات ہیں؛ خدا کی ہستی کے دلائل، کتاب التنویر، ستر ہزار فرشتے، حیات یوسف علیہ السلام اور دیگر۔ Continue reading “154-تعارف حضرت جبرائیل علیہ السلام از مولانا محمد صدیق ملتانی”

Book Review, Brazilian Literature, English, Fiction, Inspirational, international literature, Romance, Translation

153- The Zahir by Paulo Coelho

دی ظاہر از پاؤلو کوئیلہو

الظاہر مترجم نور الدین نور

نام کتاب: دی ظاہر

مصنف: پاؤلو کوئیلہو

نام ترجمہ: الظاہر

مترجم: نور الدین نور

صنف: ناول، فکشن، برازیلین ادب

سن اشاعت: 2005

اشاعت ترجمہ:2012

صفحات: 223

ناشر ترجمہ: سٹی بک پوائنٹ

The Zahir by Paulo Coelho

پاؤلو کوئیلہو موجودہ دور کے مشہور مصنف ہیں جنہیں اپنی لکھی کتاب الکیمسٹ سے دنیا بھر  میں شہرت حاصل ہوئی۔ آپ کا تعلق برازیل سے ہے۔ آپ کے قلم سے کئی ناول نکل چکے ہیں اور ان ناولوں کا  کئی زبانوں میں ترجمہ کیا جا چکا ہے جس کی وجہ سے قارئین کی ایک بڑی تعداد تک آپ کا کام پہنچ سکا ہے۔ کتابستان میں ہم آپ کی کچھ کتب کا پہلے ذکر کر چکے ہیں اور ان شاء اللہ آگے بھی پیش کریں گے۔ آج ہم جس کتاب پہ بات کر رہے ہیں اس کا نام ہے ” دی ظاہر“ اور اس کا اردو ترجمہ الظاہر کے عنوان کے تحت کیا گیا ہے۔ یہ ایک ناول ہے کوئیلہو کے دیگر ناولوں کی طرح یہ ناول بھی بیسٹ سیلر رہا ہے۔ عنوان کے متعلق تعارف میں مترجم نور صاحب لکھتے ہیں؛

”ناول کے انگریزی نام کو برقرار رکھا گیا ہے۔ عربی زبان میں لفظ ”الظاہر“ کے معنی نمایاں، موجود اور مستقل توجہ حاصل کرنے والی شے یا شخص ہوتا ہے جو ایک بار نظر یا رابطے میں آ جائے تو وہ دھیرے دھیرے انسانی خیالات و حواس پہ اس طرح چھا جاتا ہے کہ کچھ اور یاد نہیں رہتا۔ اسی حالت کو جذب کی انتہا یا جنون کہا جا سکتا ہے“۔ Continue reading “153- The Zahir by Paulo Coelho”

Book Review, Fiction, Inspirational, Pakistani, Pakistani literature, Romance, Urdu

152-الف از عمیرا احمد

گزشتہ صدی میں دنیا نے دو عالمی جنگیں دیکھیں جب انسانوں نے انسانوں کو اپنا دشمن سمجھ کے اسلحہ بارود کا بےدریغ استعمال کیا۔ جنگوں کے خاتمے کے بعد ہتھیاروں کی ایک ناختم ہونے والی دوڑ شروع ہو گئی۔ حکومتیں نئے سے نیا اور خطرناک سے خطرناک ہتھیار بنانے میں جٹ گئیں۔ صورتحال یہاں تک پہنچ گئی کہ ماہرین خبردار کرنے لگے کہ یہ ہتھیار دنیا کی مکمل تباہی کا باعث بن سکتے ہیں، انسانیت خود کو تباہ کر سکتی ہے۔ اس کے باوجود جنگی جنون ختم نہ ہوسکا۔ موجودہ صدی میں حالیہ چند مہینوں سے انسانیت کو ایک نئے دشمن کا سامنا ہے۔ یہ دشمن کسی ہتھیار سے ہلاک نہیں ہو سکتا۔ وہ تمام ہتھیار جو حکومتوں نے انسانوں کو مارنے کے لئے بنائے تھے اس نئے دشمن کے سامنے بےکار ہیں۔ اس وقت انسانیت ایک ایسی صورتحال سے گزر رہی ہے جس نے اس کے سامنے ایک مشترکہ دشمن لا کھڑا کیا ہے۔ اس مشترکہ دشمن نے انسانیت کو متحد کر دیا ہے اور اس کا نام کرونا وائرس ہے۔ اس نا نظر آنے والے وائرس کے خلاف جنگ میں دنیا کا ہر انسان شامل ہے۔ ہم سب اس ایک کشتی میں سوار ہیں جو کرونا وائرس کے خلاف برسرِ پیکار ہے۔ اس کے علاوہ اور کوئی کشتی نہیں۔ انسانیت متحد ہے۔ ہم سب متحد ہیں۔ اس وائرس کے خلاف جنگ نے بتایا ہے کہ ہمیں ہتھیاروں کی ضرورت نہیں بلکہ انسانیت کی بقا انسانوں کے اتحاد میں ہے۔ اس بات کی ضرورت ہے کہ ہتھیاروں کی دوڑ اور جنگی جنون سے نکل کے انسانیت کی فلاح و بہبود کی دوڑ میں شریک ہوا جائے۔ ایک ایسی دنیا کی تشکیل دی جائے جہاں انسانیت اول ترجیح ہو اور انسان کو انسان کا دشمن نہ سمجھا جائے۔ اس کائنات میں اور بھی کئی مخلوقات ہیں جو ہمیں نقصان پہنچا سکتی ہیں جن میں سے یہ ایک نا نظر آنے والا کرونا وائرس بھی ہے۔

الف از عمیرا احمد

نام کتاب: الف
مصنفہ: عمیرا احمد
صنف: ناول
صفحات: 470
سن اشاعت: 2019
قیمت: 1200 روپے

Alif by Umera Ahmedعمیرا احمد موجودہ دور کی صف اول کی مصنفہ ہیں جن کی ایک بڑی فین فالوئنگ ہے۔آپ کے نام اور کام سے قارئین کی اکثریت واقف ہے۔ اگر کسی کو آپ کے لکھے ناول پڑھنے کا اتفاق نہ ہوا ہو تو بھی امکان ہے کہ اس نے آپ کے لکھے کسی ڈرامے کو ضرور دیکھا ہو گا۔ عمیرا احمد نےقلمی سفر کی ابتدا ڈائجسٹ میں قسط وار ناول لکھنے سے کی تھی جس کو لکھے بیس سال سے بھی زیادہ کا عرصہ بیت چکا ہے۔ اس دوران عمیرا کا قلم رکا نہیں ہے انہوں نے کئی ضخیم ناول لکھے ہیں اور ہر ناول ہاتھوں ہاتھ لیا گیا ہے۔  آپ کے مشہور ناولوں میں پیرِ کامل،من و سلویٰ،امر بیل، لا حاصل وغیرہ شامل ہیں۔ تاہم عمیرا احمد کئی مرتبہ تنقید کی زد میں بھی آئی ہیں۔ ان کے ناول پیرِ کامل نے جہاں ایک طرف کامیابی کے جھنڈے گاڑے وہیں کچھ قارئین کو براہ راست اس میں ایک مذہبی فرقے کو ملوث کرنا مناسب نہیں لگا۔ انہیں عمیرا کے خیالات میں شدت پسندی نظر آئی۔ شدت پسندی کی شکایت ان کے دیگر ناولوں کے متعلق بھی کی گئی ہے۔ عمیرا کی بُنی ہوئی کہانیوں کی خاص بات یہ ہے کہ وہ ایکسٹریمز کی باتیں کرتی ہیں۔ ان کے کردار اپنی زندگیوں میں ایک طرف انتہا کی پستیوں کو چھوتے ہیں اور دوسری طرف بلندی کی آخری حدوں کو۔ اس نیچائی سے اونچائی کے سفر کے دوران وہ انتہائی سخت تکلیفوں سے گزرتے ہیں جیسےامر بیل کا عمر جو ایک طرف انتہائی کرپٹ پولیس آفیسر تھا اور دوسری طرف علیزے کے لئے انتہائی مشفق اور مہربان۔ علیزے سے بےحد محبت کرنے کے باوجود وہ کبھی اس سے اپنی محبت کا اظہار نہیں کر سکا کیونکہ وہ اپنے کردار کی برائی اور کمزوریوں سے واقف تھا۔ عمیرا احمد کرداروں کی نفسیات اور الجھنیں بہت عمدگی سے پیش کرتی ہیں۔ وہ درمیانی رستہ اختیار نہیں کرتیں جہاں کردار انتہاؤں کے درمیان ڈولنے کی بجائے ایک کم الجھے اور نسبتاً کم تکلیف دہ رستوں سے گزریں۔ ان کے ہاں گرے شیڈ کیریکٹرز نہیں ہیں جو کسی کے لئے بیک وقت اچھے بھی ہوں اور برے بھی ہوں۔ ان کے کردار یا تو صفر ہیں یا پھر ایک۔ ایسا ان کے ہر ناول میں ہے۔ مطالعے کے دوران قارئین ان کرداروں کے ساتھ اونچائی اور پستی کا سفر طے کرتے ہیں، ان کے دکھ، درد اور کرب کو اتنی شدت سے محسوس کرتے ہیں کہ آب دیدہ ہو جاتے ہیں۔ آپ کے  کئی کرداروں نے مقبولیت کے ریکارڈ قائم کئے ہیں جیسے امامہ، سالار، خدیجہ نور وغیرہ جو لوگوں کو انسپائر کرتے ہیں۔ آپ کی تحریروں میں مذہبی رجحان واضح ہے۔ کئی لوگ آپ کو استاد کا درجہ دیتے ہیں جو اپنی تحریروں سے لوگوں کی رہنمائی کر رہی ہیں۔ عمیرا احمد ہمارے پسندیدہ مصنفین میں شامل ہیں۔ کتابستان میں ہم ان کے کئی ناولوں پہ مضامین پیش کر چکے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔ Continue reading “152-الف از عمیرا احمد”

Book Review, English, English literature, Fiction, international literature, Pakistani, Romance, Socio-reformal, Uncategorized

151- Home Fire by Kamila Shamsie

دنیا اس وقت ری سیٹ پوائنٹ پہ ہے۔ چند ہفتے پہلے دنیا بھر کی سرگرمیاں اور ترقی کی رفتار اپنی فل سپیڈ کے ساتھ جاری تھیں اور ہر دن ان میں اضافہ ہو رہا تھا۔ پھر اچانک اس تیز رفتار اور ترقی کے گھوڑے کی لگامیں کھچ گئیں۔ ایک وائرس نے ہر طرف خوف کا راج پھیلا دیا۔ ترقی کی رفتار رک گئی اور انسانوں کو اس وبا سے بچانا پہلی ترجیح ٹھہر گیا۔ ایسے خوف اور پریشانی کے لمحے انسانوں کو قریب لانے کا سبب بنتے ہیں۔ انہیں اپنی دشمنی، نفرت، مقابلے جیسے جذبات کو چھوڑ کر ایک بلند مقصد کی سمت یکجا کرتے ہیں۔ دنیا اس وقت ایسے ہی ایک لمحے سے گزر رہی ہے جب وہ اپنے تمام اختلافات بھلا کے ایک مشترکہ دشمن کے ساتھ برسرپیکار ہے۔ معاشی ترقی، منافع جات، ہتھیاروں کی دوڑ سب اس وقت بےمعنی ہو کے رہ گئے ہیں۔ اگر کچھ معنی رکھتا ہے تو وہ انسانیت کو اس وبا سے بچانا ہے۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ پاک ہمیں اس وبا پہ فتح دے اور انسانیت کا کم سے کم نقصان ہو۔ لوگ کہہ رہے ہیں کہ کرونا وائرس کے بعد کی دنیا موجودہ دنیا سے بہت مختلف ہو گی۔ ہمارا بھی یہی خیال ہے کہ پوسٹ کرونا وائرس کی دنیا بہت محبت کرنے والی ہوگی اور انسانیت کے اجتماعی مفاد کی سمت میں کام کرے گی۔ آمین

Home Fire by Kamila Shamsie

نام کتاب: ہوم فائر
مصنفہ: کمیلا شمسی
زبان: انگریزی
صنف: ناول، فکشن
سن اشاعت: 2017
صفحات: 264

Home fire by Kamila Shamsieکمیلا شمسی برطانوی پاکستانی مصنفہ ہیں۔ آپ ایک پڑھے لکھے گھرانے سے تعلق رکھتی ہیں۔ آپ کی والدہ صحافت کے شعبے سے تعلق رکھتی تھیں۔ آپ کی خالہ اور نانی بھی لکھنے کے شعبے سے وابستہ تھیں۔ کمیلا اب تک سات ناول لکھ چکی ہیں جن کے لئے انہیں کئی ملکی اور غیر ملکی ایوارڈز مل چکے ہیں۔ انہیں کئی مشہور ایوارڈز کے لئے شارٹ لسٹ بھی کیا گیا۔ ہوم فائر آپ کا ساتواں ناول ہے۔ اس ناول کے لئے آپ کو وومینز پرائز فار فکشن کا ایوارڈ دیا گیا۔ اس ناول کو مین بکر پرائز کے لئے بھی نامینیٹ کیا گیا۔ دنیا بھر کے ناقدین اور شائقین نے اس ناول کے لئے مثبت ریویوز دئے ہیں۔ ہمیں خوشی ہے کہ کتابستان میں ہمارا آج کا موضوع کمیلا شمسی کا لکھا ہوا یہی ناول ہے، ہوم فائر۔ Continue reading “151- Home Fire by Kamila Shamsie”

Book Review, Non-Fiction, Pakistani, Urdu

150-شہاب نامہ از قدرت اللہ شہاب

کورونا وائرس ایک عالمی وبا کے طور پہ دنیا بھر میں پھیلا ہوا ہے۔ آئیے مل کے دعا کریں کہ اللہ پاک تمام انسانوں بلا تخصیص مذہب، بلا تخصیص قومیت ، بلا تخصیص رنگ و نسل اس وبائی مرض سے محفوظ رکھے۔ جو لوگ اس مرض کا شکار ہو گئے ہیں ان کو اس مرض سے مکمل شفا عطا فرمائے۔ آمین۔ اس مشکل وقت میں تمام انسانیت کو ایک ساتھ کھڑے ہونے کی ضرورت ہے۔ ہم ان ڈاکٹروں، نرسوں اور میڈیکل اسٹاف کے شکر گزار ہیں جو اس مشکل وقت میں اپنی پروا کئے بغیر مریضوں کی دیکھ بھال میں مصروف ہیں۔ اللہ پاک انہیں ہمت اور حوصلہ عطا فرمائے اور ان کی کاوشوں کو کامیابی سے دوچار کرے۔

آمین۔

شہاب نامہ از قدرت اللہ شہاب

نام کتاب: شہاب نامہ

مصنف: قدرت اللہ شہاب

صنف: سونح حیات، آپ بیتی

صفحات:893

ناشر: سروسز بک کلب سنگ میل پبلی کیشنز

ISBN: 969-35-0025-3

Shahab Nama by Qudrat Ullah Shahabکتابستان میں آج  بہت خوشی کا دن ہے آج اس بلاگ پہ ہم 150 ویں کتاب پہ مضمون پیش کر رہے ہیں۔ کتابستان کا یہ ایک طویل سفر  ہے جو سالوں پہ محیط ہےاور اب بھی جاری و ساری ہے۔ اس سفر کے دوران ہم نے مختلف النوع موضوعات کی کتابوں پہ مضامین پیش کئے ہیں۔ جن میں اسلامی کتب، تحقیقی کتب، معلوماتی کتب، فکشن، نان فکشن سمیت پاکستانی اور بین الاقوامی ادب سے انتخاب شامل رہا ہے۔ ہماری کاوش رہی ہے کہ یہ  مضامین عام فہم ہوں اور قاری کی کتاب میں دلچسپی پیدا کریں۔ اس دوران ہمیں اس بات کا ادراک ہوا ہے کہ عمومی تاثر کے برعکس پاکستان میں کتابوں پہ کام ہو رہا ہے۔ نئی کتابیں لکھی جا رہی ہیں، ناشر کتب شائع کر رہے ہیں، غیر ملکی ذبان میں لکھے گئے ادب کے تراجم ہو رہے ہیں، کتابوں کے موضوعات میں تنوع ہے اور لوگ کتابیں پڑھ رہے ہیں۔ موجودہ دور میں کتابوں کی قیمت سینکڑوں روپے سے لے کر ہزاروں میں ہو سکتی ہے۔ ایسا کتاب کے معیار اور ضخامت کے مطابق ہو سکتا ہے۔ گرچہ کتابوں کے کاروبار میں  اتنا منافع نہیں جتنا کہ کپڑوں، جوتوں یا جیولری کے کاروبار میں ہو سکتا ہےلیکن یہ سمجھنا بھی درست نہیں کہ اس سمت میں کام بالکل ہی نہیں ہو رہا۔ صورتحال اتنی مایوس کن نہیں جتنی سمجھ لی جاتی ہے۔ اس بات کا ایک ثبوت کتابستان بھی ہے جہاں نہ صرف مشہور ترین کتب کو پیش کیا گیا ہے بلکہ نئی شائع ہونے والی کتب کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ اس ضمن میں کتابستان کے قارئین کا کردار بھی اہم ہے۔ ہمارے قارئین کی موجودگی ہماری ہمت بڑھانے کا سبب بنتی ہے۔ وہ تمام افراد جو اس بلاگ پہ باقاعدگی سے آتے ہیں یا کسی تلاش کے نتیجے میں یہاں تک پہنچتے ہیں ہمارے لئے اہم ہیں۔ ہم سب کی خوشیوں کے لئے دعاگو ہیں اور امید کرتے ہیں کہ کتابستان کا یہ سفر جاری و ساری رہے گا اور آپ ہمارے ہم سفر رہیں گے۔ Continue reading “150-شہاب نامہ از قدرت اللہ شہاب”

Archaeology, Book Review, Evolution, Non-Fiction, Pakistani, Religion, Research, Urdu

149-سندھ ارتقاء کا گھر از شاہد علی صوف ابڑو

اس سے پیشتر کہ آج کی کتاب پہ بات شروع کی جائے ہم بات کرنا چاہتے ہیں اس عالمی وبا کے متعلق جس سے آج دنیا کے بیشتر ممالک دوچار ہیں۔ یہ وہ نظر نہ آنے والا وائرس ہے جس کو کورونا وائرس کہا جا رہا ہے۔ اس وائرس نے اپنی ہلاکت خیزی کا آغاز چین سے کیا تھا اور اب یہ دنیا کے زیادہ تر ممالک میں پھیل چکا ہے۔ یہ وائرس نظام تنفس کو نقصان پہنچاتا ہے اور اس سے بچاؤ کی ویکسین ابھی تک دستیاب نہیں ہے۔ ایسے میں احتیاط ہی اس وائرس سے بچاؤ کا واحد ذریعہ ہے۔ یہ وائرس ایک انسان سے دوسرے انسان کو منتقل ہوجاتا ہے اور یوں یہ آگے سے آگے پھیلتا جاتا ہے۔ ماہرین اس وائرس سے بچاؤ کے لئے سماجی فاصلہ برقرار رکھنے کا کہہ رہے ہیں، نیز بار بار ہاتھ دھونا، چہرے پہ ماسک استعمال کرنا بھی حفاظتی تدابیر میں شامل ہیں۔ ہماری کتابستان کے قارئین سے اتنی ہی درخواست ہے کہ یہ عالمی وبا ہے، یہ کسی دوسرے شخص کا مسئلہ نہیں، یہ ہم سب کا مسئلہ ہے۔ ہمیں اجتماعی طور پہ احتیاط کو اپنانا ہوگا۔ ایسا نہیں ہے کہ یہ سوچا جائے کہ ہم تو بچ جائیں گے باقی سب اپنے آپ کو خود بچائیں۔ ہمیں سب کو مل کر ایک دوسرے کو بچانا ہے اور خود کو بھی۔ احتیاطی تدابیر اپنائیں اور اپنے پیاروں کو بھی انہیں اپنانے کے لئے قائل کریں۔

Sindh a Seat of Evolution

imagesنام کتاب: سندھ ارتقاء کا گھر

مصنف: شاہد علی صوف ابڑو

مترجم: جاموٹ حاجی خان چاچڑ سندھی

صنف: نان فکشن، تاریخی، آرکیالوجی، مذہب

صفحات: 142 قیمت:300 روپے

سن اشاعت:2018

ناشر: بک ٹائم، کراچی

سندھی بڑی خوبصورت زبان ہے اور اس زبان کے بولنے والے بہت پیارے اور محبت کرنے والے لوگ ہوتے ہیں۔ آج کتابستان میں ہم جس کتاب کی بات کریں گے وہ ابتدائی طور پہ سندھی زبان میں تحریر کی گئی تھی جس کے تحریر کرنے والے مصنف شاہد علی صوف ابڑو ہیں۔ اس کتاب کا اردو ترجمہ جاموٹ حاجی خان چاچڑ سندھی نے کیا ہے۔ سرزمین سندھ پاکستان کا ایک صوبہ ہے جو دریائے سندھ کے کنارے واقع ہے اسی مناسبت سے اس صوبے کا نام سندھ رکھا گیا ہے۔ یہ ایک میدانی علاقہ ہے جس کی سرحدیں ایک طرف ہندوستان سے ملتی ہیں اور ایک طرف بحیرہء عرب سے۔ ایک سمت بلوچستان کا صوبہ ہے اور ایک سائڈ پنجاب سے متصل ہے۔ کتاب کے عنوان سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس کا موضوع ارتقائی عمل سے متعلق ہے اور ساتھ ہی یہ عمل سندھ کے حوالے سے پیش کیا گیا ہے۔ کتاب کا سرورق بھی کم و بیش یہی معلومات دیتا ہے جس کے نصف حصے میں ارتقائی عمل کو واضح کرتی تصویر موجود ہے جو بندر سے انسان بننے تک کے مختلف مراحل پہ مبنی ہے اور سرورق کا دوسرا نصف حصہ موہنجوڈرو کے آثار قدیمہ کی تصویر ہے۔ Continue reading “149-سندھ ارتقاء کا گھر از شاہد علی صوف ابڑو”

Adventure, Book Review, Fiction, Pakistani, Pakistani literature, Romance, Urdu

148-قراقرم کا تاج محل از نمرا احمد

نام کتاب: قراقرم کا تاج محل
مصنفہ: نمرا احمد
صنف: ناول، رومانوی، پاپولر فکشن
صفحات: 208
قیمت:700 روپے
ناشر:علم و عرفان پبلشرز
Karakrm-ka-Taj-Mahal-By-Nimra-Ahmedقراقرم کا تاج محل نمرہ احمد کا لکھا ناول ہے جو ابتدائی طور پہ ڈائجسٹ کے لئے لکھا گیا تھا اور بعد ازاں کتابی شکل میں پیش کیا گیا۔ یہ نمرہ احمد کا کتابی شکل میں چھپنے والا پہلا ناول ہے جو 2013 میں شائع کیا گیا۔ نمرہ احمد جی کے رائٹنگ اسٹائل کے بارے میں ہم تفصیلی گفتگو یہاں کر چکے ہیں۔ دیباچے میں نمرہ جی کہتی ہیں؛
”نوآموز لکھاریوں کے لئے، خواہ وہ کتنا ہی اچھا یا برا کیوں نہ لکھیں، اپنی جگہ بنانا آسان اور آرام دہ کام کبھی نہیں ہوتا، نہ ہی یہ جگہ لکھاری فوراً بنا سکتا ہے۔ پہچان بنانے میں وقت لگتا ہے۔ نئے رائٹر کو تسلیم کرنا قارئین کے لئے آسان نہیں ہوتا۔ جب بھی کوئی نیا نیا لکھنا شروع کرتا ہے، تمام قارئین مل کر اس کو اس کام سے باز رکھنے کی پوری کوشش کرتے ہیں۔ انہوں نے جس بھی اچھے رائٹر کو پڑھ رکھا ہوتا ہے، وہ نئے رائٹر کا کام اس سے نقل شدہ، چوری شدہ، چھاپہ شدہ ثابت کرنے کے لئے ہر ممکن تگ و دو کرتے ہیں۔ دنیا کبھی بھی نئے رائٹر کی کہانی کو اوریجنل تسلیم نہیں کرتی۔ وہ ایک ایک سطر، ایک ایک مکالمے کا کنارہ کسی تجربہ کار لکھاری کی تحریر سے جوڑنے کی سعی میں لگی رہتی ہے۔“
Continue reading “148-قراقرم کا تاج محل از نمرا احمد”

Book Review, Fiction, Pakistani, Pakistani literature, Romance, Urdu

147-سانس ساکن تھی از نمرا احمد

نام کتاب: سانس ساکن تھی

مصنفہ: نمرا احمد

صنف: ناول، اردو، پاکستانی ادب

صفحات: 248

ناشر: علم و عرفان پبلی کیشنز

Saans sakin the by Nimra Ahmedسانس ساکن تھی، نمرا احمد صاحبہ کا تحریر کردہ ناول ہے۔ نمرا جی کے رائٹنگ اسٹائل پہ ہم پہلے ہی تفصیلی گفتگو کر چکے ہیں جسے یہاں ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔ سانس ساکن تھی، نمرا جی کے ابتدائی دور کا ناول ہے جس کے بارے میں وہ پیش لفظ میں لکھتی ہیں؛

”سانس ساکن تھی“ کہانی میری ان تحریروں میں سے ایک ہے جب میں نے لکھنا شروع کیا۔ اس تحریر کی اشاعت سے مجھے حوصلہ ملا اور مزید لکھنے کی خواہش پیدا ہوئی۔ یقیناً آپ کو اس کہانی میں بہت سی غلطیاں اور خامیاں نظر آئیں گی۔ مگر اس کے باوجود بہت سے لوگوں نے میری اس تحریر کو بہت پسند فرمایا اور اللہ تعالیٰ نے مجھے اردو پاپولر فکشن میں ایک مقام عطا کیا۔ میں خواتین ڈائجسٹ کی ایڈیٹر امت الصبور کی بےحد مشکور ہوں جنہوں نے میری تحریر کو اپنے ڈائجسٹ میں جگہ دے کر میری حوصلہ افزائی کی“۔ Continue reading “147-سانس ساکن تھی از نمرا احمد”

Book Review, Classic, Fiction, Pakistani, Pakistani literature, Urdu

146-خالی پنجرہ از انتظار حسین

نام کتاب: خالی پنجرہ
مصنف: انتظار حسین
صنف: افسانے، اردو ادب، پاکستانی ادب، کلاسک اردو ادب
صفحات: 141
قیمت: 500 روپے
ناشر: سنگ میل پبلی کیشنز
ISBN-10: 969-35-2143-96

ISBN-13: 978-969-35-2143-6

Khali Pinjra by Intezar Hussainانتظار حسین صفِ اول کے پاکستانی مصنف ہیں۔ آپ کے لکھے ہوئے افسانے، ناول، سفرنامے اور دیگر کام، اردو زبان میں ایک اہم مقام رکھتے ہیں۔ آپ کا کام اپنے ہم عصروں سے بہت مختلف اور انوکھا ہے جو نقادوں اور قارئین دونوں سے ہی شرفِ قبولیت حاصل کر چکا ہے۔ آپ کے کام کا انگریزی ذبان میں ترجمہ بھی ہو چکا ہے سن 2013 میں آپ کو بکر پرائز کے لئے نامزد بھی کیا گیا تھا۔ یہ آپ کے کام کی اہمیت کا بین الاقوامی سطح پہ اعتراف ہے۔ آپ کو حکومت پاکستان کی طرف سے تمغہ امتیاز سے بھی نوازا جا چکا ہے۔ ہمیں یہاں یہ بتاتے ہوئے انتہائی افسوس ہو رہا ہے کہ سن 2016 میں انتظار حسین صاحب ہمارا ساتھ چھوڑ کے دوسرے جہاں کی طرف چلے گئے۔ دعا ہے کہ اللہ پاک ان کی مغفرت فرمائے اور ان کے لئے اگلے جہانوں کی منزلیں آسان فرمائے۔ آمین۔ آپ کے جانے سے اردو دنیا ایک اہم لکھاری سے محروم ہو گئی ہے۔ آپ کے جداگانہ کام کی وجہ سے اردو ادب میں آپ کی الگ جگہ ہے، اس جگہ کو بھرنا اور آپ کے پائے کا کام پیش کرنا کسی بھی دوسرے مصنف کے لئے بہت مشکل ہے۔ آپ کی تحریروں کی خاص بات ان کا دیو مالائی انداز، پرانے زمانے کی فضا اور قدیم زمانے سے چلی آ رہی مذہبی اور دیگر روایات کو یکجا کرکے پیش کرنا ہے۔ قدیم روایات چاہے کسی آسمانی صحیفے میں بیان کئی گئی ہوں، یا توریت یا بائیبل میں ان کا ذکر ہو، قرآنی قصہ ہو یا پھر مہابھارت میں بیان کیا گیا ہو، انتظار حسین صاحب کی گرفت ان تمام روایات اور قصوں پہ مضبوط ہے۔ وہ اپنے افسانوں میں بنا ناصح بنے کے ان روایتوں کو اپنے اسلوب میں پیش کرتے ہیں جو ناصرف اپنے آپ میں منفرد   پیش کش ہے بلکہ دلچسپ بھی ہے۔ یہ روایات بےحد پرانی ہونے کے باعث موجودہ دور کی مصروف زندگی میں کہیں بہت پیچھے رہ گئی ہیں۔ تاہم انتظار حسین ان روایات کے گرد طاری زمانوں کی گرد جھاڑ کے اسے دورِ جدید کے قاری کے سامنے اس طرح پیش کرتے ہیں کہ وہ ان کے سحر میں کھو جاتا ہے۔ اگر ان پرانی روایتوں سے قاری کی آگاہی ہو تو ان افسانوں کا لطف دو چند ہو جاتا ہے۔ Continue reading “146-خالی پنجرہ از انتظار حسین”

Book Review, Islam, Non-Fiction, Pakistani, Religion, Urdu

145-کالی شا کتاب از غلام محی الدین

قلبی وارداتوں پہ مبنی منفرد رپورتاژ

نام کتاب: کالی شا کتاب
مصنف: غلام محی الدین
صنف: نان فکشن، سفرنامہ
صفحات: 136
قیمت: 80 روپے
ناشر: نیشنل بک فاؤنڈیشن
اشاعت اول: 2015

ISBN13-978-969-37-0850-9

Kali Sha Kitab by Ghulam Mohi-ud-Dinعمرہ ہو یا حج، یہ ایسی سعادتیں ہیں جو خوش نصیبوں کو مقدر ہوتی ہیں۔ خانہ کعبہ کی زیارت اور طواف کی خوشی جس مسلمان کو نصیب ہو جائے اس  کی دنیا بدل جاتی ہے۔آج کی زیر نظر کتاب کالی شا کتاب بھی ایسی ہی ایک سعادت کا احوال ہے۔ جس کا عنوان تو مصنف نے کالی شا کتاب رکھا ہے مگر ساتھ ہی وضاحت بھی لکھی ہے کہ یہ قلبی وارداتوں پہ مبنی ہے۔ کتاب کا عنوان  متاثر کن ہے جو  توجہ اپنی طرف کھینچتا ہے اور یہ سوچنے پہ مجبور کرتا ہے کہ آخر ”کالی شا“ کا مطلب کیا ہے۔ کتاب کا سرورق بھی کالے رنگ کا ہے جو عنوان کی مناسبت سے ہے۔ ممتاز مفتی کے کالے کوٹھے، اور بابا یحییٰ خان کی پیا رنگ کالا کے بعد یہ کتاب اسی قبیل کی محسوس ہوتی ہے۔  کتاب کے اختتام پہ جاوید چودھری صاحب کے تاثرات درج ہیں جن میں آپ نے مصنف کو ایک ”بابا“ قرار دیا ہے، وہی بابا جس کا ذکر اشفاق احمد صاحب مرحوم کی گفتگو میں جگہ جگہ ملتا تھا۔ جاوید چودھری صاحب کے اس کتاب کے بارے میں الفاظ ہیں؛
”کتاب پڑھتے ہوئے یوں لگا کہ مکے کے کبوتروں کی بچی ہوئی چگ اب کسی کی جیب میں نہیں بلکہ اس کتاب کے ہر صفحے پر دانا دانا بکھر چکی ہے۔ اب یہ قاری پہ منحصر ہے کہ وہ کس صفحے کی کس سطر سے دانا اٹھاتا ہے اور برکات سمیٹتا ہے“۔
Continue reading “145-کالی شا کتاب از غلام محی الدین”

Book Review, Classic, Fiction, Pakistani, Pakistani literature, Socio-reformal, Urdu

144- خوبصورت از بشریٰ رحمٰن

تاثرات و تبصرہ

نام کتاب: خوبصورت
مصنفہ بشریٰ رحمٰن
صنف: ناول، اردو ادب، کلاسک
بشریٰ رحمٰن صاحبہ کے لکھے ناول خوبصورت کا موضوع بد صورتی ہے۔ مختلف مصنفین کے کام کے مطالعے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ کئی مصنفین نے بطور خاص بد صورتی کو اپنا موضوع بنایا ہے۔ Khoobsorat by Bushra Rehmanانسان فطرتاً حسن پرست واقع ہوا ہے۔ ایسے میں اس حسن پرست دنیا میں جو لوگ بدصورت سمجھے جاتے ہیں، ان کی زندگی کس طرح متاثر ہوتی ہے وہ اپنی معمولات کس طرح انجام دیتے ہیں اور ان کے رویوں میں کس طرح توڑ پھوڑ ہوتی ہے، کئی مصنفین نے اس موضوع پر قلم آزمائی کی ہے کتابستان کے گذشتہ اوراق میں ہم ایسی کتب کا ذکر کر چکے ہیں جن کے بارے میں یہاں اور یہاں پڑھا جا سکتا ہے۔ ان کتب کے مطالعے سے علم ہوتا ہے کہ بدصورت لوگ عموماً دل کے اچھے ہوتے ہیں، نیزان کے اردگرد کے لوگ اور رشتے ان کے ساتھ کیسا سلوک روا رکھتے ہیں، اور ان کے حساس اور خوبصورت دل کس طرح اس خوبصورت دنیا کی بدصورتی کا سامنا کرتے ہیں۔ ان ناولوں کے پلاٹ گویا روایتی ہی ہوتے ہیں لیکن جو بات انہیں خاص بناتی ہے وہ ان کے غیر روایتی اہم کردار ہیں جو خوبصورتی کے کسی بھی معیار پہ پورے نہیں اترتے۔ خوبصورت بھی ایک ایسا ہی ناول ہے جس کا مرکزی مرد کردار بدصورت ہے اور اس کی بیوی اسی بات سے خائف ہے۔
Continue reading “144- خوبصورت از بشریٰ رحمٰن”

Book Review, Non-Fiction, Pakistani, Urdu

143-زلزلے ، زخم اور زندگی از ڈاکٹر آصف محمود جاہ

پاکستان میں 1935 سے 2015 تک آنے والے بڑے زلزلے اور عزم و ایثار کی ولولہ خیز سچی داستانیں

نام کتاب: زلزلے، زخم اور زندگی
مصنف: ڈاکٹر آصف محمود جاہ (ستارۂ امتیاز)

صنف: نان فکشن، مضامین

قیمت:230 روپے

صفحات: 357

سن اشاعت: جنوری 2018
ناشر: نیشنل بک فاؤنڈیشن، اسلام آباد

ISBN: 978-969-37-1034-2

Zalazaley, Zakham aur Zindagi by Asif Mahmood Jahپاکستان کی تاریخ میں 8 اکتوبر 2005 وہ دن ہے جب زمین تھر تھرا اٹھی تھی۔ زلزلے کے جھٹکوں نے کشمیر اور بالاکوٹ کے علاقوں میں تباہی پھیر دی تھی۔یہ تباہی اتنی شدت کی تھی اور نقصان اتنا زیادہ تھا کہ ان کو رپورٹ کرتے ہوئے ٹی وی کے نیوز کاسٹرز کی آوازیں کانپ رہی تھیں۔ گو کہ زلزلے کا مرکز کشمیر اور بالاکوٹ کے علاقے تھے لیکن اس کی شدت سے تمام پاکستانیوں کے دل لزر اٹھے تھے اور وہ فوری مدد کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔ پاکستانی چاہے بیرون ملک مقیم تھے یا  اندرون ملک، ہر جگہ سے مدد کے لئے آگے آئے تھے۔ زلزلہ زدگان کے لئے خوراک، ضروریات کا سامان، دوائیں اور جس بھی طرح سے مدد ممکن تھی، اس سے کوئی پاکستانی پیچھے نہیں ہٹا تھا۔ یہ موقع گو تکلیف دہ تھا لیکن پوری پاکستانی قوم نے اکھٹے ہو کے اس مشکل کا مقابلہ کیا تھا۔ ٹی وی پہ کمنٹیٹرز یہ کہتے پائے گئے کہ قوم میں 1965 کا جذبہ نظر آ رہا ہے۔

(ایک سائیڈ نوٹ کے طور پہ ہم یہاں یہ کہنا چاہتے ہیں کہ پاکستان کی حالیہ تاریخ میں ایسے کچھ موقع آئے ہیں جب پاکستانی قوم کسی قدرتی یا غیر قدرتی وجہ کے سبب شدید صدمے، دکھ یا تباہی کے مرحلےسے گزری ہے۔ تاہم ان مواقع نے ہمارا بطور قوم مورال پست کرنے کی بجائے ہمارے اندر نئی روح پھونکنے کا کام کیا ہے، پوری قوم کو ایک نقطے پہ اکھٹا کیا ہے، ان تکلیفوں اور مشکلوں کو قوم کے ہر شخص نے محسوس کیا ہے۔ بڑی بڑی تقریریں، رہنما، اور دانشوروں کی بحثیں قوم کو یکجائی کے اس مقام پہ نہیں لے جا سکیں جہاں مشترکہ درد اور دکھ لے گئے۔ ان واقعات نے ہماری کمر توڑنے کی بجائے اس بھٹی کا کام کیا ہے جس نے پاکستانی قوم کو کندن کی طرح پکا دیا ہے۔ پاکستانی قوم ان تمام تجربوں سے گزرنے کے بعد سمجھداری، میچیوریٹی اور یکجایت کے جس مقام پہ ہے دنیا کی زیادہ تر اقوام اس سے کہیں پیچھے ہیں۔) Continue reading “143-زلزلے ، زخم اور زندگی از ڈاکٹر آصف محمود جاہ”

Book Review, Classic, English, English literature, Fiction, Horror, international literature, Romance, Supernatural, Translation

142- Dracula by Bram Stoker

ڈراکیولا از مظہر الحق علوی (ترجمہ)۔

نام کتاب: ڈریکولا

مصنف: بریم اسٹوکر

نام ترجمہ: ڈراکیولا

مترجم: مظہر الحق علوی

صنف: ناول، خوفناک ناول، انگریزی ادب، کلاسک ادب

ناشر: علم و عرفان پبلشرز

Dracula by Bram Stokerخوفناک کہانیاں، خون آشام روحیں، اور دیگر ڈراؤنے قصے اور کہانیاں ہم سب نے اپنے بچپن میں پڑھی ہوں گی۔ انہی مختلف خوفناک کہانیوں اور کرداروں کے درمیان ڈریکولا نامی کردار بھی شامل ہے جس کی کئی کہانیاں ہم بچپن میں ہی پڑھ لیتے ہیں۔ ڈریکولا ایک ایسی روح تھی جو زندہ انسانوں کا خون پیتی تھی ۔ جس انسان کا وہ خون پیتی وہ خون کی کمی کی وجہ سے موت کا شکار ہو جاتا  اور مرنے کے بعد وہ بھی انسانوں کا خون پینے لگ جاتا۔ ڈریکولا ایک مشہور کردار ہے اور کئی مصنفین نے اس کردار کے گرد گھومتی کہانیاں لکھی ہیں یہ کہانیاں ہر ذبان کے ادب میں موجود ہیں۔ تاہم یہ کردار اصل میں آئرش مصنف بریم اسٹوکر کی تخلیق ہے۔ ان کا لکھا ناول جس میں اس خون آشام روح کے کردار کو پیش کیا گیا ہے، کا عنوان بھی ڈریکولا ہی ہے۔ یہ ناول 1897 میں لکھا گیا تھا اور بریم اسٹوکر کی وجہ شہرت بھی یہی ناول ہے۔ ڈریکولا کی عوامی مقبولیت کے باعث کئی مصنفین نے اس کردار کو لے کر اپنی اپنی تخلیقات پیش کی ہیں جیسا کہ ہم نے ذکر کیا کہ بچے بچپن میں ہی ڈریکولا کی کئی کہانیاں پڑھ لیتے ہیں۔ تاہم ہر مصنف کی تخلیقی صلاحیت دوسرے سے مختلف ہوتی ہے، یہی وجہ ہے کہ جب ہم نے بریم اسٹوکر کے لکھے ڈریکولا ناول کا اردو ترجمہ پڑھا تو ہمیں اندازہ ہوا کہ ڈریکولا کے بارے میں کئی کہانیاں پڑھنے کے باوجود جو مزا اور لطف اس کے اصلی تخلیق کار کے تخیل کو پڑھنے میں ہے وہ کسی اور میں نہیں۔ دوسرے الفاظ میں اصل، اصل ہی ہوتا ہے۔ ہم اس ضمن میں مظہر الحق علوی صاحب کے شکر گزار ہیں کہ ان کے توسط سے اصل ناول کا ترجمہ اردو ذبان کے قارئین تک پہنچا۔ Continue reading “142- Dracula by Bram Stoker”

Book Review, Islam, Non-Fiction, Religion, Research, Translation

141- قرآن آخری معجزہ از احمد دیدات

quran-aakhari-mojza-by-ahmed-deedat”اس پر انیس تعینات ہیں۔“

اوپر بیان کی گئی سطر، قرآن مجید فرقان حمید کے انتیسویں (29) پارے کی سورۃ المدثر کی تیسویں (30) آیت کا ترجمہ ہے۔ یہی لائن، زیر گفتگو کتاب، قرآن آخری معجزہ، کے پانچویں باب کا عنوان بھی ہے۔ یہی لائن اس کتاب کا مرکزی موضوع ہے یعنی اس بات کی وضاحت کی جائے کہ قرآن پاک کی آیت میں بیان کئے گئے لفظ انیس سے کیا مراد ہے، ”یہ انیس کیا ہے؟ Continue reading “141- قرآن آخری معجزہ از احمد دیدات”

Book Review, Fiction, Islam, Pakistani, Pakistani literature, Romance, Suspence, Thriller, Urdu

140- نمل از نمرا احمد

تبصرہ

موجودہ دور میں خواتین مصنفات کی ایک بڑی تعداد سامنے آئی ہے۔ ان میں کچھ اپنے قارئین میں دیگر کی نسبت زیادہ مقبول ہیں اور ان کے لکھے ناول اور افسانے عمومی مقبولیت حاصل کرتے ہیں۔ ایسی ہی ایک مصنفہ نمرا احمد ہیں، جو خواتین کے لئے چھپنے والے ماہانہ رسالوں کی جانی مانی لکھاری ہیں۔ آپ کے کریڈٹ پہ کئی طویل ناول موجود ہیں جن میں حالم، نمل، مصحف، سانس ساکن تھی، جنت کے پتے وغیرہ شامل ہیں۔ بک اسٹورز پہ آپ کے ناول بالکل سامنے سجائے جاتے ہیں اور ہاتھوں ہاتھ فروخت ہو جاتے ہیں۔

image.jpegنمرہ جی کی مقبولیت یقیناً ان کے منفرد کام کی وجہ سے ہے۔ آپ کی ہیروئن روتی ہوئی ایسی مظلوم حسینہ نہیں ہوتی جو یا تو سوتیلے خاندان کے ظلم و ستم کا شکار ہوتی ہے یا پھر ظالم ساس یا شوہر کے ہتھے چڑھی ہوتی ہے۔ آپ کے ناولوں میں پایا جانے والا ماحول روایتی ماحول سے مختلف ہے جہاں ہیروئن پڑھی لکھی ہونے کے ساتھ ساتھ باہمت اور سمجھدار ہوتی ہے اور خود سے فیصلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ یہ خوش آئند بات ہے۔ روایتی ناولوں کی بھیڑ چال میں ایسے ناول تازہ ہوا کے جھونکے کی طرح محسوس ہوتے ہیں جو قاری کو نئی دنیا اور نئے کرداروں سے روشناس کراتے ہیں۔ Continue reading “140- نمل از نمرا احمد”

Fiction, History, Pakistani, Urdu

139- رضیہ سلطانہ از خان آصف

تاثراتی مضمون

ہندوستان اور پاکستان دونوں کے تخیلیق کاروں نے اپنی تخلیقات کا موضوع رضیہ سلطان کی زندگی کو بنایا ہے۔ ان کی زندگی کی داستان قلم بند بھی کی گئی ہے اور کیمرے کی نظر سے پیش بھی کی گئی ہے۔ پاکستان میں خان آصف نے آپ کی زندگی کو ایک ناول کی شکل میں پیش کیا ہے۔ یہ ناول1993 میں ہفتہ وار میگزین اخبار جہاں میں قسط وار شائع ہوتا رہا ہے جسے بعد ازاں آپ کی صاحبزادی اسماء خان آصف نے کتابی شکل میں شائع کروایا ہے۔ کتابستان کے گزشتہ صفحوں میں ہم نے خاں آصف کی دیگر کتب کا بھی تزکرہ کیا ہے جن کی تفصیلات اس مضمون کے آخر میں مل سکتی ہیں۔

Razia Sultan by Khan Asifسلطانہ رضیہ، رضیہ سلطانہ یا پھر رضیہ سلطان اسلامی اور خصوصاً برِصغیر پاک و ہند کی تاریخ کا ایک اہم نام ہے۔ آپ ترک نسل سےتھیں اور بادشاہ شمس الدین التمش کی صاحبزادی تھیں۔ آپ وہ واحد خاتون ہیں جنہیں سلطنتِ دہلی کی حکمرانی کا اعزاز حاصل ہے۔ آپ تاریخ کی ان چند بہادر اور باہمت خواتین میں شامل ہیں جنہوں نے ایک بڑی سلطنت پہ حکومت کی اور اسی وجہ سے “سلطان“ کہلائیں۔ رضیہ سلطان کو نہ صرف تخت دہلی کی واحد اور پہلی خاتون حکمران ہونے کا اعزاز حاصل ہے بلکہ آپ کی زندگی میں کئی فلمسسازوں، ڈرامہ نگاروں اور مصنفین کی دلچسپی رہی ہے جنہوں نے حقیقت اور فسانے کو ملا کے کئی شاہکار تخلیق کئے ہیں۔

Continue reading “139- رضیہ سلطانہ از خان آصف”

Islam, Non-Fiction, Religion, Research, Urdu

138- حجرت حبشہ از عبدالستار خان

حجرت حبشہ از عبدالستار خان
(اسلامی دنیا کے پہلے اہم واقعے کی مستند تاریخ)

واقعہ ہجرت حبشہ اسلامی تاریخ کا ایک اہم واقعہ ہے اور ہر مسلمان اس سے یقیناً واقف ہے۔ اسلامیات کے نصاب میں اس واقعے کے بارے میں ایک مضمون موجود ہے جس کے باعث بچپن سے ہی اس واقعے کی آگاہی حاصل ہو جاتی ہے۔ اس مضمون میں نجاشی بادشاہ کے مسلمانوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے اور حضرت جعفر طیار کی دربار نجاشی میں تقریر کا احوال درج ہے۔ یہاں ہم اس بات کا ذکر کرنا چاہتے ہیں کہ جہاں ہجرت حبشہ کی ابتدائی معلومات بچپن میں ہی حاصل ہو جاتی ہیں وہیں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان میں مزید اضافہ نہیں ہوتا اور واقعے کی تفصیلات غیر معلوم ہی رہ جاتی ہیں۔ ہمیں اس حقیقت کا ادراک نہ ہوتا اگر ہمارے ہاتھوں میں جناب عبدالستار صاحب کی لکھی کتاب حجرت حبشہ نہ آئی ہوتی اور ہمیں اس کے مطالعے کا موقع نہ ملا ہوتا۔Hijrat-e-Habsha by Abdul Sattar Khan
مصنف نے کتاب کا پہلا جملہ یوں لکھا ہے،
“ہجرت حبشہ اسلامی تاریخ کا وہ باب ہے جس کی تفصیلات تاریخ دانوں پہ آج تک قرض ہے۔ تاریخ و سیر کی کتابوں میں اس مبارک ہجرت کی اجمالی کیفیت ضرور ہے مگر اس کی تفصیلات ناپید ہیں۔ یہی حال عربی ذخائر کا ہے، اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اردو ذخائر کا کیا حال ہوگا۔“
مصنف اپنے دعوے میں درست ہیں اور حقیقتا اردو میں ہجرت حبشہ کے موضوع پہ کتب موجود نہیں۔ اس موضوع پہ یہ پہلی کتاب ہے جو ہمارے سامنے آئی ہے۔ عبدالستار صاحب کی لکھی یہ کتاب ایک تاریخی اور تحقیقی کتاب ہے جس میں مصنف نے مختلف عربی اور افریقی حوالوں کی مدد سے اپنے خیالات پیش کئے ہیں۔ انہوں نے جہاں جہاں اپنی رائے دی ہے وہیں اس کے بارے میں دلائل دے کر ساتھ ہی شافی بحث بھی کی ہے جو ایک تشنہ ذہن کی پیاس بجھانے میں کامیاب رہی ہے۔ مصنف نے بڑے جامع انداز میں ہجرت حبشہ کی تاریخ پیش کی ہے۔ اس کتاب میں مصنف نے قاری کے سامنے کئی ایسے سوالات پیش کئے ہیں جن کے متعلق بحث اور معلومات اردو ذبان میں موجود نہیں۔ مصنف کے جوابات میں ان کی عقیدت بھی چھلکتی ہے اور ایک دیانت دار محقق کا رنگ بھی نظر آتا ہے جس کی تحریر میں جابجا مذہبی، تاریخی اور جغرافیائی حوالے ملتے ہیں۔
مصنف کو یہ کتاب لکھنے کی تحریک کیونکر ہوئی اس بارے میں وہ رقم طراز ہیں،
“جدہ میں ہمارے قدیم محلے کا نام “البغدادیہ“ ہے۔ اس کے ساتھ عماریہ محلہ ہے جہاں اماں حوا کا قبرستان ہے۔ دونوں محلوں کے درمیان ایک سڑک ہے جو بغدادیہ کو عماریہ سے الگ کرتی ہے۔ سڑک کے اس پار جہاں عماریہ ہے وہاں یہ قبرستان واقع ہے اور سڑک کی دوسری طرف جہاں بغدادیہ ہے وہاں شاورما کی مشہور دکانیں ہیں۔ شاورما کی دکانوں کے پیچھے جو بلاک ہے اسے “حارۃ الجمامہ“ کہا جاتا ہے۔ یعنی حجوم خاندان کا محلہ۔ جس سے متصل جو محلہ ہے اسے “حارۃ الحبوش“ کہتے ہیں۔ یعنی حبشیوں کا محلہ ہے۔ بچپن میں اس محلے میں کئی لڑکوں سے دوستیاں تھیں۔ ان لڑکوں میں سے بعض کے ساتھ بعد میں گہری دوستی ہوگئی اور پھر ان کے توسط سے حبشیوں کی طرزِ زندگی اور عادات و اطوار کا علم ہوا۔ یہ لڑکے اکثر و بیشتر فخریہ انداز میں کہتے تھے کہ ہمارے آباء و اجداد نے صحابہ کرام رض کو پناہ دی تھی۔

Continue reading “138- حجرت حبشہ از عبدالستار خان”

Fiction, Pakistani, Pakistani literature, Romance, Socio-reformal, Urdu

137- ماہی ماہی کوک دی میں از ہما کوکب بخاری

تاثرات

Mahi mahi by Huma Kokabماہی ماہی کوک دی میں، ایک رومانوی ناول ہے۔ اس کا مرکزی خیال محبت کے گرد گھومتا ہے، محبت کی اس داستان کی سرزمین پرانی روایات، عزت دار خاندان، جھوٹی انا اور نفرتوں کے بیجوں سے بھری پڑی ہے۔ یہ محترمہ ہما کوکب بخاری صاحبہ کا پہلا ناول ہے جو تین سال تک خواتین ڈائجسٹ میں قسط وار شائع ہونے کے بعد کتابی شکل میں بھی پیش کیا گیا ہے۔ ناول بہت تفصیلی ہے، کہانی اور کرداروں کو صراحت کے ساتھ پیش کیا گیا ہےجس کے باعث اس کی ضخامت کافی زیادہ ہے اور یہ دوحصوں میں شائع کیا گیا ہے۔


ناول کے پیش لفظ میں مصنفہ کے الفاظ ہیں،
“اس ناول کو لکھتے ہوئے میں نے کوشش کی تھی کہ اس میں ممکنہ حد تک زندگی کے حقیقی رنگ بھروں۔ اس کے کردار وہی ہوں جنہیں آپ اپنے اردگرد چلتے پھرتے دیکھ سکتے ہوں، وہی رویے ہوں جنہیں آپ محسوس کر سکتے ہوں اور وہی کہانی ہو جو آپ کے گرد کہیں موجود دہو لیکن زندگی کی ہماہمی میں شاید آپ نے اسے نظر انداز کر دیا ہو۔ اس ناول میں یہ سبھی کچھ ہے لیکن حقیقت کے ساتھ ساتھ زیب داستاں کے لئے کچھ افسانہ بھی ہے۔ “


ناول کے اہم کردار یہ ہیں:
زرینہ: گاؤں کے مولوی صاحب کی باپردہ بیٹی
رضیہ: زرینہ کی بہن
پیرصاحب جلال الدین: گاؤں کے باعزت سید گھرانے کے سربراہ اور قدیم روایتوں کے امین
رجب علی شاہ: پیر صاحب کا بڑا بیٹا، گدی نشین، برطانیہ سے واپس آیا ہو ارئیسں زادہ
حیدر علی شاہ: پیر صاحب کا چھوٹا بیٹا، برطانیہ سے تعلیم یافتہ، مہذب اور باکردار۔ حیدر علی اورزرینہ ایک دوسرے کی محبت میں گرفتار ہیں
مہرالنسا: پیر صاحب کی بڑی بیٹی
زیب النسا: پیر صاحب کی بیٹی
ماہ بانو: رضیہ کی بیٹی، آرٹس کالج کی طالبہ ایک باعتماد شہری لڑکی
اُما: ماہ بانو کی کالج کی دوست، ایک ہندو لڑکی
عبداللہ: حیدر علی شاہ کا بیٹا
ریشماں: زرینہ اور رجب علی شاہ کی بیٹی اور عبداللہ کی منگیتر
اباجی: ماہ بانو کے والد اور پیشے کے اعتبار سے ایک کمہار
Continue reading “137- ماہی ماہی کوک دی میں از ہما کوکب بخاری”

Non-Fiction, Pakistani, Urdu

136- ہمہ یاراں دوزخ از صدیق سالک

تاثرات

Hama Yaaran Dozakh by Siddique Salikاردو زبان کے قارئین کے لئے صدیق سالک کا نام انجان نہیں۔ آپ کا تعلق پاکستان فوج سے تھا جہاں آپ جرنیل کے عہدے تک پہنچے۔ آپ کئی کتب کے مصنف ہیں آپ کی تحریروں میں مزاح نگاری اور تنقید کا عنصر غالب ہے۔ آپ کی یادداشتوں میں سقوط ڈھاکہ کے واقعے کی تفاصیل پہ مبنی کتب بھی شامل ہیں جن میں آپ نے ان حالات و واقعات کا بیان کیا ہے جو اس سانحے کا سبب بنے۔
سانحہ مشرقی پاکستان، ہماری ملکی تاریخ کا ایسا سانحہ ہے جس کے گھاؤ آج بھی پاکستانی اپنے دل میں محسوس کرتے ہیں۔ اس واقعے کے اسباب، سیاسی حالات، زمینی حقائق اوار ہمسایہ ملک کا کردار جیسے پہلوؤں پہ کئی مصنفین نے قلم اٹھایا ہے اور اپنے اپنے نقطہ نظراور تجزیے پیش کئے ہیں۔ کتابستان میں جو کتاب آج زیر نظر ہے وہ بھی اس حادثے کے متعلق ہے۔ تاہم جو بات اس کتاب کو منفرد بناتی ہے وہ سقوط ڈھاکہ کے بعد دوران اسیری پیش آنے والے واقعات کا تذکرہ ہے ۔ مصنف کا تعلق کیونکہ پاکستانی فوج سے تھا اور سقوط ڈھاکہ کے بعد وہ بھی اسیران جنگ میں شامل تھے اس لئے یہ کتاب اسی اسیری کے دوراں پیش آنے والے حالات و واقعات پہ مشتمل ہے جو دسمبر 1971 سے لے کر اکتوبر 1973 میں آپ کی رہائی تک کےعرصے کے دوران پیش آئے۔ یہ یادداشتیں 1974 میں “ہمہ یاراں دوزخ“ کے نام سے شائع ہوئیں۔ کتاب کا عنوان بہت معنی خیز ہے اور نہ صرف مصنف بلکہ پوری قوم کے دلی احساسات کی ترجمانی کرتا ہے جس کے مطابق ہندوستانی اسیری کو دوذخ سے تشبیہہ دی گئی ہے۔
Continue reading “136- ہمہ یاراں دوزخ از صدیق سالک”

Classic, Fiction, French Literature, international literature, Translation

135- The hunchback of Notre-Dame by Victor Hugo

The hunchback of Notre-Dame by Victor Hugo

کبڑا عاشق از وکٹر ہیوگو

(تعارف و تبصرہ)


The hunch back of Notre- Dame by Victor Hugoمصنف: وکٹر ہیوگو
ترجمہ: کبڑا عاشق
مترجم: ظہور احمد خان
صنف: ناول، فرانسیسی ادب
صفحات: 132
قیمت: 200 روپے
سن اشاعت: 1831


اردو ترجمہ: 2015
ناشر: فکشن ہاؤس

ISBN:978-969-562-122-6

وکٹر ہیوگو اپنے وقت کے مشہور فرانسیسی ادیب تھے۔ آپ نے نثر اور نظم دونوں اصناف میں کام کیا ہے اور کئی ڈرامے بھی تحریر کئے ہیں۔ کتابستان میں آج آپ کے مشہور ترین ناول پہ بات ہو رہی ہے۔  دی ہنچ بیک آف نوٹرے ڈیم اپنے وقت کے مشہور ترین ناولوں میں سے ہے۔ اس ناول کو لکھے پونے دو صدیوں سے زیادہ وقت بیت چکا ہے۔ ہمارا اس ناول سے تعارف مستنصر حسین تارڑ کی کتاب پیار کا پہلا شہر کے ذریعے ہوا تھا۔ مستنصر صاحب کے الفاظ جوں کے توں آپ کی خدمت میں پیش ہیں:
“کیا سوچ رہی ہو پاسکل؟“
“تم نے وکٹر ہیوگو کا نام تو سنا ہوگا۔“
“موصوف کو شاید لکھنے لکھانے کا شوق تھا۔“ سنان نے خوش دلی سے کہا۔
“فرانس کا سب سے برا ادیب ہیوگو۔ اس نے ایک ناول لکھا تھا ہنچ بیک آف نوٹرے ڈیم۔“
“میں نے بھی پڑھنے کی کوشش کی تھی لیکن اس میں قدیم پیرس کے گلی کوچوں کی اتنی تفصیل تھی کہ بیچ میں ہی چھوڑ دیا۔“
“میرے پاس یہ ناول ہے۔ میں کل لا دوں گی پھر پڑھ لینا۔“
“پیشگی شکریہ۔۔۔ لیکن کیا اب میں تمہارے خیالات کے لئے ایک اور پینی کا نذرانہ پیش کروں؟-“
“ہنچ بیک آف نوٹرے ڈیم کا مرکزی کردار ایک بدصورت کبڑا تھا جو اسی کلیسا میں وہ سامنے والا گھٹریال بجانے پہ مامور تھا۔‘
“ہاں اور پھر اسے بکری والی خانہ بدوش لڑکی سے محبت ہو گئی۔“ سنان نے گرہ دی۔
“میں اسی کے بارے میں سوچ رہی تھی کہ اسے ایک بےحد خوبصورت خانہ بدوش لڑکی سے محبت تو ہو گئی لیکن اس کبڑے کو کو کبھی اپنی کریہہ النظری کا خیال نہ آیا۔ پاسکل کی نظریں کلیسا کے سنگلاخ در و دیوار پر لگی تھیں۔ وہ انہی بلند میناروں پر چڑھ کر کسی کونے کھدرے میں اگے ہوئے جنگلی پھول اپنی محبوبہ کے لئے توڑ لایا کرتا تھا۔“
“وہ صرف ایک ناول کا کردار تھا۔ فرضی کردار۔“ سنان نے موضوع بدلنے کی کوشش کی۔
“آخر بدصورت لوگوں کو بھی تو محبت ایسے جذبے کی چاہت ہوتی ہے سنان! ان کا دل تو یہ بات نہیں مانتا کہ وہ بدصورت ہونے کی بنا پہ محبت سے محروم کر دیے جائیں۔“
“اس وقت تو میرے سامنے نہائیت خوبصورت لوگ ہیں اور میں نوٹرے ڈیم کے بدصورت کبڑے کے بارے میں باتیں کرنے کے موڈ میں نہیں ہوں۔“
Continue reading “135- The hunchback of Notre-Dame by Victor Hugo”

Islam, Non-Fiction, Pakistani, Religion, Urdu

134- والی ساحل از حاجیانی صبا ٹوانہ ماروی

والی ساحل از حاجیانی صبا ٹوانہ ماروی
(سوانح حیات سیدنا حضرت عبداللہ شاہ غازی الاشتر رحمتہ اللہ علیہ)

(تعارف و تبصرہ)

Wali-e-Sahil by Saba Tawanaمصنفہ: حاجیانی صبا ٹوانہ ماروی
صنف: سوانح حیات
صفحات: 96
قیمت: 200 روپے
ناشر:سٹی بک پوائنٹ کراچی
سن اشاعت: 2017

والی ساحل کراچی کے مشہور مزار کے صاحب جناب عبداللہ شاہ غازی کی سوانح حیات ہے۔ یہ ایک مختصر کتاب ہے جو ہارڈ کور کے ساتھ شائع کی گئی ہے۔ کتاب کی مصنفہ حاجیانی صبا ٹوانہ صاحبہ کی یہ پہلی کتاب ہے جو ہمارے سامنے آئی ہے تاہم کتاب کے اختتام پہ دئے گئے تعارف کے مطابق یہ آپ کی پہلی تصنیف نہیں۔ آپ کا تعارف کچھ یوں پیش کیا گیا ہے۔

“حاجیانی صبا ٹوانہ ماروی یہ وہ نام ہے جس نے بیس سال کی عمر میں اپنی شاعری کی کتاب لکھ کر پاکستان میں کم عمر شاعرہ کا اعزاز حاصل کیا اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی، سابق وزیر اعظم پاکستان سید یوسف گیلانی سے پرائم منسٹر ٹیلنٹڈ ایوارڈ حاصل کیا۔ اور اب انہوں نے پاکستان میں اردو میں مناقب لکھنے والی پہلی خاتون کا اعزاز بھی اپنے نام کر لیا۔ اب تک حاجیانی صبا ٹوانہ ماروی کی بیشتر کتابیں شائع ہو کر عوام میں پذیرائی حاصل کر چکی ہیں۔“

Continue reading “134- والی ساحل از حاجیانی صبا ٹوانہ ماروی”

Classic, Fiction, Pakistani, Pakistani literature, Urdu

133- آخری آدمی از انتظار حسین

آخری آدمی از انتظار حسین

Aakhri aadmi-Intezar Hussainمصنف:انتظار حسین

صنف: افسانے، اردو ادب، پاکستانی ادب

صفحات: 160

قیمت: 200 روپے

ناشر: سنگ میل پبلی کیشنز

ISBN: 969-35-2049-1

انتظار حسین موجودہ دور کے مشہور مصنف ہیں۔ آپ بیک وقت افسانہ نگار، ناول نگار اور کالم نویس ہیں۔ بستی، آگے سمندر ہے، ہندوستان سے آخری خط، شہرِ افسوس آپ کی کچھ تصانیف کے عنوانات ہیں۔ آپ کے ناولوں کا انگریزی زبان میں ترجمہ بھی کیا جا چکا ہے۔ سن 2013 میں آپ کو بکر پرائز کے لئے نامزد بھی کیا گیا تھا۔ یہ آپ کے کام کی اہمیت کا بین الاقوامی سطح پہ اعتراف ہے۔ آپ کو حکومت پاکستان کی طرف سے تمغہ امتیاز سے بھی نوازا جا چکا ہے۔ اردو نثر میں انتظار حسین کا کام ان کے ہم عصروں سے مختلف اور جداگانہ ہے۔ آپ کی تحریروں کا ماحول کسی بچپن کی کہانی یا پرانے قصے جیسا ہے۔ آپ کی زبان پرانے عہد نامے اور داستانوں کی سلیس و سادہ زبان ہے جسے آپ نے اپنے مخصوص اسلوب میں پیش کیا ہے۔ آج کا ہمارا موضوع آپ کے افسانوں کی کتاب ہے جس کا عنوان ہے “آخری آدمی”۔ Continue reading “133- آخری آدمی از انتظار حسین”